12/April/2026

جنگ بندی کیلئے سب سے بڑا خطرہ ایران کے اندر موجود سخت گیر عناصر قرار

👁️ 132 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
جنگ بندی کیلئے سب سے بڑا خطرہ ایران کے اندر موجود سخت گیر عناصر قرار

جنگ بندی کیلئے سب سے بڑا خطرہ ایران کے اندر موجود سخت گیر عناصر قرار

تہران (ڈیلی اردو/نیوز ایجنسیاں) ایرانی اور امریکی مذاکرات کاروں کے مابین اسلام آباد میں اہم مذاکرات  کے حوالے سے ایران نے عوامی سطح پر محتاط رویہ اختیار کر رکھا ہے، تاہم ایران میں صورتحال کہیں زیادہ پیچیدہ دکھائی دیتی ہے۔ جنگی حالات نے بظاہر ایک متحد نظام کا تاثر پیدا کیا ہے لیکن حقیقت میں اس کے پس پردہ اختلافات کے آثار نمایاں ہیں۔

 

کچھ سخت گیر حلقے یہ سمجھتے ہیں کہ ایران کو برتری حاصل ہے اور اسے مفاہمت کے بجائے دباؤ برقرار رکھنا چاہیے، جبکہ جنگ بندی اور پائیدار امن کے حامی عناصر کو کمزور یا مصالحت پسند قرار دیے جانے کا خطرہ ہے۔

 

ایسی جنگ بندی جس پر مکمل اتفاق نہیں

عارضی جنگ بندی کے اعلان کے بعد ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے بیان میں یہ تناؤ واضح نظر آیا، جس میں کسی کا نام لیے بغیر تمام فریقوں کو اختلافات کو ہوا دینے سے گریز کرنے کی تاکید کی گئی۔ یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ قیادت کو اندرونی تقسیم کا خدشہ ہے۔

 

ماضی میں سپریم لیڈر کا دفتر ایسے اختلافات کو آسانی سے حل کر لیتا تھا لیکن اب صورتحال زیادہ پیچیدہ دکھائی دیتی ہے۔ جنگ کے پہلے دن اپنے والد کی ہلاکت کے بعد سپریم لیڈر بننے والے مجتبیٰ خامنہ ای عوامی منظرنامے سے غائب ہیں، جس سے ان کی حیثیت کے بارے میں قیاس آرائیاں بڑھ رہی ہیں۔

 

ماہرین کے مطابق ایران میں کسی واضح ثالث کی عدم موجودگی، جو مختلف دھڑوں کو یکجا کر سکے، معمولی اختلافات کو سنگین عدم استحکام میں بدل سکتی ہے۔

 

سخت گیر عناصر جنگ کیوں چاہتے ہیں؟

 

جنگ بندی کے لیے سب سے بڑا خطرہ ان عناصر سے ہے، جو مفاہمت کے بجائے محاذ آرائی کو زیادہ مفید سمجھتے ہیں۔ ایران کے ایک سیاسی کارکن، جو پہلے اصلاح پسند حلقے سے وابستہ تھے لیکن اب خود کو غیر جانبدار قرار دیتے ہیں، نے ڈوئچے ویلے کو بتایا کہ حکومت کو خدشہ ہے کہ سخت گیر عناصر مزید سخت مؤقف اپنا سکتے ہیں اور پہلے سے کمزور ریاستی ڈھانچے کو چیلنج کر سکتے ہیں۔

 

ان کے مطابق حالیہ دنوں میں عوامی بے چینی کے خدشے کے پیش نظر حکام نے اپنے حامی گروہوں میں اسلحہ بھی تقسیم کیا ہے۔ انہوں نے کہا، ''وہ عوامی بغاوت سے خوفزدہ ہیں‘‘ اور یہاں تک کہ  ''12 اور 13 سال کے بچے‘‘ بھی سڑکوں پر متحرک نظر آ رہے ہیں۔

 

اس صورتحال میں مفاہمت کو عوامی سطح پر قبول کروانا مزید مشکل ہو جاتا ہے، جہاں اسے ضرورت کے بجائے ہتھیار ڈالنے کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔

 

ایران کی تاریخ بھی ایک تنبیہ  دیتی ہے۔ 1980ء کی دہائی میں ایران اور عراق کی جنگ کے بعد جنگ بندی کے حامی افراد کو برسوں تنقید کا نشانہ بنایا گیا، حالانکہ اس وقت ایران میں اسلامی انقلاب کے معمار اور سپریم لیڈر آیت اللہ روح اللہ خمینی نے خود اسے ''زہر کا پیالہ‘‘ قرار دے کر قبول کیا تھا۔

 

نظام کے اندر بڑھتی ہوئی خلیج؟

 

دوسری جانب ایرانی نظام کے اندر ایسے عناصر بھی موجود ہیں، جو جنگ بندی کو برقرار رکھنے کے حامی دکھائی دیتے ہیں۔ سیاسی کارکن رضا علیجانی کے مطابق پاکستان نے کھل کر جبکہ چین نے پس پردہ تہران کو اس معاہدے کی طرف مائل کرنے میں کردار ادا کیا۔

 

تاہم ان کے خیال میں اصل دباؤ ایران کی اپنی محدود صلاحیتوں سے آیا ہے۔ انہوں نے کہا، ''اسلامی جمہوریہ کے پاس عسکری صلاحیت تو ہے، لیکن طویل جنگ کے لیے معاشی وسائل ناکافی ہیں۔‘‘

 

ان کے مطابق اسی فرق  نے عسکری اور سیاسی و انتظامی دھڑوں کے درمیان خلیج کو بڑھا دیا ہے، جو فیصلہ سازی پر اثر انداز ہو رہی ہے اور مستقبل کی سمت کا تعین کرے گی۔

 

پائیدار امن کے لیے کیا ضروری ہے؟

 

ایران کے اسٹریٹیجک ریسرچ سینٹر کے سابق عہدیدار بابک دربیکی کے مطابق پائیدار جنگ بندی اسی صورت ممکن ہے، جب مذاکرات محض  بحران سے وقتی طور پر نمٹنے کے بجائے مزید آگے بڑھیں۔

 

انہوں نے کہا کہ یہ تبھی ممکن ہے جب اسلام آباد مذاکرات ''کرائسز مینجمنٹ‘‘ کے بجائے ''تعلقات کے اسٹریکچر میں تبدیلی‘‘ کی طرف جائیں۔

 

ان کے مطابق دیرپا امن کے لیے ایران کو نظریاتی محاذ آرائی ترک کرنا ہوگی، علاقائی سلامتی کا نیا فریم ورک تشکیل دینا ہوگا اور اپنے اندرونی مفادات کو اس طرح ازسرنو متعین کرنا ہوگا کہ 'نظام کی بقا بیرونی کشیدگی پر منحصر نہ رہے‘۔

 

تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ ایرانی قیادت کے کچھ حلقے بیرونی کشیدگی کو اپنے اندرونی سیاسی مفادات کے لیے مفید سمجھتے ہیں، جس کے باعث یہ عمل آسان نہیں ہوگا۔

 

اس پس منظر میں ایک نازک جنگ بندی کو پائیدار امن میں بدلنے کے لیے نہ صرف ایران اور امریکہ کے درمیان معاہدہ ضروری ہوگا بلکہ اسلامی جمہوریہ کے اندر موجود تمام بااثر حلقوں کی حمایت بھی درکار ہوگی۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C