جارج فلائیڈ کی ہلاکت: القاعدہ کی ناراض امریکیوں کو اپنا ہمدرد بنانے کی کوشش
👁️ 68 بار دیکھا گیا
جارج فلائیڈ کی ہلاکت: القاعدہ کی ناراض امریکیوں کو اپنا ہمدرد بنانے کی کوشش
واشنگٹن (ڈیلی اردو/بی بی سی) کالعدم شدت پسند تنظیم القاعدہ سے منسلک لوگ امریکہ میں جاری بد امنی کا مسلسل فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ایسا کرنے کے لیے وہ خود کو مسلم اور غیر مسلم افراد کے سامنے ’مظلوموں کے ساتھی‘ کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔
شدت پسند تنظیم کے آن لائن میگزین ’ون اُمہ‘ کے حالیہ ایڈیشن میں جارج فلائیڈ کے آخری لمحات کی ایک خاص تصویر کے ساتھ گرافیٹی کے فنکار بینکسلے کی ایک پینٹنگ استعمال کی گئی ہے تاکہ امریکہ کی سڑکوں پر مظاہرین کے لیے حمایت کا پیغام دیا جاسکے۔
انگریزی زبان کے اس میگزین کا ہدف امریکہ کے مقامی لوگوں کو اپنی طرف مائل کرنا ہے۔ اس میں پیشگوئی کی گئی ہے کہ جلد امریکہ اپنے سیاسی، معاشی اور سماجی نظام کے ساتھ ختم ہوجائے گا۔
ایک تجزیے میں کہا گیا کہ ’امریکہ بھر میں مسلح احتجاج ہو رہے ہیں اور خانہ جنگی کسی بھی وقت شروع ہوسکتی ہے۔‘
اس کا ایک پیغام یہ ہے کہ ’ڈیموکریٹس بھی آپ کی مدد نہیں کر سکتے۔ لیکن ہم کر سکتے ہیں۔‘
بی بی سی مانیٹرنگ کی مینا ال لامی کہتی ہیں کہ القاعدہ اور اس کی حریف تنظیم نام نہاد دولت اسلامیہ کی حکمت عملی میں کافی فرق ہے۔ ’دولت اسلامیہ‘ محض امریکہ میں بے چینی کے خواہش مند ہیں اور ان کی پیشگوئی ہے کہ یہ بدامنی دوسرے ممالک میں بھی پھیل جائے گی۔
مینا کہتی ہیں کہ دوسری طرف القاعدہ کی حکمت عملی زیادہ باریکی سے تشکیل دی گئی ہے۔ القاعدہ کا ہدف ہے کہ امریکی شہریوں تک پہنچا جائے اور ان لوگوں کو اپنے عقائد کا اسلام قبول کروا کر تنظیم کو فائدہ پہنچایا جائے۔
ہمارے ماہرین کہتے ہیں کہ میگزین کی تحریر ایسے شخص نے لکھی ہے جسے اچھی طرح معلوم ہے کہ امریکہ میں اس وقت کیا ہو رہا ہے۔
واپسی کی کوششیں
گذشتہ کئی برسوں سے ’دولت اسلامیہ‘ نے القاعدہ پر گرہن لگا رکھا ہے۔ لیکن کنگز کالج لندن میں شدت پسندی پر تحقیق کرنے والے سینٹر کے ڈائریکٹر شیراز مہر کے مطابق القاعدہ یہ دکھانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ اب بھی دنیا میں مطابقت رکھتے ہیں۔
ڈاکٹر مہر کہتے ہیں کہ: ’یہ (بلیک لائیوز میٹر کے مظاہرے) موجودہ حالات میں بڑا واقعہ ہے۔۔۔ جس کا اثر پوری دنیا، ذرائع ابلاغ اور سیاسی میدان سے سماجی اور فن کی دنیا میں پہنچ رہا ہے۔‘
’اس لیے القاعدہ اپنی جگہ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ ’دیکھوں ادھر ہم بھی ہیں‘۔‘
ستم ظریفی یہ ہے کہ یہ ایک ایسا گروہ ہے جسے مشرق وسطیٰ میں ظلم کے نظریات کے لیے پہنچانا جاتا ہے۔ لیکن اب یہی گروہ پولیس کے جبر اور منظم نسلی امتیاز مخالف ناراض امریکیوں کے مقصد میں ان کا ساتھ دے رہا ہے۔
ستمبر 2001 میں القاعدہ نے مرحوم اسامہ بن لادن کی قیادت میں امریکی تاریخ کا سب سے بڑا شدت پسند حملہ کیا تھا۔ اس نے عراق کے صوبے الفلوجہ میں ایک ایسا قانون نافذ کیا تھا جس کے تحت اگر کوئی مرد سگریٹ پیتے پکڑا جاتا ہے تو اس کی انگلیاں کاٹ دی جائیں گی۔
دنیا بھر میں اس کی کئی شاخیں پھیل چکی ہیں جن میں دولت اسلامیہ بھی شامل ہے۔
لیکن دسمبر 2019 میں فلوریڈا میں القاعدہ سے متاثر ایک سعودی شخص کے واحد حملے کے علاوہ دونوں گروہ حالیہ عرصے میں امریکی آبادی میں کوئی خاطر خواہ حمایت حاصل نہیں کرسکے۔ یورپ کے مقابلے امریکہ میں ان کی حمایت بہت کم ہے۔ یورپ میں 1990 کی دہائی کے بعد سے کئی شہروں میں جہادی ذہنیت کے ہمدرد افراد کی نشاندہی ہوئی ہے۔
