09/March/2026

خامنہ ای کا بیٹا مجتبیٰ خامنہ ای ایران کے نئے سپریم لیڈر منتخب

👁️ 192 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
خامنہ ای کا بیٹا مجتبیٰ خامنہ ای ایران کے نئے سپریم لیڈر منتخب

خامنہ ای کا بیٹا مجتبیٰ خامنہ ای ایران کے نئے سپریم لیڈر منتخب

تہران/واشنگٹن (ڈیلی اردو/نیوز ایجنسیاں) ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق ایران کی مجلسِ خبرگانِ رہبری نے مجتبیٰ خامنہ ای کو اسلامی جمہوریہ ایران کا نیا سپریم لیڈر منتخب کر لیا ہے۔ وہ اپنے والد آیت اللہ علی خامنہ ای کے جانشین ہوں گے، جو تہران میں اپنے کمپاؤنڈ پر امریکی اور اسرائیلی بمباری میں ہلاک ہو گئے تھے۔

 

ایرانی سرکاری ٹی وی پر مجلسِ خبرگانِ رہبری کے فیصلے سے متعلق بیان اینکر کی جانب سے پڑھ کر سنایا گیا۔ بیان میں کہا گیا کہ شدید جنگی حالات اور اس ادارے کے خلاف دشمنوں کی براہِ راست دھمکیوں کے باوجود قیادت کے انتخاب کے عمل میں ایک لمحے کی بھی تاخیر نہیں کی گئی۔

 

بیان کے مطابق مجلسِ خبرگان کے سیکریٹریٹ کے دفاتر پر بمباری کے نتیجے میں عملے اور سکیورٹی ٹیم کے کئی ارکان ہلاک ہوئے، تاہم اس کے باوجود اسلامی نظام کی قیادت کے انتخاب اور تعارف کا عمل مکمل کر لیا گیا۔

 

ایران کے آئین کے مطابق مجلسِ خبرگانِ رہبری وہ ادارہ ہے جسے ملک کے سپریم لیڈر کے انتخاب کا اختیار حاصل ہے۔

 

امریکہ کا ردعمل

 

اس سے قبل امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ اگر علی خامنہ ای کے جانشین کے طور پر مجتبیٰ خامنہ ای کا انتخاب کیا جاتا ہے تو یہ امریکہ کے لیے ’’ناقابل قبول‘‘ ہوگا۔

 

خبر رساں اداروں کو دیے گئے انٹرویوز میں ٹرمپ نے کہا تھا کہ ایران کے نئے سپریم لیڈر کے انتخاب میں امریکہ کا بھی کردار ہونا چاہیے۔ تاہم انہوں نے یہ اعتراف بھی کیا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ ای اس عہدے کے لیے سب سے مضبوط امیدوار سمجھے جا رہے تھے۔

 

ایران کا مؤقف

 

ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری علی لاریجانی نے کہا ہے کہ ایران کے دشمنوں کو امید تھی کہ علی خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد ملک سیاسی تعطل کا شکار ہو جائے گا، لیکن مجلسِ خبرگان نے قیادت کے انتخاب کا عمل مکمل کر کے ان توقعات کو ناکام بنا دیا۔

 

دوسری جانب پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے جاری بیان میں مجتبیٰ خامنہ ای کے لیے احترام، عقیدت اور اطاعت کا اعلان کیا گیا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ پاسدارانِ انقلاب نئے سپریم لیڈر کے احکامات پر عمل کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔

 

مجتبیٰ خامنہ ای کون ہیں؟

 

مجتبیٰ خامنہ ای آٹھ ستمبر 1969 کو ایران کے شمال مشرقی شہر مشہد میں پیدا ہوئے۔ وہ علی خامنہ ای کے چھ بچوں میں دوسرے نمبر پر ہیں۔

 

انہوں نے اپنی ثانوی تعلیم تہران کے مذہبی علوی اسکول سے حاصل کی۔ ایرانی میڈیا کے مطابق 17 سال کی عمر میں انہوں نے ایران عراق جنگ کے دوران مختصر مدت کے لیے فوج میں خدمات انجام دیں۔

 

سنہ 1999 میں وہ دینی تعلیم کے لیے قم منتقل ہوئے، جو شیعہ مذہبی تعلیم کا ایک اہم مرکز سمجھا جاتا ہے۔ وہ اس وقت درمیانے درجے کے عالم دین سمجھے جاتے ہیں۔

 

محدود عوامی کردار مگر اثر و رسوخ

 

اپنے والد کے برعکس مجتبیٰ خامنہ ای زیادہ عوامی شخصیت نہیں رہے۔ انہوں نے کبھی کوئی سرکاری عہدہ نہیں سنبھالا اور نہ ہی عام طور پر میڈیا میں ان کی تقاریر یا انٹرویوز سامنے آئے ہیں۔

 

تاہم طویل عرصے سے یہ تاثر موجود رہا ہے کہ حکومتی حلقوں میں علی خامنہ ای تک رسائی اکثر مجتبیٰ کے ذریعے ہوتی تھی۔

 

امریکی سفارتی کیبلز، جو بعد میں وکی لیکس نے شائع کیں، میں انہیں حکومت کے اندر ’’پردے کے پیچھے طاقت‘‘ قرار دیا گیا تھا اور انہیں ایک بااثر شخصیت سمجھا جاتا تھا۔

 

سیاسی تنازعات

 

مجتبیٰ خامنہ ای کا نام پہلی مرتبہ سنہ 2005 کے صدارتی انتخابات کے دوران سامنے آیا تھا جب محمود احمدی نژاد ایران کے صدر منتخب ہوئے تھے۔

 

اصلاح پسند رہنما مہدی کروبی نے ایک کھلے خط میں الزام لگایا تھا کہ مجتبیٰ نے پاسدارانِ انقلاب اور بسیج ملیشیا کے ذریعے انتخابی عمل میں مداخلت کی۔

 

اسی طرح 2009 کے متنازع صدارتی انتخابات کے بعد ملک بھر میں شروع ہونے والی گرین موومنٹ کے دوران بھی ان پر سیاسی مداخلت کے الزامات لگائے گئے تھے۔

 

مستقبل کے چیلنجز

 

سیاسی مبصرین کے مطابق مجتبیٰ خامنہ ای کو ایک ایسے وقت میں قیادت سنبھالنا پڑی ہے جب ایران شدید سیاسی، معاشی اور عسکری دباؤ کا سامنا کر رہا ہے۔

 

بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر وہ اپنے والد کی سخت گیر پالیسیوں کو جاری رکھتے ہیں تو مغرب کے ساتھ کشیدگی برقرار رہ سکتی ہے۔ دوسری جانب بعض حلقوں کا خیال ہے کہ ان کی تقرری سے ایران میں موروثی حکمرانی کا تاثر بھی مضبوط ہو سکتا ہے۔

 

ادھر اسرائیلی وزیر دفاع پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ علی خامنہ ای کے کسی بھی جانشین کو نشانہ بنانا اسرائیل کا واضح ہدف ہوگا۔

 

یوں کئی دہائیوں تک اپنے والد کے سائے میں کام کرنے والے مجتبیٰ خامنہ ای اب ایران کے نئے سپریم لیڈر بن چکے ہیں اور انہیں ایک ایسے وقت میں قیادت سنبھالنی پڑی ہے جب ملک کو داخلی اور خارجی دونوں سطح پر بڑے چیلنجز کا سامنا ہے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C