باجوڑ خودکش حملہ: دہشت گردی کی روک تھام میں ناکامی کیوں؟
👁️ 131 بار دیکھا گیا
باجوڑ خودکش حملہ: دہشت گردی کی روک تھام میں ناکامی کیوں؟
پشاور (ڈیلی اردو/ڈی پی اے) حالیہ دہشت گردی کے واقعات میں پہلے تسلسل کے ساتھ پولیس کو نشانہ بنایا گیا اور اب ایک سیاسی پارٹی ان حملوں کا ہدف بنی۔ یہ حملہ ایک ایسے وقت پر کیا گیا ہے، جب ملک میں نئے انتخابات کی تیاریاں کی جارہی ہیں۔
سال رواں کے دوران پاکستان کے افغان سرحد پر واقع اضلاع سمیت صوبہ خیبر پختونخوا کے دیگر شہروں دہشت گردی کے متعدد واقعات پیش آ چکے ہیں، جن میں ابتدائی طور پر پولیس اہلکاروں اور ان کے تھانوں کو نشانہ بنایا گیا۔
اتوار تیس جولائی کو باجوڑ میں جے یو آئی (ایف) کے اجتماع پر ہونے والا خود کش حملہ کے پی میں کیے جانے والے دہشت گردانہ حملوں کا ہی ایک تسلسل تھا۔ رواں برس جنوری میں صوبائی دارالحکومت پشاور کے ایک انتہائی حساس علاقے میں واقع پولیس لائن کو نشانہ بنایا گیا تھا، جس میں ایک سو سے زیادہ پولیس اہلکار اور شہری مارے گئے تھے۔
سکیورٹی اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان
جمیعت علما اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے وزیر اعظم سے واقعے کی فوری تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے جبکہ ملک کی دیگر سیاسی جماعتوں نے بھی اس حملے کی مذمت کی۔ عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے صوبائی صدر ایمل ولی خان کا کہنا تھا،”دہشت گردی کی روک تھام کا واحد حل نیشنل ایکشن پلان پرمن و عن عمل درآمد ہے۔” انکا مزید کہنا تھا کہ صوبے میں دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات تشویشناک ہیں۔ ان کے بقول دہشت گردی میں اضافے کے ذمہ دار وہی لوگ ہیں، جنہوں نے دہشت گردوں کی سہولت کاری کی۔ ایمل ولی خان کہنا تھا کہ دہشتگردوں کو ‘فائٹرز’ کہنے والے کس منہ سے اس طرح کے واقعات کی مذمت کرتے ہیں۔”
صحت کی سہولیات کا فقدان
باجوڑ دھماکے میں شدید زخمی افراد کے لیے مقامی ہسپتالوں میں سہولیات اور گنجائش کی کمی کی وجہ سے انہیں پشاور منتقل کیا گیا لیکن طویل اور دشوار راستوں کی وجہ سے انہیں مکمل طبی امداد پہنچانے میں کئی گھنٹے لگ گئے۔ اس صورتحال کی وجہ سے زیادہ تر زخمی راستے یا پھر ہسپتال پہنچ کر دم توڑ گئے۔ تمام تر حکومتی دعووں اور وعدوں کے باوجود قبائلی علاقوں کے عوام کو صحت، تعلیم اور پرامن ماحول فراہم نہیں کیا جا سکا۔
قبائلی اضلاع میں امن کے قیام میں رکاوٹیں
سال2018ء میں قبائلی اضلاع کو خیبر پختونخوا میں ضم کر دیا گیا تھا۔ اس موقع پر ان پسماندہ اضلاع کو ملک کے دوسرے اضلاع کے برابر لانے کے لیے سالانہ ایک سو ارب روپے فراہم کرنے کا اعلان کیا گیا جبکہ تقریبا انتیس ہزار غیر تربیت یافتہ سکیورٹی اہلکاروں کو پولیس میں شامل کیا گیا لیکن وفاق سمیت دیگر صوبے مطلوبہ فنڈز فراہم کرنے میں ناکام رہے۔
جب اس سلسلے میں ڈی ڈبلیو نے قبائلی اور افغان اُمور کے ماہر شمس مومند سے بات کی تو انکا کہنا تھا، “قبائلی اضلاع پاکستان کے اسٹریٹجک علاقے میں شامل ہین اور یہاں سے ہر طرح کے فوائد حاصل کیے جاسکتے ہیں لیکن حکومتوں کی پالیسیویوں نے ان علاقوں کو ملک بھر کے امن و امان کیلئے خطرہ بنا کے رکھ دیا ہے ۔”
