20/October/2026

سعودی عرب کے دفاع کے لیے برطانیہ کے ٹائفون لڑاکا طیارے تعینات کرنے کا اعلان

👁️ 36 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
سعودی عرب کے دفاع کے لیے برطانیہ کے ٹائفون لڑاکا طیارے تعینات کرنے کا اعلان

سعودی عرب کے دفاع کے لیے برطانیہ کے ٹائفون لڑاکا طیارے تعینات کرنے کا اعلان

لندن(ڈیلی اردو) برطانوی حکومت نے یمن کے حوثی باغیوں کی جانب سے سعودی عرب پر میزائل اور ڈرون حملوں میں اضافے کے پیشِ نظر سعودی دفاع کو مضبوط بنانے کے لیے رائل ایئر فورس کے ٹائفون لڑاکا طیارے تعینات کرنے کا اعلان کیا ہے۔ برطانوی حکام کے مطابق اس اقدام کا مقصد سعودی شہروں، شہری آبادی اور اہم تنصیبات کو فضائی حملوں سے محفوظ رکھنے میں مدد دینا ہے۔ برطانوی وزیرِ دفاع ویس اسٹریٹنگ نے 20 اکتوبر کو بتایا کہ طیارے دفاعی کردار ادا کریں گے اور حوثیوں کے خلاف براہِ راست حملوں میں حصہ نہیں لیں گے۔

برطانوی حکومت کے اعلان کے مطابق سعودی عرب کو اضافی دفاعی معاونت فراہم کرنے کے لیے فوجی سازوسامان کی منتقلی میں اے 400 ایم ٹرانسپورٹ طیارہ بھی استعمال کیا جائے گا، جبکہ برطانوی فوجی مشیر سعودی حکام کے ساتھ تعاون کریں گے۔ سعودی فضائی کارروائیوں کے لیے فضائی ایندھن کی فراہمی میں معاونت کی مدت بھی مزید 90 دن بڑھائی گئی ہے۔

عالمی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق یہ فیصلہ سعودی عرب میں حالیہ میزائل اور ڈرون حملوں اور توانائی کی تنصیبات کو لاحق خطرات کے بعد کیا گیا ہے۔ فراہم کردہ اطلاعات کے مطابق 10 اکتوبر کو ریاض کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر میزائل حملے میں 13 افراد ہلاک اور 300 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔ تاہم اس واقعے سے متعلق تمام تفصیلات کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے۔

یمن میں حوثی گروپ اور سعودی حمایت یافتہ یمنی فورسز کے درمیان لڑائی میں بھی شدت دیکھی گئی ہے۔ 20 اکتوبر کو صوبہ شبوا میں ایک فوجی کیمپ پر حوثیوں کے میزائل حملے کے نتیجے میں درجنوں افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہونے کی اطلاعات سامنے آئیں۔ اس حملے نے یمن میں جاری تنازع اور خطے کی سلامتی سے متعلق خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔

حوثی گروپ 2014 سے یمن کے دارالحکومت صنعا سمیت متعدد علاقوں پر قابض ہے اور بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ یمنی حکومت کے خلاف برسرِپیکار ہے۔ سعودی عرب یمنی حکومت کی حمایت کرتا ہے، جبکہ حوثیوں کے حملوں اور جوابی فوجی کارروائیوں نے خطے میں کشیدگی برقرار رکھی ہے۔

برطانوی حکومت نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ سعودی عرب کو اضافی دفاعی مدد فراہم کرنے کا مقصد میزائل اور ڈرون حملوں سے تحفظ دینا اور علاقائی استحکام میں مدد کرنا ہے۔ لندن نے تنازع کے پائیدار حل کے لیے سفارت کاری اور سیاسی مذاکرات کی اہمیت پر بھی زور دیا ہے۔

 

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C