14/September/2026

تعز، الحدیدہ اور مأرب میں حوثی باغیوں کی کارروائیاں، 150 شہری ہلاک، 200 سے زائد زخمی اور 85 ہزار بے گھر ہونے کا دعویٰ

👁️ 21 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
تعز، الحدیدہ اور مأرب میں حوثی باغیوں کی کارروائیاں، 150 شہری ہلاک، 200 سے زائد زخمی اور 85 ہزار بے گھر ہونے کا دعویٰ

تعز، الحدیدہ اور مأرب میں حوثی باغیوں کی کارروائیاں، 150 شہری ہلاک، 200 سے زائد زخمی اور 85 ہزار بے گھر ہونے کا دعویٰ

صنعاء(ڈیلی اردو) یمن کی وزارتِ انسانی حقوق نے دعویٰ کیا ہے کہ 3 ستمبر سے تعز، الحدیدہ اور مأرب میں حوثی باغیوں کی جانب سے جاری فوجی کارروائیوں اور حملوں کے نتیجے میں 150 شہری ہلاک اور 200 سے زائد زخمی ہوئے، جبکہ تقریباً 85 ہزار افراد اپنے علاقوں سے نقل مکانی پر مجبور ہوئے ہیں۔

وزارت کے مطابق یہ اعداد و شمار ابتدائی نوعیت کے ہیں اور ان واقعات پر مبنی ہیں جن کی اب تک دستاویز بندی کی جاچکی ہے یا جن کی اطلاعات وزارت کو موصول ہوئی ہیں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ متاثرہ علاقوں میں رہائشی آبادیوں، بے گھر افراد کے کیمپوں اور نقل مکانی کرنے والے شہریوں کو بھی حملوں کا سامنا کرنا پڑا۔

وزارت کے مطابق کارروائیوں میں بیلسٹک میزائل، ڈرونز اور دیگر ہتھیار استعمال کیے گئے، جبکہ حملوں کے باعث متعدد خاندان اپنے گھروں اور روزگار کے ذرائع سے محروم ہوئے۔ عالمی ادارہ برائے مہاجرت کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے وزارت نے کہا کہ تقریباً 2 ہزار افراد یمن سے نکل کر جبوتی پہنچے ہیں۔

الحدیدہ میں وزارت نے دعویٰ کیا کہ حوثی باغیوں کی گولہ باری سے حیس کے علاقے سے نقل مکانی کرنے والے شہری متاثر ہوئے، جس میں متعدد افراد ہلاک اور زخمی ہوئے۔ وزارت نے شہریوں کی نقل مکانی کے دوران انہیں نشانہ بنائے جانے کو انتہائی سنگین معاملہ قرار دیا۔

تعز میں الشقب کے علاقے میں ہونے والی مبینہ کارروائی کے حوالے سے وزارت نے کہا کہ ایک حاملہ خاتون اور اس کا بچہ ہلاک ہوئے، جبکہ رہائشی علاقوں پر حملوں کے باعث مزید آبادی کو نقل مکانی کرنا پڑی۔

مأرب میں بھی بے گھر افراد کے کیمپوں اور رہائشی علاقوں پر میزائل اور ڈرون حملوں کی اطلاعات سامنے آئیں۔ وزارت کے مطابق ان واقعات میں بچوں سمیت متعدد افراد ہلاک و زخمی ہوئے اور بڑی تعداد میں بے گھر خاندان ایک مرتبہ پھر خطرات سے دوچار ہوگئے۔

وزارت نے مزید الزام عائد کیا کہ بعض علاقوں میں امدادی اداروں کے دفاتر، شہری املاک اور سرکاری عمارتوں کو نقصان پہنچایا گیا، جبکہ صحافیوں، سرکاری اہلکاروں اور عدالتی شعبے سے وابستہ افراد کے اغوا اور حراست کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں۔

یمنی وزارتِ انسانی حقوق نے بعض مقامات پر زخمی افراد کو نشانہ بنانے اور ماورائے قانون ہلاکتوں کی اطلاعات کا بھی ذکر کیا اور عالمی برادری، اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کے متعلقہ اداروں سے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا۔

وزارت نے حوثی باغیوں کو مبینہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے شہریوں، بے گھر افراد، طبی مراکز اور امدادی قافلوں کے تحفظ، زیرِ حراست افراد کی رہائی اور مبینہ خلاف ورزیوں کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

واضح رہے کہ یہ تمام اعداد و شمار اور الزامات یمنی وزارتِ انسانی حقوق کے بیان پر مبنی ہیں، جن کی آزاد ذرائع سے مکمل تصدیق نہیں ہوسکی۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C