ان کا کہنا تھا کہ سترسال سے بنیادی سہولیات سے محروم قبائلی عوام کو مزید محرومیوں میں دھکیل دیا گیا ہے ۔ اس تجزیہ کار کے مطابق پانچ سال میں وفاقی اور صوبائی حکومتیں وعدے کےمطابق 600ارب روپے میں سے ڈیڑہ سو ارب روپے بھی فراہم نہ کرسکیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ جن غیر تربیت یافتہ پولیس اہلکاروں کو پختونخوا پولیس میں ضم کیا گیا انہیں گوریلا جنگ کا سامنا کرنے کے لیے نہ تو تربیت دی گئی اور نہ ہی انہیں جدید سازو سامان فراہم کیا گیا ۔شمس مومند کا کہنا تھا ،”قبائلی اضلاع میں سہولیات کا بھی فقدان ہے جبکہ اکثریتی نوجوان بے روزگار ہیں جب حکومتیں اپنی خارجہ پالیسی کا رخ تبدیل کرنے کا فیصلہ کرتی ہیں تو اس سے قبل اسکے لیے ہر قسم کی تیاری ضروری ہے لیکن یہاں ایسا نہیں ہوا۔” انہوں نے حکمرانوں کو خبردار کرتے ہوئےکہا،” قبائلی اضلاع کو وعدے کے مطابق ملک کے دیگر اضلاع کے برابر لایا جائے ورنہ کوئی اس غلط فہمی میں نہ رہے کہ دہشت گردی کا یہ سلسلہ صرف پختونخوا تک محدود رہے گا ”
تحقیقات کا آغاز
صوبائی محکمہ انسداد دہشت گردی کے عملے نے باجوڑ میں ہونے والے حملے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ حکام نے ابتدائی طور پر اسے خود کش حملہ قرار دیا ہے۔ کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کے ایڈیشنل انسپکٹر جنرل شوکت عباس نے دعویٰ کیا ہے کہ حملہ آور گروپ کی شناخت کر لی گئی ہے اور ملزمان تک تقریباﹰ پہنچ چکے ہیں۔ انکا مزید کہنا تھا کہ اس دھماکے میں 10 سے 12 کلو گرام بارودی مواد استعمال کیا گیا۔ سی ٹی ڈی نے نامعلوم افراد کے خلاف دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے۔”
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
ایران سے متعلق اسرائیل کا مشن ابھی مکمل نہیں ہوا، کسی بھی صورتحال کے لیے تیار ہیں: وزیر دفاع
08/November/2026 👁️ 51 بار دیکھا گیا
سعودی عرب پر حوثیوں کے میزائل حملے، ریاض میں آرامکو کی عمارت کو نقصان، متعدد بیلسٹک اور کروز میزائل تباہ کرنے کا دعویٰ
08/November/2026 👁️ 51 بار دیکھا گیا
ایران : جنوری کے احتجاج کے دوران گرفتار تین افراد کو پھانسی، اسرائیل اور امریکہ کے لیے کام کرنے کا الزام
08/November/2026 👁️ 65 بار دیکھا گیا
شانگلہ میں پولیس اہلکار ریموٹ کنٹرول بم دھماکے میں ہلاک
08/November/2026 👁️ 53 بار دیکھا گیا
باجوڑ : سکیورٹی فورسز کی کارروائی، ٹی ٹی پی کے چار دہشتگرد ہلاک، اسلحہ و گولہ بارود برآمد
08/November/2026 👁️ 53 بار دیکھا گیا
ٹانک میں پولیس افسر اور پانچ سالہ بیٹا فائرنگ سے ہلاک،گورنر کا ٹی ٹی پی پر حملے کا الزام
08/November/2026 👁️ 47 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
ٹرمپ کا ایران کو آخری الٹی میٹم، ڈیل نہ ہوئی تو تباہ کن کارروائی کی دھمکی
04/August/2026 👁️ 26454 بار دیکھا گیاایران میں موساد کیلئے جاسوسی کا الزام، دو افراد کو پھانسی دے دی گئی
04/August/2026 👁️ 15682 بار دیکھا گیاحوثیوں کا سعودی عرب کے نجران ایئرپورٹ پر ڈرون حملہ
05/August/2026 👁️ 11984 بار دیکھا گیاجنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 9353 بار دیکھا گیایمن میں حوثی باغیوں کے میزائل اور ڈرون حملے، 36 فوجی اہلکار ہلاک
07/August/2026 👁️ 7601 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 5605 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C