16/July/2026

بھارت کے سب سے بڑے نیوکلیئر پاور پلانٹ کا حساس ڈیٹا ڈارک ویب پر لیک

👁️ 99 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
بھارت کے سب سے بڑے نیوکلیئر پاور پلانٹ کا حساس ڈیٹا ڈارک ویب پر لیک

بھارت کے سب سے بڑے نیوکلیئر پاور پلانٹ کا حساس ڈیٹا ڈارک ویب پر لیک

نئی دہلی (ڈیلی اردو/روئٹرز) بھارت کے سب سے بڑے جوہری بجلی گھر کودانکولم نیوکلیئر پاور پلانٹ (KKNPP) سے متعلق مبینہ حساس دستاویزات ڈارک ویب پر جاری ہونے کے بعد ملک کے اہم انفراسٹرکچر کی سائبر سکیورٹی پر نئے سوالات اٹھ گئے ہیں۔ رینسم ویئر گروپ ورلڈ لیکس (World Leaks) نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے پلانٹ سے متعلق ہزاروں حساس دستاویزات چوری کر کے ڈارک ویب پر شائع کر دی ہیں۔

 

برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق جنوبی بھارتی ریاست تامل ناڈو میں واقع کودانکولم نیوکلیئر پاور پلانٹ بھارت کے سات جوہری بجلی گھروں میں سب سے بڑا ہے اور وزیر اعظم نریندر مودی کے جوہری توانائی کے توسیعی منصوبے میں کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔

 

پلانٹ کے کنٹریکٹر ریلائنس انفراسٹرکچر نے تصدیق کی ہے کہ اس کے ایک سرور پر "جزوی ڈیٹا خلاف ورزی" ہوئی ہے۔ کمپنی کے مطابق متاثرہ سرور بھارتی ڈیٹا سینٹر فراہم کرنے والی کمپنی یوٹا (Yotta) کے پاس ہوسٹ کیا گیا تھا۔ کمپنی نے بتایا کہ واقعے سے متعلق حکومتی اداروں کو آگاہ کر دیا گیا ہے، تاہم یہ واضح نہیں کیا گیا کہ کون سا ڈیٹا متاثر ہوا۔

 

آزاد سائبر سکیورٹی محقق راکیش کرشنن کے مطابق ڈارک ویب پر KKNPP کے نام سے تقریباً 19 ہزار فائلیں موجود ہیں جن کا مجموعی حجم 14.3 گیگا بائٹ بنتا ہے۔ ان کے مطابق یہ فائلیں مبینہ طور پر 2016 سے 2025 کے وسط تک کی دستاویزات پر مشتمل ہیں اور 11 جون سے آن لائن دستیاب ہیں۔

 

روئٹرز نے ان دستاویزات کا جائزہ لیا، تاہم خبر رساں ادارے کے مطابق ان کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی۔

 

مبینہ لیک ہونے والی فائلوں میں وینٹیلیشن اور کولنگ سسٹمز کے خاکے، سپلائرز کی فہرستیں، معائنہ رپورٹس، اجلاسوں کا ریکارڈ، انشورنس پالیسیوں کی تفصیلات اور دیگر تکنیکی دستاویزات شامل ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

 

سائبر سکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ معلومات درست ثابت ہوئیں تو ان سے پلانٹ کے معاون نظام، سپلائی چین اور حفاظتی انتظامات سے متعلق حساس معلومات سامنے آ سکتی ہیں، جنہیں بدنیتی پر مبنی عناصر مستقبل میں سائبر حملوں یا دیگر کارروائیوں کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔

 

نیوکلیئر تھریٹ انیشی ایٹو کے سینئر ڈائریکٹر نکولس روتھ نے خبردار کیا کہ اس نوعیت کی معلومات کا غلط ہاتھوں میں جانا کسی بھی جوہری تنصیب کی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ بن سکتا ہے۔

 

بھارت کی نیوکلیئر پاور کارپوریشن آف انڈیا (NPCIL) اور قومی سائبر سکیورٹی ایجنسی CERT-In اس معاملے کی تحقیقات کر رہی ہیں، تاہم حکام نے تاحال لیک ہونے والے ڈیٹا کی نوعیت یا اس کی صداقت کے بارے میں کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا۔

 

دوسری جانب یوٹا (Yotta) کا کہنا ہے کہ اس نے 29 مئی کو ریلائنس انفراسٹرکچر کے سرور پر مشکوک سرگرمی کا پتہ چلتے ہی فوری کارروائی کرتے ہوئے ممکنہ رینسم ویئر حملہ روک دیا تھا، تاہم بعد میں کمپنی کو بیرونی عناصر کی جانب سے ڈیٹا لیک کے دعووں سے آگاہ کیا گیا۔

 

واضح رہے کہ ورلڈ لیکس نامی رینسم ویئر گروپ اس سے قبل بھی متعدد بڑی کمپنیوں اور اداروں پر سائبر حملوں کا دعویٰ کر چکا ہے اور مبینہ طور پر تاوان ادا نہ کیے جانے کی صورت میں چوری شدہ ڈیٹا ڈارک ویب پر شائع کرتا رہا ہے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C