06/October/2026

سعودی عرب میں 40 ہزار پاکستانی فوجیوں کی تعیناتی کی خبر، پاکستان نے رپورٹ کو قیاس آرائی قرار دے دیا

👁️ 67 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
سعودی عرب میں 40 ہزار پاکستانی فوجیوں کی تعیناتی کی خبر، پاکستان نے رپورٹ کو قیاس آرائی قرار دے دیا

سعودی عرب میں 40 ہزار پاکستانی فوجیوں کی تعیناتی کی خبر، پاکستان نے رپورٹ کو قیاس آرائی قرار دے دیا

اسلام آباد/ ریاض (ڈیلی اردو) پاکستان نے سعودی عرب میں 30 سے 40 ہزار پاکستانی فوجیوں کی تعیناتی سے متعلق بین الاقوامی میڈیا میں سامنے آنے والی رپورٹ پر وضاحت جاری کرتے ہوئے اس کے اعداد و شمار اور تفصیلات کو قیاس آرائی پر مبنی قرار دے دیا ہے۔

پاکستان کی وزارتِ اطلاعات و نشریات کے فیکٹ چیک کے مطابق مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت اجتماعی دفاعی نظام کو عملی شکل دینے سے متعلق تفصیلات خفیہ نوعیت کی ہیں، اس لیے ان کے بارے میں غیرمصدقہ اعداد و شمار یا نامعلوم ذرائع کی بنیاد پر قیاس آرائی سے گریز کیا جانا چاہیے۔ وزارت نے کہا کہ سعودی عرب اور حرمین شریفین کے تحفظ کے لیے پاکستان کا عزم پہلے ہی واضح اور غیرمتزلزل ہے۔

یہ وضاحت روئٹرز کی حالیہ رپورٹ کے بعد سامنے آئی، جس میں ایک پاکستانی عہدیدار کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا تھا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران مختلف مراحل میں 30 ہزار سے 40 ہزار پاکستانی فوجی سعودی عرب پہنچے، جبکہ حالیہ علاقائی کشیدگی کے بعد بھی مزید اہلکار تعینات کیے گئے۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ پاکستانی فورسز سعودی عرب کی زمینی سرحدوں کے دفاع اور ڈرون و میزائل حملوں سے نمٹنے میں معاونت کے لیے موجود ہیں۔

تاہم اسلام آباد نے فوجیوں کی تعداد یا ایسی کسی مخصوص تعیناتی کی سرکاری طور پر تصدیق نہیں کی۔ وزارتِ اطلاعات نے زور دیا کہ اس نوعیت کے معاملات میں متعلقہ سرکاری اداروں کے بیانات کو بنیاد بنایا جائے اور غیرمنسوب ذرائع سے سامنے آنے والی معلومات کو حتمی حقیقت کے طور پر پیش نہ کیا جائے۔

مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے اگست 2026 میں طے کیا تھا، جس کے تحت تینوں ممالک نے بیرونی مسلح حملے کی صورت میں مشترکہ دفاع کے اصول پر اتفاق کیا ہے۔ پاکستانی حکومت پہلے ہی واضح کرچکی ہے کہ یہ معاہدہ دفاعی نوعیت کا ہے اور کسی مخصوص ملک کے خلاف نہیں۔

علاقائی صورتحال کے تناظر میں یہ معاملہ اس وقت مزید اہم ہوگیا ہے جب یمن میں سعودی حمایت یافتہ فورسز اور ایران نواز حوثی باغیوں کے درمیان لڑائی دوبارہ شدت اختیار کرچکی ہے۔ عالمی میڈیا کے مطابق سعودی عرب حوثی باغیوں کے خلاف کارروائی کے امکانات پر غور کر رہا ہے جبکہ خطے میں ڈرون، میزائل اور بحری راستوں کو لاحق خطرات کے باعث سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک میں سکیورٹی خدشات بڑھ گئے ہیں۔

دوسری جانب پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے حالیہ کشیدگی کے دوران سعودی عرب کے دفاع کے لیے ہر ممکن تعاون کے عزم کا اظہار کیا تھا، تاہم انہوں نے بھی پاکستانی فوج کی کسی مخصوص تعداد یا براہِ راست جنگی کارروائی میں شرکت کی تصدیق نہیں کی۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C