روس نیٹو پر جب چاہے محدود حملہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے
👁️ 280 بار دیکھا گیا
روس نیٹو پر جب چاہے محدود حملہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے
ماسکو (ڈیلی اردو/روئٹرز) ایک اعلیٰ جرمن فوجی عہدیدار نے خبردار کیا ہے کہ روس کے پاس کسی بھی وقت نیٹو کے علاقے پر محدود حملہ کرنے کی صلاحیت موجود ہے، تاہم کارروائی کا فیصلہ مغربی اتحادیوں کے ردِعمل پر منحصر ہو گا۔
لیفٹیننٹ جنرل الیگزینڈر سولفرانک نے خبر رساں ایجنسی روئٹرز کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا، ''اگر آپ روس کی موجودہ صلاحیتوں اور جنگی طاقت کو دیکھیں تو روس کل ہی سے نیٹو کے علاقے پر ایک محدود پیمانے کا حملہ شروع کر سکتا ہے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، ''یہ کوئی بڑا حملہ نہیں ہو گا، چھوٹا، تیز اور علاقائی سطح تک محدود رہے گا۔ روس اس وقت یوکرین میں بری طرح مصروف ہے، اس لیے بڑے حملے کا امکان نہیں۔‘‘
سولفرانک، جو جرمنی کے مشترکہ آپریشنز کمانڈ کے سربراہ ہیں اور دفاعی منصوبہ بندی کی نگرانی کرتے ہیں، نے یہ بھی کہا کہ اگر روس نے اپنے اسلحہ سازی کے منصوبے جاری رکھے، تو وہ ممکنہ طور پر 2029 تک نیٹو پر ایک بڑے پیمانے کا حملہ کرنے کی پوزیشن میں ہو سکتا ہے۔ یہ ایک ایسا انتباہ ہے جو نیٹو کے اپنے خدشات سے میل کھاتا ہے۔
روس کے صدر ولادیمیر پوٹن نے ان الزامات کی تردید کی کہ ان کے ملک کے عزائم جارحانہ ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ 2022 میں یوکرین پر روس کا مکمل حملہ دراصل نیٹو کی توسیع پسندانہ پالیسیوں کے دفاع میں کیا گیا اقدام تھا۔
روس کے پاس حملے کی صلاحیت اب بھی موجود
برلن کے شمالی حصے میں واقع اپنے ہیڈکوارٹرز، جو ایک وسیع فوجی بیرک ہے، میں گفتگو کرتے ہوئے سولفرانک نے کہا کہ یوکرین میں ناکامیوں کے باوجود روس کی فضائیہ اب بھی قابلِ ذکر جنگی طاقت رکھتی ہے، اور اس کے ایٹمی اور میزائل دستے بدستور مکمل طور پر فعال ہیں۔
لیفٹیننٹ جنرل الیگزینڈر سولفرانک نے کہا کہ اگرچہ بحیرۂ اسود کے بحری بیڑے کو نمایاں نقصان پہنچا ہے، لیکن روس کے دیگر بیڑے متاثر نہیں ہوئے۔
انہوں نے کہا، ''زمینی افواج کو نقصان ضرور ہوا ہے، لیکن روس کا کہنا ہے کہ وہ اپنے کل فوجی اہلکاروں کی تعداد 15 لاکھ تک بڑھانے کا ارادہ رکھتا ہے۔‘‘
سولفرانک نے مزید کہا، ''روس کے پاس اتنے اہم جنگی ٹینک موجود ہیں کہ ایک محدود حملے کا تصور کل ہی ممکن ہو سکتا ہے، اگرچہ انہوں نے واضح کیا کہ فی الحال ایسا کوئی حملہ زیر غور نہیں ہے۔‘‘
سولفرانک 2024 میں قائم کیے گئے جرمنی کے مشترکہ آپریشنز کمانڈ کے سربراہ ہیں۔ اس کمانڈ کا قیام ایک بڑی حکمتِ عملی تبدیلی کی علامت تھا۔ یعنی افغانستان یا مالی جیسے بیرونی مشنز سے ہٹ کر اب توجہ نیٹو کے اپنے علاقے کے دفاع پر مرکوز کرنا۔
نیٹو کے خدشات
حال ہی میں پولینڈ کی فضائی حدود میں روسی ڈرونز کی دراندازیوں نے مغربی ممالک میں روسی جارحیت کے خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔
اسی سال کے اوائل میں برلن نے اپنی آئینی قرض کی حد میں نرمی کی تاکہ وہ نیٹو کے نئے فوجی اخراجات کے ہدف، یعنی 2029 تک قومی پیداوار کا 3.5 فیصد، کو پورا کر سکے۔ اس اقدام سے دفاعی بجٹ 2025 میں 100 ارب یورو سے بڑھ کر 2029 میں تقریباً 160 ارب یورو (187 ارب ڈالر) تک پہنچ جائے گا۔
