توہینِ مذہب کے الزام میں قید مسیحی جوڑے کو لاہور ہائی کورٹ نے بری کر دیا
👁️ 101 بار دیکھا گیا
توہینِ مذہب کے الزام میں قید مسیحی جوڑے کو لاہور ہائی کورٹ نے بری کر دیا
لاہور (ڈیلی اردو/بی بی سی) پیغمبرِ اسلام کی توہین کے الزام میں سات سال سے جیل میں قید مسیحی جوڑے شگفتہ کوثر اور شفقت ایمینوئل کے وکیل کے مطابق لاہور ہائی کورٹ نے اُنھیں بے قصور قرار دیتے ہوئے بری کرنے کے احکامات جاری کیے ہیں۔
سنہ 2014 میں اس جوڑے کو موت کی سزا سنائی گئی تھی۔ اس وقت ان کے خلاف چلائے گئے مقدمے میں یہ الزام ثابت ہوا تھا کہ جس موبائل نمبر سے مقامی مسجد کے امام کو پیغمبرِ اسلام کے بارے میں توہین آمیز میسیجز بھیجے گئے تھے وہ نمبر ان کے نام پر رجسٹر تھا۔
تاہم اُن کے وکیل ایڈووکیٹ سیف الملوک نے جمعرات کو بی بی سی کو بتایا ہے کہ عدالت نے استغاثہ کی جانب سے پیش کیے گئے ثبوتوں کو ’ناقص‘ قرار دیا ہے۔ اُنھوں نے یہ بھی بتایا کہ لاہور ہائی کورٹ کے مطابق استغاثہ یہ ثابت نہیں کر سکا کہ مذکورہ سِم کارڈ کا اس جوڑے سے کوئی تعلق تھا۔
اُنھوں نے اُمید ظاہر کی کہ اُنھیں ایک ہفتے میں رہا کر دیا جائے گا۔
پاکستانی قوانین کے مطابق اس فیصلے کے خلاف ملک کی سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی جا سکتی ہے۔
ان کے وکیل سیف الملوک نے توہینِ رسالت کے مقدے میں سزا پانے والی خاتون آسیہ بی بی کے مقدمے کی بھی پیروی کی تھی اور سزا کے خلاف اپیل میں فیصلہ آسیہ بی بی کے حق میں آیا تھا۔
پاکستان میں توہینِ رسالت کی سزا موت ہے لیکن آج تک اس سزا پر عمل درآمد نہیں کیا گیا۔ تاہم ماضی میں بہت سے لوگوں پر یہ الزام لگنے کے بعد مشتعل ہجوموں نے ان کا قتل کیا ہے۔
شگفتہ کوثر اور شفقت ایمینوئل کون ہیں؟
یہ غریب مسیحی خاندان پاکستان کے شہر گوجرہ سے تعلق رکھتا ہے۔ شگفتہ ایک کرسچن سکول میں نگراں کی حیثیت سے کام کرتی تھیں جبکہ ان کے شوہر شفقت معزور ہیں۔ اس جوڑے کے چار بچے ہیں
شگفتہ کے بھائی جوزف نے گذشتہ برس بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کی بہن اور بہنوئی بے قصور ہیں اور انھیں یہ بھی نہیں پتا کہ آیا ان دونوں کے پاس اتنی تعلیم ہے بھی کہ وہ موبائل پر اس طرح کے میسج لکھ سکیں۔
جوزف کا کہنا تھا کہ ان کے بچے ‘ہر وقت روتے ہیں اور اپنے والدین کو یاد کر رہے ہیں، وہ ان سے دوبارہ ملنا چاہتے ہیں۔‘
اس وقت جوزف کا کہنا تھا کہ انھیں امید ہے انصاف ملے گا اور آسیہ بی بی کے خلاف مقدمے کے خلاف فیصلے سے انھیں مزید حوصلہ ملا تھا۔
انسانی حقوق کی تنظیموں کا مؤقف رہا ہے کہ پاکستان میں توہینِ رسالت کے الزامات اکثر یا تو اپنی ’ذاتی دشمنیوں کا انتقام‘ لینے کے لیے لگائے جاتے ہیں یا پھر ’اقلیتی برادریوں کو نشانہ بنانے کے لیے‘۔
پاکستان میں توہین رسالت کے مقدمات میں سزا اکثر اعلیٰ عدالتوں میں اپیل پر ختم کردی جاتی ہے۔ سنہ 2019 میں ایک دہائی تک سلاخوں کے پیچھے رہنے والی آسیہ بی بی کو سپریم کورٹ نے بری کیا تھا اور وہ پاکستان سے کینیڈا منتقل ہوگئی تھیں۔ عدالت کے اس فیصلے پر ملک میں متعدد مذہبی جماعتوں کی طرف سے پر تشدد مظاہرے بھی ہوئے تھے۔
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
امریکہ ایران معاہدہ مکمل، آبنائے ہرمز کھل گئی، صدر ٹرمپ کا اعلان
15/June/2026 👁️ 125 بار دیکھا گیا
امریکہ اور ایران کے درمیان امن معاہدہ طے پا گیا، پاکستانی وزیراعظم
15/June/2026 👁️ 130 بار دیکھا گیا
غزہ میں اسرائیلی حملوں میں 6 فلسطینی ہلاک
15/June/2026 👁️ 107 بار دیکھا گیا
بیروت پر اسرائیلی حملے کے بعد ایران کا سخت ردعمل
15/June/2026 👁️ 116 بار دیکھا گیا
خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے 10 واقعات میں مائننگ بارودی مواد کے استعمال کا انکشاف
15/June/2026 👁️ 178 بار دیکھا گیا
بیروت پر اسرائیلی حملہ، حزب اللہ کے سینئر کمانڈر علی موسی دقدوق 5 ساتھیوں سمیت ہلاک
15/June/2026 👁️ 107 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
جنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 8828 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 4555 بار دیکھا گیاپاکستانی طیاروں کا کابل، پکتیکا، خوست اور جلال آباد میں فضائی حملہ، متعدد ہلاکتیں
10/October/2025 👁️ 3269 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ کے انتہائی مطلوب کمانڈر تہران طوری کے حملے میں پولیس افسر ہلاک
15/August/2025 👁️ 2449 بار دیکھا گیاکیا آپ کو معلوم ہے خام تیل کے ایک بیرل سے کتنے لیٹر پٹرول اور ڈیزل بنتا ہے؟
01/February/2019 👁️ 2089 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ نے پولیس افسر قیصر حسین کی ہلاکت کی ذمہ داری قبول کرلی
26/August/2025 👁️ 1896 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C