جرمنی میں شامی انٹیلیجنس افسران کیخلاف زیر سماعت مقدمات
👁️ 67 بار دیکھا گیا
جرمنی میں شامی انٹیلیجنس افسران کیخلاف زیر سماعت مقدمات
برلن (ڈیلی اردو/ڈی پی اے/نیوز ایجنسیاں) جرمنی میں شامی خفیہ ایجنسی کےافسران پر انسانیت کے خلاف جرائم سےمتعلق مقدمات چلائے جا رہے ہیں۔ اس کارروائی کا مقصد ملزمان کےمبینہ جرائم کی تحقیقات کےساتھ ساتھ بشارالاسد کے تشدد اورجبر کے حکومتی نظام پر روشنی ڈالنا بھی ہے۔ 108 روز کی کارروائی کے بعد مغربی جرمن شہر کوبلینس میں ایک عدالت شام کے سابق انٹیلیجنس ایجنٹ ‘انور آر‘ کے خلاف مقدمے کا فیصلہ آئندہ جمعرات کو سنانے والی ہے۔ 58 سالہ انور شامی صدر بشار الاسد کے ظلم و جبر اور تشدد کے آلہ کار کے طور پر کام کرنے والی تنظیم کے ایک سینیئر رکن رہ چکے ہیں۔
انور آر کا تعارف
انور آر شامی خفیہ سروس کی برانچ 251 کے انچارج تھے اور کرنل کے عہدے پر فائز رہ چکے ہیں۔ ان کی ذمہ داریوں میں شامی دارالحکومت دمشق کی سکیورٹی کے معاملات بھی شامل تھے۔ شامی خفیہ سروس کی یہ برانچ ایک جیل کے برابر میں واقع تھی۔ عدالتی چارج شیٹ کے مطابق اس جیل میں ملزم انور کی قیادت میں اپریل 2011 ء اور ستمبر 2012 ء کے دوران چار ہزار قیدیوں کو قریب 500 روز کے اندر اندر تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔
گنج پن کا شکار 58 سالہ کرنل ایک متنازعہ شخصیت ہیں۔ دمشق کی برانچ 251 کی جیل میں قیدیوں کی زندگی اور موت سے کھیلنے میں مہارت سے پہلے انہوں نے شامی سکیورٹی سروس میں اپنے کیرئیر کا آغاز کیا تھا۔ تاہم 2013 ء کے اختتام تک وہ اسد حکومت کے کٹر مخالف بن چکے تھے اور ملک چھوڑ کر فرار ہو گئے تھے۔ بعد ازاں وہ شامی حکومت کے خلاف مزاحمت کے لیے مشیر بن گئے اور انہوں نے حزب اختلاف میں نمایاں کردار ادا کیا۔
جرمنی آمد
2014 ء میں شامی سکیورٹی سروس کے یہ سابق کرنل اپنے خاندان کے ساتھ جرمنی آ گئے۔ یہاں آ کر انہوں نے سیاسی پناہ کی درخواست جمع کرائی، رہائشی اجازت نامہ حاصل کیا اور برلن میں ایک نیا گھر بنا لیا۔ انور کو اس بات کا خوف تھا کہ شامی انٹیلیجنس ان کا پیچھا کر رہی تھی۔ اس خوف سے گھبرا کر انہوں نے جرمن پولیس سے رابطہ کیا۔ جرمن پولیس نے انور آر سے تفصیلی پوچھ گچھ کی۔ وہ شام میں گزارے ہوئے وقت کے بارے میں جرمن پولیس کے تمام تر سوالات کا جواب دینے کے خواہش مند تھے۔
تحقیقات کرنے والے جرمن حکام کے قریبی ذرائع نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ انور نے واضح طور پر کسی مقدمے کا سامنا کرنے کا تو تصور بھی نہیں کیا تھا۔ تفتیشی ٹیم کے مطابق وہ اپنی کہانیاں سناتے ہوئے بظاہر کسی بھی غلط کام یا جرم کے احساس سے قطعی مبرا نظر آ ئے۔ کئی مہینوں کی تفتیشی کارروائی کے بعد آخرکار جرمنی کے چیف فیڈرل پراسیکیوٹر آفس کی طرف سے فروری 2019 ء میں انور آر کو گرفتار کر لیا گیا۔
جرمن عدالت نے مجرم قرار دے دیا
شامی شہری انور کو جرمن عدالت نے تشدد اور ظلم و جبر کے ایک تاریخی مقدمے میں باقاعدہ مجرم قرار دے دیا۔ گرچہ جائے وقوعہ جرمنی سے بہت دور ہے لیکن مقدمے کی چھان بین کے دوران جمع کردہ شواہد کافی ہیں۔ مقدمے کے گواہان میں سے بہت سے بطور مہاجر جرمنی آئے اور اب ان میں سے کچھ جرمنی میں آباد ہو چکے ہیں۔ انور آر کے خلاف مقدمے میں 17 خواتین اور مردوں نے گواہی دی اور ان سب کو یورپی مرکز برائے آئینی اور انسانی حقوق (ECCHR) کی حمایت حاصل ہے۔ ان گواہان میں سے نو انور کے خلاف مقدمے کے مدعی ہیں۔
وکیل کا بیان
