بھارت: گجرات یونیورسٹی کے ہاسٹل میں نمازِ تراویح کے دوران غیر ملکی طلبہ پر حملہ، پانچ زخمی
👁️ 145 بار دیکھا گیا
بھارت: گجرات یونیورسٹی کے ہاسٹل میں نمازِ تراویح کے دوران غیر ملکی طلبہ پر حملہ، پانچ زخمی
نئی دہلی (ڈیلی اردو/وی او اے) بھارت کی ریاست گجرات کے شہر احمد آباد کی یونیورسٹی کے ہاسٹل میں ہفتے کی شب نمازِ تراویح کے دوران ایک مشتعل ہجوم نے مبینہ طور پر حملہ کرکے پانچ غیر ملکی طلبہ کو زخمی کر دیا ہے۔
زخمیوں کا تعلق افغانستان، سری لنکا، ازبکستان اور ساؤتھ افریقہ سے ہے۔
یہ واقعہ گجرات یونیورسٹی کے ہاسٹل کے اے بلاک میں پیش آیا جہاں غیر ملکی طلبہ مقیم ہیں۔
ریاست کے وزیرِ داخلہ ہرش سنگھوی نے ریاست کے اعلیٰ پولیس حکام کو ہدایت دی کہ وہ ملوث افراد کو جلد از جلد گرفتار کریں اور اس واقعے کی غیر جانب دارانہ تحقیقات کی جائے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق طلبہ کا کہنا ہے کہ کیمپس میں کوئی مسجد نہیں ہے اس لیے وہ لوگ ہاسٹل کے اندر نماز تراویح ادا کر رہے تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ اسی درمیان ایک ہجوم جو کہ لاٹھیوں اور چاقوؤں سے لیس تھا، ہاسٹل میں گھس آیا اور اس نے طلبہ پر حملہ کر دیا اور ان کے کمروں میں توڑ پھوڑ کی۔
طلبہ کا کہنا ہے کہ ہاسٹل کے سیکیورٹی گارڈ نے ہجوم کو روکنے کی کوشش کی مگر وہ ناکام رہے۔
افغانستان کے ایک طالب علم نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہجوم نعرے لگا رہا تھا اور کہہ رہا تھا کہ تم کو ہاسٹل میں نماز پڑھنے کی اجازت کس نے دی؟
طلبہ نے بتایا کہ نصف گھنٹے کے بعد پولیس پہنچی اور تب تک حملہ آور وہاں سے فرار ہو چکے تھے۔
زخمی طلبہ کو اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔
انہوں نے اپنے متعلقہ سفارت خانوں کو اس واقعے کی اطلاع دے دی ہے۔
سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز میں ٹوٹی ہوئی بائیک اور لیپ ٹاپ اور کمروں میں توڑ پھوڑ دیکھی جا سکتی ہے۔
International students (Africa, Uzbekistan, Afganistan etc) studying in Gujarat University @gujuni1949 claim they were beaten up, Stones thrown at them and at their hostel (A-Block), Vehicles destroyed while they were offering Ramazan Taraweeh at a place inside the hostel A-Block… pic.twitter.com/ogJ3h7FUin
— Mohammed Zubair (@zoo_bear) March 16, 2024
بعض ویڈیوز میں لوگوں کو ہاسٹل کی جانب پتھراؤ کرنے اور طلبہ کو گالیاں دیتے ہوئے بھی دیکھا جا سکتا ہے۔
ویڈیوز میں غیر ملکی طلبہ یہ کہہ رہے ہیں کہ وہ خوف زدہ ہیں اور جو کچھ ہوا وہ نا قابلِ قبول ہے۔
ایک ویڈیو میں بھیڑ میں شامل ایک نوجوان سیکیورٹی گارڈ سے کہہ رہا ہے کہ وہ ہاسٹل میں نماز کیوں پڑھ رہے ہیں۔ کیا وہ نماز پڑھنے کی جگہ ہے؟
بتایا جاتا ہے کہ اس موقعے پر ایک اسٹوڈنٹ چلاتے ہوئے اس نوجوان کے پاس پہنچا۔ جس کے بعد بھیڑ میں شامل بعض افراد نے تشدد کیا۔
احمد آباد کے پولیس کمشنر جی ایس ملک نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ قصور واروں کے خلاف ایف آئی آر درج کر لی گئی ہے۔ ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
ان کے مطابق گجرات یونیورسٹی میں مختلف کورسز میں 300 غیر ملکی طلبہ کا داخلہ ہوا ہے جن میں سے 75 طلبہ مذکورہ ہاسٹل کے اے بلاک میں مقیم ہیں۔
انہوں نے اتوار کو میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہفتے کی رات ساڑھے دس بجے طلبہ کا ایک گروپ نماز پڑھ رہا تھا کہ 20 سے 25 افراد آئے اور کہنے لگے کہ وہ ہاسٹل میں نماز کیوں پڑھ رہے ہیں؟ مسجد میں جا کر نماز پڑھیں۔
