روس کی طالبان کو دہشت گردوں کی فہرست سے نکالنے کی تیاری
👁️ 79 بار دیکھا گیا
روس کی طالبان کو دہشت گردوں کی فہرست سے نکالنے کی تیاری
ماسکو (ڈیلی اردو/اے ایف پی/ڈی پی اے) روسی پارلیمنٹ نے آج بروز منگل کو ایک ایسے بل کی منظوری دی ہے، جس سے ماسکو کے لیے افغان طالبان کو کالعدم ”دہشت گرد‘‘ تنظیم کے درجے سے ہٹانے کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔ ماسکو نے 2021 میں امریکہ کے افغانستان سے افراتفری میں انخلاء کے بعد وہاں حکمران طالبان کے ساتھ تعلقات کو فروغ دیا ہے۔ روسی حکام اس پیشرفت کے بعد سے طالبان کو ماسکو کی کالعدم ”دہشت گرد‘‘ گروپوں کی فہرست سے نکالنے پر زور دیتے آئے ہیں۔
روسی پارلیمان کے ایوان زیریں ڈوما نے جس بل کی منظوری دی ہے اس میں دہشت گرد قرار دیے گئے گروہوں کو قانونی طور پر اس فہرست سے نکالے جانے کے طریقہ کار کا خاکہ پیش کیا گیا ہے۔ اسی طریقہ کار کی روشنی میں طالبان سے متعلق مستقبل کے متوقع فیصلے کے لیے ضروری قانونی فریم ورک تیار کیا جائے گا۔ روس کی ایوان بالا کی فیڈریشن کونسل جمعہ کو اس بل پر غور کرے گی، اس سے پہلے کہ یہ مسودہ صدر ولادیمیر پوٹن کی منظوری سے قانون کی شکل اختیار کر جائے۔
گزشتہ ماہ کابل کے دورے میں روس کے اعلیٰ سکیورٹی حکام نے اپنے افغان ہم منصبوں کو بتایا تھا کہ ماسکو جلد ہی طالبان کو کالعدم تنظیموں کی فہرست سے نکال دے گا۔ مجوزہ نظام کے تحت روس کے پراسیکیوٹر جنرل ایک روسی عدالت میں درخواست دائر کریں گے، جس میں بتایا گیا ہے کہ اس گروپ نے دہشت گردی کی حمایت میں اپنی سرگرمیاں ”بند‘‘ کر دی ہیں۔ اس کے بعد ایک جج اس گروپ کو دہشت گرد تنظیموں کی فہرست سے ہٹانے کا حکم دے سکتا ہے۔
یہ متوقع اقدام طالبان کی ”اسلامی امارت افغانستان‘‘ کہلانے والی حکومت کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنے کے مترادف نہیں ہوگا۔ خیال رہے کہ ابھی تک کسی بھی ملک نے طالبان حکومت کو باضابطہ طور پر تسلیم نہیں کیا ہے۔ پوٹن نے اس سال کے شروع میں طالبان کو ”دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اتحادی‘‘ قرار دیا تھا، جب کہ وزیر خارجہ سیرگئی لاوروف نے مغرب سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ افغانستان پر سے پابندیاں ہٹائے اور ملک میں تعمیر نو کی کوششوں کی ”ذمہ داری‘‘ لیں۔
وسطی ایشیا میں روس کے اتحادی اور افغانستان کے پڑوسی ممالک بھی طالبان کے ساتھ بہتر تعلقات کا وعدہ کر رہے ہیں۔ قازقستان نے 2023 ءکے آخر میں طالبان کو کالعدم ”دہشت گرد‘‘ گروپوں کی اپنی فہرست سے نکال دیا تھا۔ اس اقدام سے ماسکو اور افغانستان کے درمیان سفارت کاری کو ایک ایسے موقع پر فروغ مل سکتا ہے، جب دونوں ممالک کو مغرب میں تنہائی کا سامنا ہے۔ 2021 ء میں اقتدار پر قبضہ کرنے کے بعد سے طالبان نے افغانستان میں اسلامی قانون کی ایک انتہائی شکل کو نافذ کر رکھا ہے، جو خواتین کو عوامی زندگی میں شرکت سے مؤثر طریقے سے روکتا ہے۔
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
ایران سے تعلقات بہتر نہ ہوئے تو پرانی کشیدگی دوبارہ جنم لے سکتی ہے، امریکی صدر ٹرمپ
16/June/2026 👁️ 57 بار دیکھا گیا
روس کے حملے میں کییف کا ہزار سالہ مذہبی ورثہ بھی نشانہ بن گیا
16/June/2026 👁️ 64 بار دیکھا گیا
چین کی بڑھتی فوجی طاقت پر دنیا میں تشویش
16/June/2026 👁️ 69 بار دیکھا گیا
حزب اللہ کے مکمل خاتمے تک جنگ جاری رہے گی، اسرائیل وزیر قومی سلامتی
16/June/2026 👁️ 65 بار دیکھا گیا
کرم میں گھر پر ڈرون حملہ، ماں بیٹے سمیت 4 افراد ہلاک، 8 زخمی
16/June/2026 👁️ 65 بار دیکھا گیا
سوڈان میں 5 ماہ کے دوران ڈرون حملوں میں ایک ہزار سے زائد عام شہری ہلاک
16/June/2026 👁️ 59 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
جنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 8828 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 4558 بار دیکھا گیاپاکستانی طیاروں کا کابل، پکتیکا، خوست اور جلال آباد میں فضائی حملہ، متعدد ہلاکتیں
10/October/2025 👁️ 3270 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ کے انتہائی مطلوب کمانڈر تہران طوری کے حملے میں پولیس افسر ہلاک
15/August/2025 👁️ 2449 بار دیکھا گیاکیا آپ کو معلوم ہے خام تیل کے ایک بیرل سے کتنے لیٹر پٹرول اور ڈیزل بنتا ہے؟
01/February/2019 👁️ 2090 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ نے پولیس افسر قیصر حسین کی ہلاکت کی ذمہ داری قبول کرلی
26/August/2025 👁️ 1897 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C