08/October/2019

حکمران کشمیر کے بعد ملک کا ہر اثاثہ بیچ رہے ہیں، خوف ہے کہ پاکستان کو بھی نہ بیچ دیں: رہبر کمیٹی

👁️ 69 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
حکمران کشمیر کے بعد ملک کا ہر اثاثہ بیچ رہے ہیں، خوف ہے کہ پاکستان کو بھی نہ بیچ دیں: رہبر کمیٹی

حکمران کشمیر کے بعد ملک کا ہر اثاثہ بیچ رہے ہیں، خوف ہے کہ پاکستان کو بھی نہ بیچ دیں: رہبر کمیٹی

اسلام آباد (ڈیلی اردو) حزب اختلاف کی رہبر کمیٹی کے کنونیئر اکرم خان درانی نے کہا ہے کہ حکمران کشمیر کے بعد ملک کا ہر اثاثہ بیچ رہے ہیں، خوف ہے کہ پاکستان کو بھی نہ بیچ دیں۔

اپوزیشن جماعتیں حکومت کا خاتمہ اور وزیراعظم کے استعفے کے بعد فوری انتخابات چاہتی ہیں۔ رہبر کمیٹی اجلاس کے بعد ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو میں اکرم خان درانی نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کی سربراہی میں آل پارٹیز کانفرنسز ہوئیں جن میں فیصلہ کیا گیا کہ اس حکومت کا خاتمہ کرنا ہے۔

اکرم خان درانی نے کہا کہ اس حکومت نے لوگوں کو بیروزگار کیا اور کارخانے بند ہیں،مزدور طبقے کو روزگار نہیں مل رہا، کے پی کے کے تمام ڈاکٹرز 12 روز سے ہڑتال پر ہیں۔ 22 ہزار اساتذہ احتجاج پر ہیں۔ میڈیا پر قدغن لگائی جا رہی ہے۔

جے یو آئی رہنما نے کہا کہ اسٹیل مل اور پی آئی اے کی نجکاری کا کہہ رہے ہیں، یہ کشمیر کے بعد ملک کے ہر اثاثے کو بیچ رہے ہیں، خوف ہے کہ پاکستان کو بھی نہ بیچ دیں۔

اس موقع پر اے این پی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار نے کہا کہ تمام اپوزیشن ایک ساتھ اسلام آباد آئے گی۔ اپوزیشن اکٹھی ہے۔ میڈیا حکومت کو راستہ نہ دے کسی اور کو خوش نہ کرے، 27 اکتوبر کو تمام اپوزیشن ایک پیج پر حکومت کا دھڑن تختہ کرے گی۔ ایک سوال کے جواب میں اپوزیشن رہنما نے کہا کہ حزب اختلاف کی تمام جماعتیں اس بات پر متفق ہیں کہ اس حکومت کا فوری خاتمہ ہو اور وزیراعظم مستعفی ہوجائیں۔

اکرم خان درانی نے کہا کہ فوری طور پر نئے انتخابات کرانے اور ان میں اداروں کی کسی قسم کی مداخلت نہ کرنے کا بھی مطالبہ ہے۔جے یو آئی کے رہنما نے کہا کہ احتجاج ہمارا آئینی حق ہے پہلے بھی بہت احتجاج کیے،جتنے مارچ جے یو آئی نے کیے کوئی شیشہ نہ ٹوٹا۔دوسری طرف انہوں نے پہلے سرکاری ٹی وی پر حملہ کیا۔ پھر پارلیمنٹ پر چڑھ دوڑے۔

مسلم لیگ ن کے رہنما احسن اقبال نے کہا ہے کہ حکومت نے سی پیک اتھارٹی کا آرڈیننس جاری کیا ہے،حکومت پارلیمنٹ کو مسلسل نظرانداز کرکے بیک ڈور قانون سازی کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک پارلیمانی کمیٹی نے اتفاق رائے سے بل کو مستعد کرکے نظرثانی کا کہا تھا،سی پیک جیسے منصوبے کو متنازع کرنے کی کوشش کی ہے۔احسن اقبال نے کہا کہ سی پیک اتھارٹی سے وزارتوں کے دوران رسہ کشی شروع ہوجائے گی، سی پیک کو اتھارٹی نہیں فنڈز کی ضرورت ہے۔

ایم ایل ون بنانے کیلئے سالانہ سو ارب سے زائد بجٹ درکار ہے،اس سال ریلوے کا ترقیاتی بجٹ چالیس ارب سے سولہ ارب کر دیا گیا۔ حکومت نے قومی منصوبے پر ملک دشمنی کا مظاہرہ کیا ہے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C