بھارتی ریاست گجرات کے اسکولوں میں بھگوت گیتا کی تعلیم لازمی
👁️ 163 بار دیکھا گیا
بھارتی ریاست گجرات کے اسکولوں میں بھگوت گیتا کی تعلیم لازمی
نئی دہلی (ڈیلی اردو/ڈوئچے ویلے) بھارتی ریاست گجرات میں بی جے پی کی حکومت نے تمام اسکولوں میں ہندوؤں کی مذہبی کتاب بھگوت گیتا کی تعلیم لازمی کر دی ہے۔ اس کا مطالبہ ہندو قوم پرست تنظیم وشو ہندو پریشد نے کیا تھا۔ مختلف حلقے اس فیصلے کی مخالفت کر رہے ہیں۔
ہندو قوم پرست جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت والی ریاست گجرات کے وزیر تعلیم جیتو واگھانی نے ریاستی اسمبلی میں جمعرات سترہ مارچ کو اعلان کیا کہ ریاست کے تمام اسکولوں میں فی الحال چھٹی سے بارہویں جماعت تک کے طلبا و طالبات کے لیے بھگوت گیتا کی تعلیم لازمی ہو گی۔
انہوں نے کہا کہ اس کا مقصد ”بھگوت گیتا میں بیان کردہ اقدار اور اصولوں کو تعلیمی نصاب میں شامل کرنا ہے۔‘‘
ریاستی وزیر تعلیم نے کہا کہ اس حکم کا اطلاق تمام سرکاری اور سرکاری امداد یافتہ اسکولوں پر ہو گا۔ ان کے مطابق یہ فیصلہ وفاقی حکومت کی نئی تعلیمی پالیسی کے عین مطابق ہے جس میں ”جدید اور قدیم ثقافت و روایات کو شامل کرنے کی سفارش کی گئی ہے تاکہ طالب علم بھارت کی عظیم اور متنوع ثقافت پر فخر محسوس کریں۔‘‘
گجرات حکومت کے اس فیصلے کے مطابق طلبہ کو بھگوت گیتا نہ صرف اسکولوں میں پڑھنا ہو گی بلکہ اسے کلاسیں شروع ہونے سے قبل طالب علموں کی اسمبلی کا حصہ بھی بنایا جائے گا۔ اس کے علاوہ طالب علموں کو راغب کرنے کے لیے بھگوت گیتا پر مبنی مباحثوں، مضمون نویسی، تصاویر اور کوئز وغیرہ کے مقابلے بھی کرائے جائیں گے۔
حکومتی فیصلے کی مخالفت
کئی مختلف حلقوں نے گجرات حکومت کے اس فیصلے کی مخالفت کی ہے۔ اپوزیشن کانگریس پارٹی نے کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی قیادت والی حکومت اس طرح کے فیصلے کے ذریعے اساتذہ اور اسکولوں کی کمی جیسے حقیقی تعلیمی مسائل سے عام لوگوں کی توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہی ہے۔
کانگریس کے ترجمان منیش دوشی نے کہا کہ بھگوت گیتا کو اسکولوں میں نافذ کرنے والوں کو چاہیے کہ پہلے وہ خود اس کتاب سے کچھ سبق سیکھیں۔ انہوں نے کہا، ”ایک ایسے وقت پر جب گجرات کے دیہی علاقوں میں چھ ہزار اسکول صرف ریاضی اور سائنس کے اساتذہ کی کمی کے باعث بند کیے جا رہے ہیں، حکومت بھگوت گیتا کو اسکولوں میں نافذ کرنے جیسے فیصلے کر کے لوگوں کی توجہ ہٹانے کی کوشش میں ہے۔‘‘
مسیحی کارکن فادر سیڈرک پرکاش نے کہا کہ اگرچہ یہ فیصلہ قطعی غیر متوقع نہیں لیکن یہ یقینی طورپر حیرت انگیز ہے۔ انہوں نے اس فیصلے پر نظرثانی کی اپیل بھی کی۔ فادر سیڈرک پرکاش نے کہا، ”ہر مذہب یا مذہبی کتاب کا مطالعہ اچھی بات ہے اور ہر کوئی اس کا خیرمقدم کرتا ہے۔ لیکن سرکاری اسکولوں میں صرف بھگوت گیتا کو نافذ کرنے سے اس شبے کو تقویت ملتی ہے کہ حکومت بھارت کے سیکولر ڈھانچے کو توڑنا چاہتی ہے اور یہ فیصلہ ‘ہندتوا راشٹر‘ کے قیام کی طرف ایک اور قدم ہے۔‘‘
فیصلہ وشو ہندو پریشد کا مطالبہ تھا
ہندو قوم پرست تنظیم وشو ہندو پریشد (وی ایچ پی) نے بھگوت گیتا کو پورے بھارت کے تمام اسکولوں میں نافذ کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ اس تنظیم نے صرف اسکولوں کے طالب علموں کے لیے ہی نہیں بلکہ اسے اساتذہ کی ٹریننگ کے لیے بھی لازمی کر دینے کا مطالبہ کیا تھا۔
وی ایچ پی کا کہنا ہے کہ بھگوت گیتا کی تعلیمات کو فروغ دینے کے لیے تمام حکومتی اداروں میں وقفے وقفے سے خصوصی پروگرام منعقد کیے جانا چاہییں تاکہ ملک میں ‘اخلاقی قدروں کے زوال‘ کو روکا جا سکے۔
بھارتی وزیر تعلیم نے ملکی پارلیمان میں ایک سوال کے جواب میں کہا تھا کہ جو ریاستی حکومتیں چاہتی ہیں کہ ان کے اسکولوں میں طلبا و طالبات بھگوت گیتا پڑھیں، وہ ایسا کر سکتی ہیں کیونکہ تعلیم کا شعبہ ریاستوں کے دائرہ اختیار میں ہے۔
Introducing Bhagwat Gita in Gujrat school curriculum has nothing to do with exposing students to Indian heritage. Rather, it is move keeping in mind the Lok Sabha elections of 2024. Note, many witnesses take oath of truth by placing hand over Gita but profusely lie.