ان کے بقول اس پر ان میں تلخ کلامی ہوئی اور باہر سے آنے والے ان لوگوں نے پتھراؤ کیا جب کہ طلبہ کے کمروں میں توڑ پھوڑ کی
ادھربھارتی وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ گجرات کی ریاستی حکومت نے تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کی ہے۔ وزارتِ خارجہ ریاستی حکومت کے رابطے میں ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ دونوں زخمیوں میں سے ایک کو طبی امداد دیے جانے کے بعد اسپتال سے فارغ کر دیا گیا ہے۔
تشدد میں ملوث دو افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ ان کے نام ہتیش میوادہ اور بھارت پٹیل ہے۔
ان کے خلاف متعدد دفعات کے تحت مقدمہ قائم کیا گیا ہے۔ پولیس کا دعویٰ ہے کہ تشدد میں ملوث دو درجن افراد کے خلاف کارروائی کی گئی ہے۔
ڈپٹی کمشنر آف پولیس ترون دگل نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پولیس گرفتار افراد سے پوچھ گچھ کر رہی ہے۔
بھارتی اخبار ’ہندوستان ٹائمز‘ سے گفتگو میں دو طلبہ کا کہنا تھا کہ شروع میں پانچ طلبہ کو اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا جن میں سے تین کو طبی امداد دے کر اسپتال سے رخصت کر دیا گیا۔
آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے صدر اور رکن پارلیمان اسد الدین اویسی نے اس واقعے کی مذمت کی اور وزیرِ اعظم نریندر مودی اور وزیرِ داخلہ امت شاہ سے سوال کیا کہ کیا وہ اس معاملے میں مداخلت کریں گے؟
انہوں نے سوشل میڈیا پر ایک بیان میں کہا کہ یہ شرم ناک واقعہ ہے جب مسلمان پر امن طریقے سے اپنے مذہب پر عمل کرتے ہیں تو ان لوگوں کی مذہبیت بیدار ہو جاتی ہے۔ مذہبی نعرے باہر آ جاتے ہیں۔
انہوں نے سوال کیا کہ کیا یہ انتہا پسندی نہیں ہے۔ گجرات مودی اور امت شاہ کی آبائی ریاست ہے تو کیا وہ اس معاملے میں مداخلت کریں گے؟
میڈیا نے گجرات یونیورسٹی کی وائس چانسلر نیرجا گپتا کے موبائل پر ان سے رابطہ کیا ہے لیکن انہوں نے اس واقعے پر کوئی مؤقف نہیں دیا۔
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
کرم میں نادرا کی موبائل وین پر مسلح افراد کی فائرنگ
21/July/2026 👁️ 226 بار دیکھا گیا
تجارتی جہازوں پر حملہ کیا تو طاقت سے جواب دینگے، سعودی فوجی اتحاد کی حوثیوں کو وارننگ
21/July/2026 👁️ 265 بار دیکھا گیا
ایران میں سرکردہ سنی عالم محمد انور ریگی فائرنگ سے ہلاک
21/July/2026 👁️ 509 بار دیکھا گیا
روسی دارالحکومت ماسکو پر یوکرین کا بڑا ڈرون حملہ، 400 سے زائد ڈرونز استعمال، جنگ میں نئی شدت
21/July/2026 👁️ 448 بار دیکھا گیا
نوشہرہ میں امن جرگہ کے رہنما اعجاز خان ٹارگٹ کلنگ میں ہلاک، تحقیقات شروع
21/July/2026 👁️ 205 بار دیکھا گیا
پاکستان بھارت سرحد پر رات بھر گولہ باری
20/July/2026 👁️ 323 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
جنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 8963 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 4813 بار دیکھا گیاپاکستانی طیاروں کا کابل، پکتیکا، خوست اور جلال آباد میں فضائی حملہ، متعدد ہلاکتیں
10/October/2025 👁️ 3574 بار دیکھا گیاسعودی عرب کا پاکستانی شہریوں کیلئے ویزا فیسوں میں کمی کا اعلان
16/February/2019 👁️ 3467 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ کے انتہائی مطلوب کمانڈر تہران طوری کے حملے میں پولیس افسر ہلاک
15/August/2025 👁️ 2567 بار دیکھا گیاکیا آپ کو معلوم ہے خام تیل کے ایک بیرل سے کتنے لیٹر پٹرول اور ڈیزل بنتا ہے؟
01/February/2019 👁️ 2320 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C