19/December/2025

روس نے 1,003 فوجیوں کی باقیات یوکرین کے حوالے کر دیں

👁️ 215 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
روس نے 1,003 فوجیوں کی باقیات یوکرین کے حوالے کر دیں

روس نے 1,003 فوجیوں کی باقیات یوکرین کے حوالے کر دیں

ماسکو (ڈیلی اردو ) روس نے ایک ہزار سے زائد افراد کی باقیات یوکرین کے حوالے کر دی ہیں، جن کے بارے میں ماسکو کا دعویٰ ہے کہ وہ یوکرینی فوجی تھے جو روسی افواج کے ساتھ لڑائی کے دوران ہلاک ہوئے۔ یہ بات کیف میں جنگی قیدیوں کے امور کے لیے قائم رابطہ کاری ہیڈکوارٹر نے بتائی ہے۔

 

اس ادارے نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ روس نے یوکرینی فوجی قرار دیے جانے والے 1,003 افراد کی لاشیں یوکرین کے حوالے کی ہیں۔

 

دوسری جانب کریملن کے معاون ولادیمیر میڈنسکی نے تصدیق کی ہے کہ روسی فریق کو بھی 26 روسی فوجیوں کی باقیات واپس ملی ہیں۔ فوجیوں کی باقیات کا یہ تبادلہ ان چند معاملات میں شامل ہے جہاں دونوں ممالک شدید عسکری کشیدگی کے باوجود محدود تعاون برقرار رکھے ہوئے ہیں۔

 

روس نے 2 مارچ 2022 کو یوکرین کے جنوبی شہر خیرسون پر قبضے کا دعویٰ کیا تھا۔ اس کے بعد مارچ کے اوائل میں روسی افواج نے خیرسون کے ساتھ ساتھ پڑوسی علاقے زاپورزیا کے بیشتر حصوں کا کنٹرول بھی حاصل کر لیا اور اسی دوران یورپ کے سب سے بڑے جوہری بجلی گھر، زاپورزیا نیوکلیئر پاور پلانٹ، پر بھی قبضہ کر لیا گیا۔

 

تاہم بعد ازاں کیف کی جانب بڑھنے والے روسی فوجی قافلے اہم شاہراہوں پر پھنس گئے، جہاں وہ یوکرینی توپ خانے اور ڈرون حملوں کا نشانہ بنے۔

 

16 مارچ 2022 کو روس نے یوکرین کے اہم ساحلی شہر ماریوپول پر شدید حملہ کیا، جس میں سینکڑوں افراد ہلاک ہوئے۔ یہ حملہ جنگ کے سب سے خونی واقعات میں شمار کیا جاتا ہے۔

بعد ازاں 29 مارچ کو روس نے کیف کے اطراف سے اپنی فوجیں واپس بلاتے ہوئے اعلان کیا کہ اس کی توجہ اب یوکرین کے مشرقی صنعتی خطے ڈونباس پر مرکوز ہے۔

 

ڈونباس میں روس کی حمایت یافتہ علیحدگی پسند فورسز 2014 میں کرائمیا کے روس سے غیر قانونی الحاق کے بعد سے یوکرینی افواج کے ساتھ برسرپیکار ہیں۔

 

مئی 2022 میں روس کو ماریوپول میں اہم عسکری کامیابی حاصل ہوئی، جہاں ازووسٹل اسٹیل فیکٹری میں موجود یوکرینی فورسز نے تقریباً تین ماہ طویل محاصرے کے بعد ہتھیار ڈال دیے۔ یہ فیکٹری شہر کا آخری مضبوط دفاعی مرکز سمجھی جاتی تھی۔

 

ماریوپول کے سقوط کے بعد یوکرین کا بحیرۂ ازوو سے زمینی رابطہ منقطع ہو گیا، جبکہ روس کو کرائمیا تک ایک محفوظ زمینی راہداری حاصل ہو گئی۔

 

جون 2022 میں یوکرین کے مغربی اتحادیوں نے اسے مزید دفاعی امداد فراہم کرنا شروع کر دی۔ امریکہ نے یوکرین کو ہمارس (HIMARS) ملٹی پل راکٹ لانچر سسٹمز فراہم کیے۔

اسی دوران 30 جون 2022 کو روس نے بحیرۂ اسود میں واقع اسنیک آئی لینڈ کو خالی کر دیا اور اس کی افواج پسپا ہو کر جنگ کے آغاز کی پوزیشنوں پر واپس چلی گئیں۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C