— Tirthankar Dutta (@GravitonTirtho) March 18, 2022
سوشل میڈیا پربھی ردعمل
گجرات حکومت کے فیصلے پر سوشل میڈیا پر بھی دلچسپ ردعمل دیکھنے میں آ رہا ہے۔ ترتھانکر دتّا نامی ایک صارف نے ٹوئٹر پر لکھا، ”اسکولوں کے نصاب میں بھگوت گیتا کو شامل کرنے کا طلبہ کو بھارتی تہذیب سے آگاہ کرنے کی کوششوں سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ یہ سب کچھ 2024ء کے عام انتخابات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جا رہا ہے۔ یاد رہے کہ بہت سے لوگ گیتا پر ہاتھ رکھ کر سچ بولنے کی قسم تو اٹھاتے ہیں لیکن جھوٹ بڑی روانی سے بولتے ہیں۔‘‘
اسی طرح راکیش شرما نامی ایک صارف نے لکھا، ”اب گجرات کے لوگ اور بھارتی کمپنیاں ملازمت کے لیے بھگوت گیتا کی بنیاد پر انٹرویو لیا کریں گی۔ وہ سوال پوچھیں گی کہ بھگوت گیتا کے ساتویں باب میں کیا ہے، جس سے مینجمنٹ میں مدد مل سکتی ہے؟‘‘
Now, Gujrat people and Indian company will make interview on the basis of Bhagwat gita.
Q.1 bhawat gita ke 7th chapter me kya tha whicg helps in managenet.
And many more.
— Rakesh sharma (@rkicecivil) March 18, 2022
شاہ شکیل نامی ایک اور صارف نے لکھا، ”16مارچ کو ایک عدالت نے اسکولوں میں حجاب پر پابندی کو برقرار رکھا اور اگلے ہی دن گجرات نے بھگوت گیتا کو تعلیمی نصاب میں شامل کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ اس عمل کے لیے ریاکاری بہت ہی معمولی لفظ ہے۔‘‘
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
آبنائے ہرمز میں ایک اور آئل ٹینکر میں دھماکا اور آگ، ایران کا سمندری بارودی سرنگ سے ٹکرانے کا دعویٰ
19/October/2026 👁️ 67 بار دیکھا گیا
قلات میں کارروائی کے دوران 4 دہشت گرد ہلاک، گوادر میں آئی ای ڈی دھماکے سے میجر بھی ہلاک
19/October/2026 👁️ 40 بار دیکھا گیا
نیتن یاہو کا نیا دفاعی منصوبہ، ایران میں حکومت کی تبدیلی اور اسلحہ سازی میں خود کفالت پر زور
19/October/2026 👁️ 112 بار دیکھا گیا
نیتن یاہو ایران کے ساتھ نئی جنگ کے لیے واشنگٹن پر دباؤ ڈال رہے ہیں، عباس عراقچی کا الزام
19/October/2026 👁️ 97 بار دیکھا گیا
تل ابیب سے ویانا جانے والی پرواز کی صوفیہ میں ہنگامی لینڈنگ، بم کی دھمکی پر مسافروں سے پوچھ گچھ
19/October/2026 👁️ 70 بار دیکھا گیا
یمن میں سعودی فضائی حملوں میں 30 سے زائد افراد ہلاک و زخمی ، حوثی باغیوں کا دعویٰ
19/October/2026 👁️ 79 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
ٹرمپ کا ایران کو آخری الٹی میٹم، ڈیل نہ ہوئی تو تباہ کن کارروائی کی دھمکی
04/August/2026 👁️ 26384 بار دیکھا گیاایران میں موساد کیلئے جاسوسی کا الزام، دو افراد کو پھانسی دے دی گئی
04/August/2026 👁️ 15621 بار دیکھا گیاحوثیوں کا سعودی عرب کے نجران ایئرپورٹ پر ڈرون حملہ
05/August/2026 👁️ 11915 بار دیکھا گیاجنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 9269 بار دیکھا گیایمن میں حوثی باغیوں کے میزائل اور ڈرون حملے، 36 فوجی اہلکار ہلاک
07/August/2026 👁️ 7526 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 5477 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C