16/June/2026

چین کی بڑھتی فوجی طاقت پر دنیا میں تشویش

👁️ 69 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
چین کی بڑھتی فوجی طاقت پر دنیا میں تشویش

چین کی بڑھتی فوجی طاقت پر دنیا میں تشویش

بیجنگ (ڈیلی اردو) چین نے پیر کے روز کہا کہ اس کی فوجی طاقت میں اضافہ عالمی امن کے لیے فائدہ مند ہے، جبکہ اس نے ایک تھنک ٹینک کی اس رپورٹ کو مسترد کر دیا جس میں خبردار کیا گیا تھا کہ آسٹریلیا پر چین کے براہ راست حملے کا خطرہ بڑھ رہا ہے۔

 

تھنک ٹینک لوئی انسٹیٹیوٹ کی جانب سے اتوار کو جاری کردہ ایک رپورٹ میں کہا گیا کہ چین اب آسٹریلیا پر براہ راست میزائل حملہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے اور ہائپرسونک ہتھیاروں کی تعداد میں اضافے اور بحیرہ جنوبی چین میں مصنوعی جزائر کی تعمیر کے باعث اس خطرے میں اضافہ ہو رہا ہے۔

 

سڈنی میں قائم لوئی انسٹیٹیوٹ کے مطابق آئندہ ایک دہائی کے دوران آسٹریلیا تک حملہ کرنے کی چین کی صلاحیت مزید بڑھے گی، کیونکہ ڈی ایف-27 طرز کے درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل اور ممکنہ طور پر روایتی ہتھیاروں سے لیس بین البراعظمی بیلسٹک میزائلوں (آئی سی بی ایمز) کی تعداد میں اضافہ متوقع ہے۔

 

چین نے پیر کے روز اس رپورٹ کو ''سنگین اسٹریٹیجک غلط فہمی‘‘ قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی اور کہا کہ بیجنگ ''پرامن ترقی کے راستے‘‘ پر گامزن ہے۔

 

چینی وزارت خارجہ کے ترجمان لن جیان نے معمول کی ایک پریس بریفنگ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ''چین کی فوجی طاقت میں اضافہ دراصل عالمی امن کی قوتوں میں اضافے کی علامت ہے۔‘‘

 

انہوں نے مزید کہا، ’’چین کی عسکری صلاحیتوں کی ترقی کا مقصد قومی خود مختاری، سلامتی اور ترقیاتی مفادات کا تحفظ ہے، اور یہ ترقی کسی مخصوص ملک کے خلاف نہیں ہے۔

 

لوئی انسٹیٹیوٹ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آسٹریلیا کو بنیادی خطرہ ان چینی میزائلوں سے ہے، جو بحری جہازوں، آبدوزوں اور ایک نئے درمیانے فاصلے کے بیلسٹک میزائل کے ذریعے داغے جا سکتے ہیں، جو چین سے آسٹریلیا تک پہنچنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

 

امریکی فوج کے مطابق ڈی ایف-27 میزائل کی مار 5 ہزار سے 8 ہزار کلومیٹر (3 ہزار 100 میل سے 5 ہزار میل) تک ہے۔

 

تاہم لوئی انسٹیٹیوٹ نے واضح کیا کہ اس کی رپورٹ میں چین کی نیت نہیں بلکہ صرف اس کی عسکری صلاحیت کا جائزہ لیا گیا ہے۔

 

چینی ترجمان لن جیان نے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ وہ ''نام نہاد چینی خطرے‘‘ کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنا بند کریں اور چین کی ترقی کو معروضی، منصفانہ اور عقلی انداز میں دیکھیں۔

 

واضح رہے کہ آسٹریلیا نے تین سال قبل چین کی تیزی سے بڑھتی ہوئی بحری قوت اور بیجنگ و واشنگٹن کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے پیش نظر اپنی فوجی حکمت عملی میں تبدیلی کی تھی، جس کا محور شمالی سرحدی راستوں سے ممکنہ دشمن کو باز رکھنا ہے۔

 

چین آسٹریلیا کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے اور آسٹریلیا کی مجموعی برآمدات کا تقریباً ایک تہائی حصہ چین کو جاتا ہے۔ تاہم 2018 کے بعد سے مختلف تنازعات کے باعث دونوں ممالک کے سفارتی تعلقات کشیدہ ہو گئے تھے، جس دوران بیجنگ نے آسٹریلوی مصنوعات پر پابندیاں بھی عائد کر دیں۔ 

 

البتہ 2022 میں آسٹریلیا میں لیبر پارٹی کی حکومت کے برسراقتدار آنے کے بعد سے دوطرفہ تعلقات میں بتدریج بہتری آئی ہے۔

 

اس کے باوجود آسٹریلیا بحرالکاہل کے خطے میں چین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے حوالے سے محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہے۔ کینبرا بحرالکاہل کے مختلف جزیرہ ممالک کے ساتھ سکیورٹی معاہدے کر رہا ہے تاکہ بیجنگ کو خطے میں مستقل فوجی موجودگی قائم کرنے سے روکا جا سکے۔ جنوبی بحرالکاہل کو طویل عرصے سے آسٹریلیا اور اس کے اتحادی ملک امریکہ کے دائرہ اثر میں شمار کیا جاتا رہا ہے۔

 

لوئی انسٹیٹیوٹ نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے، ''چین کی تیز رفتار فوجی توسیع انڈو پیسیفک خطے میں طاقت کے توازن کو اس انداز میں تبدیل کر رہی ہے، جو آسٹریلیا کی سلامتی کو متاثر کرتا ہے، چاہے چین کے پاس آسٹریلوی سرزمین پر براہ راست حملہ کرنے کی صلاحیت ہو یا نہ ہو۔‘‘

 

اسٹریٹیجک لحاظ سے اہم بحرالکاہل کے خطے میں جزائر سولومن کو تجزیہ کار چین کا قریبی شراکت دار تصور کرتے ہیں، خصوصاً 2022 میں بیجنگ کے ساتھ سکیورٹی معاہدہ طے پانے کے بعد سے۔ اس معاہدے نے امریکہ میں تشویش پیدا کر دی تھی اور آسٹریلیا کو بھی خطے میں اپنی سفارتی سرگرمیاں تیز کرنا پڑی تھیں۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C