انور آر کے مقدمے کے وکیل وولفگانگ کالیک ہیں، جو برلن میں قائم ECCHR کے مرکز کے بانی بھی ہیں۔ انہیں اس امر کا بخوبی ادراک ہے کہ شامی نظام میں تشدد اور ایذا رسانی کی تفتیش اس کا شکار ہونے والوں کے لیے کتنی اہم ہے۔ کالیک نے ڈوچے ویلے سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ 2020 ء میں مقدمے کی سماعت شروع ہونے کے بعد تشدد کا نشانہ بننے والوں میں سے ایک کا کہنا تھا،” میں 2015 ء میں یہاں پناہ گزین کی حیثیت سے آیا تھا۔ ایک ایسے شخص کے طور پر جو بغیر کسی حق کے، حتیٰ کہ اپنے وجود کے تحفظ کے حق کے بغیر۔ یہ مقدمہ مجھے میری زندگی واپس کر دے گا۔‘‘
انصاف کی امید
جرمن وکیل استغاثہ نے جنسی زیادتی، سنگین جنسی حملوں، مار پیٹ اور جسمانی حملوں کے ساتھ ساتھ انسانوں کو بجلی کے جھٹکے لگانے سمیت کئی جرائم کی فہرست پیش کر دی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق کم از کم 58 قیدی بدسلوکی اور ایذا رسانی کے سبب ہلاک ہو گئے۔ ایک اور ملزم ایاد اے کو پہلے ہی گزشتہ فروری میں سزا سنا دی گئی تھی۔ شامی خفیہ سروس کے اس سابق ایجنٹ کو انسانیت کے خلاف جرائم میں مدد اور تشدد کی کارروائیوں میں مدد اور اس کی حوصلہ افزائی کے الزام میں ساڑھے چار سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔
متوقع فیصلہ
آئندہ جمعرات کو متوقع عدالتی فیصلے سے ایک ہفتہ قبل انور آر کی دفاعی ٹیم نے کہا کہ اس ملزم کو بری کر دیا جانا چاہیے۔ کوبلینس کی اعلیٰ علاقائی عدالت کے سامنے اپنی درخواست میں انور کے وکیل یورگ فراٹزکی نے کہا کہ ملزم نے نہ تو تشدد کیا تھا اور نہ ہی تشدد کرنے کی ہدایات دی تھیں۔ اس کے برعکس انور نے تو قیدیوں کی رہائی کا انتظام تک کیا تھا۔ وکیل صفائی کے مطابق ملزم عدالتی کارروائی کے آغاز سے ہی اپنے خلاف الزامات کی تردید کرتا آیا ہے۔
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
امریکہ ایران معاہدہ مکمل، آبنائے ہرمز کھل گئی، صدر ٹرمپ کا اعلان
15/June/2026 👁️ 123 بار دیکھا گیا
امریکہ اور ایران کے درمیان امن معاہدہ طے پا گیا، پاکستانی وزیراعظم
15/June/2026 👁️ 127 بار دیکھا گیا
غزہ میں اسرائیلی حملوں میں 6 فلسطینی ہلاک
15/June/2026 👁️ 105 بار دیکھا گیا
بیروت پر اسرائیلی حملے کے بعد ایران کا سخت ردعمل
15/June/2026 👁️ 113 بار دیکھا گیا
خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے 10 واقعات میں مائننگ بارودی مواد کے استعمال کا انکشاف
15/June/2026 👁️ 172 بار دیکھا گیا
بیروت پر اسرائیلی حملہ، حزب اللہ کے سینئر کمانڈر علی موسی دقدوق 5 ساتھیوں سمیت ہلاک
15/June/2026 👁️ 107 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
جنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 8827 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 4552 بار دیکھا گیاپاکستانی طیاروں کا کابل، پکتیکا، خوست اور جلال آباد میں فضائی حملہ، متعدد ہلاکتیں
10/October/2025 👁️ 3267 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ کے انتہائی مطلوب کمانڈر تہران طوری کے حملے میں پولیس افسر ہلاک
15/August/2025 👁️ 2448 بار دیکھا گیاکیا آپ کو معلوم ہے خام تیل کے ایک بیرل سے کتنے لیٹر پٹرول اور ڈیزل بنتا ہے؟
01/February/2019 👁️ 2086 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ نے پولیس افسر قیصر حسین کی ہلاکت کی ذمہ داری قبول کرلی
26/August/2025 👁️ 1895 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C