کئی مہینوں سے مغربی انٹیلیجنس کے سربراہان ہمیں متنبہ کر رہے ہیں کہ القاعدہ کا گروہ ختم نہیں ہوا بلکہ یہ صحیح موقع کی تلاش میں ہے۔
پوری دنیا اور خاص طور پر امریکہ اور برطانیہ کووڈ 19 سے کافی متاثر ہوئے ہیں جس سے القاعدہ اور دولت اسلامیہ فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ دونوں ممالک کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں کارروائیوں کا نتیجہ ہے۔
جبکہ ایران میں تاحال کورونا وائرس سے ایک لاکھ 75 ہزار متاثر ہوئے ہیں جبکہ مصر میں روزانہ 2000 نئے متاثرین کی تشخیص کی جا رہی ہے۔
مغربی انٹیلیجنس کیلئے کڑا امتحان
آج جہادی گروہ امریکہ میں پولیس کے جبر اور نسلی امتیاز کے خلاف مظاہرہ کرنے والوں میں حمایت حاصل کرنا چاہ رہے ہیں۔ اور انھیں پرتشدد مظاہروں کے لیے اکسا رہے ہیں۔
لیکن ممکنہ طور پر امریکہ میں مظاہرین القاعدہ کی اس ہمدردی کا خیرمقدم نہیں کریں گے۔
القاعدہ ایک کالعدم شدت پسند تنظیم ہے جن نے 11 ستمبر کے حملے میں تقریباً تین ہزار امریکی شہریوں کو ہلاک کیا تھا۔ اس نے امریکیوں کو دوبارہ ہدف بنانے کا عہد کر رکھا ہے۔
تو امریکہ میں انسداد شدت پسندی کے اہلکاروں کو اس کی کتنی فکر کرنی چاہیے؟
ڈاکٹر مہر گذشتہ 20 برس سے القاعدہ اور اس کے نظریات پر تحقیق کر رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ محض موقع کا فائدہ اٹھانے والی بات ہے۔
انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ: ’اس پروپیگنڈے کا مقصد اپنے ہمدرد افراد کے لیے دروازے کھولنا ہے۔ صرف ایک شخص کی حمایت حاصل کرنا ان کے لیے کافی ہوگا تاکہ وہ یہ کہہ سکیں کہ ’دیکھو ہماری مہم کتنی کامیاب رہی‘۔‘
’اور یہ وہ مشکل ہے جس کا سامنا مغربی انٹیلیجنس اور قانون نافذ کرنے والے ادارے کر رہے ہیں جب وہ اس طرح کے خطرات سے نمٹنے کی کوشش کرتے ہیں۔‘
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
بدخشاں میں طالبان کے کمانڈ مرکز پر راکٹ حملہ، اے ایف ایف کا 4 اہلکار ہلاک کرنے کا دعویٰ
09/September/2026 👁️ 60 بار دیکھا گیا
ایران کا آبنائے ہرمز میں امریکی بغیر پائلٹ آبدوز قبضے میں لینے کا دعویٰ
09/September/2026 👁️ 59 بار دیکھا گیا
ایران کا اردن میں امریکی فوجی اڈے پر بیلسٹک میزائل حملے کا دعویٰ، 20 میزائل داغے جانے پر اردن کا بیان
09/September/2026 👁️ 75 بار دیکھا گیا
امریکا کا 5 ایرانی آئل ٹینکرز تباہ کرنے کا دعویٰ، حملوں کی ویڈیوز بھی جاری
09/September/2026 👁️ 68 بار دیکھا گیا
جنوبی وزیرستان میں 48 گھنٹوں کے لیے کرفیو نافذ، اہم شاہراہوں پر آمدورفت بند
09/September/2026 👁️ 67 بار دیکھا گیا
ایران : سیستان و بلوچستان میں سیکیورٹی آپریشن، 3 مبینہ دہشتگرد ہلاک، 9 گرفتار
08/September/2026 👁️ 109 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
ٹرمپ کا ایران کو آخری الٹی میٹم، ڈیل نہ ہوئی تو تباہ کن کارروائی کی دھمکی
04/August/2026 👁️ 26281 بار دیکھا گیاایران میں موساد کیلئے جاسوسی کا الزام، دو افراد کو پھانسی دے دی گئی
04/August/2026 👁️ 15528 بار دیکھا گیاحوثیوں کا سعودی عرب کے نجران ایئرپورٹ پر ڈرون حملہ
05/August/2026 👁️ 11816 بار دیکھا گیاجنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 9110 بار دیکھا گیایمن میں حوثی باغیوں کے میزائل اور ڈرون حملے، 36 فوجی اہلکار ہلاک
07/August/2026 👁️ 7401 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 5105 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C