04/August/2025

سوڈان: دارفور میں فورسز کی کارروائی، 14 شہری ہلاک، درجنوں زخمی

👁️ 377 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
سوڈان: دارفور میں فورسز کی کارروائی، 14 شہری ہلاک، درجنوں زخمی

سوڈان: دارفور میں فورسز کی کارروائی، 14 شہری ہلاک، درجنوں زخمی

خرطوم (ڈیلی اردو) سوڈانی انسانی حقوق کی ایک آزاد تنظیم نے انکشاف کیا ہے کہ ملک کے مغربی علاقے شمالی دارفور کے شہر فاشر کے شمال مغرب میں واقع قریہ "قرنی" میں ریپڈ سپورٹ فورسز (قوات الدعم السریع) کے حملے میں کم از کم 14 شہری ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے ہیں۔

"ایمرجنسی لائرز گروپ" کے مطابق، یہ واقعہ ہفتے کے روز پیش آیا جب مذکورہ فورسز نے قرنی گاؤں پر حملہ کیا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ فورسز نے متعدد شہریوں کو حراست میں بھی لے لیا، تاہم ان کی درست تعداد معلوم نہیں ہو سکی۔

تنظیم کے مطابق، متاثرہ شہری فاشر شہر سے نقل مکانی کر کے گاؤں کی طرف جا رہے تھے تاکہ محاصرے اور جھڑپوں سے بچ سکیں، لیکن وہاں انہیں نشانہ بنایا گیا۔

قرنی گاؤں کو فاشر شہر کے لیے اہم رسد کا مرکز قرار دیا جاتا ہے، جہاں ریپڈ سپورٹ فورسز نے مئی 2025 سے سخت پابندیاں عائد کر رکھی ہیں، جن میں نقل و حرکت پر قدغن، امدادی سامان کی ترسیل میں رکاوٹ، اور انسانی ہمدردی کی کوششوں میں خلل شامل ہے۔ ان اقدامات نے اس علاقے کو عام شہریوں کے لیے سب سے خطرناک گزرگاہ بنا دیا ہے۔

ہیومن رائٹس تنظیم نے اس "بھیانک جرم" کی شدید مذمت کرتے ہوئے ریپڈ سپورٹ فورسز کو شہریوں کو نشانہ بنانے اور فاشر کے لاکھوں شہریوں کے خلاف محاصرے اور بھوک کی پالیسی کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔

واضح رہے کہ 10 مئی 2024 سے فاشر شہر میں سوڈانی فوج اور ریپڈ سپورٹ فورسز کے درمیان جھڑپیں جاری ہیں، حالانکہ عالمی ادارے اس شہر کو پانچوں دارفور ریاستوں کے لیے انسانی امداد کا مرکز قرار دیتے ہیں۔

قابل ذکر ہے کہ سوڈانی فوج اور ریپڈ سپورٹ فورسز کے درمیان اپریل 2023 سے جاری خانہ جنگی میں اب تک 20 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ اقوام متحدہ اور مقامی حکام کے مطابق تقریباً ڈیڑھ کروڑ افراد بے گھر یا مہاجر بن چکے ہیں۔
امریکی جامعات کی ایک تحقیق میں یہ تعداد تقریباً 1 لاکھ 30 ہزار تک بتائی گئی ہے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C