اس کے علاوہ، جرمنی نے اپنی مسلح افواج میں 60,000 مزید اہلکار شامل کرنے کا منصوبہ بنایا ہے، جس سے کل فوجی نفری تقریباً دو لاکھ ساٹھ ہزار تک پہنچ جائے گی۔
روس کب حملہ کر سکتا ہے؟
لیفٹیننٹ جنرل الیگزینڈر سولفرانک نے کہا کہ یہ فیصلہ کہ آیا ماسکو نیٹو پر حملہ کرنے کا انتخاب کرے گا یا نہیں، تین عوامل پر منحصر ہو گا۔ یہ ہیں روس کی فوجی طاقت، اس کی جنگی کارکردگی، اور اس کی قیادت۔
انہوں نے کہا کہ یہ تینوں عوامل مجھے اس نتیجے پر پہنچاتے ہیں کہ روسی حملہ ممکنات کے دائرے میں ہے۔ لیکن ''یہ ہوگا یا نہیں، یہ بڑی حد تک ہمارے اپنے طرزِ عمل پر منحصر ہے۔‘‘
انہوں نے اشارہ کرتے ہوئے مزید کہا کہ نیٹو کی مزاحمتی حکمتِ عملی اس میں کلیدی کردار ادا کرے گی۔
جنرل نے اس بات پر زور دیا کہ ماسکو کی ہائبرڈ جنگی حکمتِ عملی، جس میں ڈرون حملے اور دراندازیاں شامل ہیں، کو ایک مربوط حکمتِ عملی کا حصہ سمجھنا چاہیے، جس میں یوکرین کی جنگ بھی شامل ہے۔
انہوں نے کہا، ''روسی اسے 'نان لینیئر وار فیئر‘ کہتے ہیں۔ ان کے نظریے کے مطابق، یہ وہ جنگ ہے جو روایتی ہتھیاروں کے استعمال سے پہلے لڑی جاتی ہے۔ اور جب وہ ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال کی دھمکی دیتے ہیں، تو یہ دراصل خوف اور دباؤ کے ذریعے جنگ ہے۔‘‘
سولفرانک نے مزید کہا کہ روس کا مقصد نیٹو کو مشتعل کرنا اور اس کے ردِعمل کا اندازہ لگانا ہے، تاکہ وہ ''غیر یقینی کی فضا پیدا کرے، خوف پھیلائے، نقصان پہنچائے، جاسوسی کرے، اور اتحاد (نیٹو) کی مزاحمتی صلاحیت کو پرکھے۔‘‘
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
بنوں : دہشتگردوں کے ٹھکانوں کے خلاف آپریشن، دھماکا خیز مواد برآمد، متعدد مشتبہ افراد گرفتار
21/October/2026 👁️ 29 بار دیکھا گیا
امریکہ نے مفاہمت میں سنجیدگی نہیں دکھائی، ایران سفارت کاری اور دفاع دونوں کے لیے تیار ہے ،عباس عراقچی
21/October/2026 👁️ 45 بار دیکھا گیا
ایران نواز حوثی باغیوں کے عدن اور المکلا میں حملے، عدن ایئرپورٹ کے قریب فوجی مرکز کو میزائل سے نشانہ بنانے کا دعویٰ
21/October/2026 👁️ 51 بار دیکھا گیا
شمالی کوریا کی سرحدی تنصیبات کا معائنہ، کم جونگ اُن کی بہن کی جنوبی کوریا کو سخت ردعمل کی دھمکی
21/October/2026 👁️ 28 بار دیکھا گیا
سعودی عرب کی جانب پانچ ڈرون تباہ کرنے کا دعویٰ، حوثیوں کی حملے کی تردید: مدینہ منورہ کے قریب میزائل واقعے پر بھی اختلاف
21/October/2026 👁️ 53 بار دیکھا گیا
کرم میں سکیورٹی فورسز کا انٹیلی جنس آپریشن، 5 دہشتگرد ہلاک
21/October/2026 👁️ 48 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
ٹرمپ کا ایران کو آخری الٹی میٹم، ڈیل نہ ہوئی تو تباہ کن کارروائی کی دھمکی
04/August/2026 👁️ 26388 بار دیکھا گیاایران میں موساد کیلئے جاسوسی کا الزام، دو افراد کو پھانسی دے دی گئی
04/August/2026 👁️ 15625 بار دیکھا گیاحوثیوں کا سعودی عرب کے نجران ایئرپورٹ پر ڈرون حملہ
05/August/2026 👁️ 11921 بار دیکھا گیاجنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 9275 بار دیکھا گیایمن میں حوثی باغیوں کے میزائل اور ڈرون حملے، 36 فوجی اہلکار ہلاک
07/August/2026 👁️ 7534 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 5489 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C