07/August/2026

شام: دمشق میں مسافر منی بس میں بم دھماکا، 4 افراد ہلاک، 13 زخمی

👁️ 83 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
شام: دمشق میں مسافر منی بس میں بم دھماکا، 4 افراد ہلاک، 13 زخمی

شام: دمشق میں مسافر منی بس میں بم دھماکا، 4 افراد ہلاک، 13 زخمی

دمشق (ڈیلی اردو) شام کے دارالحکومت دمشق کے نواحی علاقے جرمانہ میں جمعرات کی شب ایک مسافر منی بس میں نصب بم دھماکے کے نتیجے میں کم از کم 4 افراد ہلاک جبکہ 13 دیگر زخمی ہو گئے۔

 

غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق دھماکہ جرمانہ کے اس علاقے میں ہوا جہاں دروز برادری کی اکثریت آباد ہے۔ شامی سرکاری ٹیلی ویژن نے ایک سکیورٹی اہلکار کے حوالے سے بتایا کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق دھماکہ منی بس میں پہلے سے نصب کیے گئے بارودی مواد کے پھٹنے سے ہوا۔

 

تاہم شامی وزارتِ صحت نے ابتدائی طور پر 2 افراد کی ہلاکت اور 13 زخمیوں کی تصدیق کی، جبکہ بعد ازاں ایسوسی ایٹڈ پریس نے اپنی رپورٹ میں ہلاکتوں کی تعداد کم از کم 4 بتائی۔ خبر رساں ادارے کے ایک صحافی نے جائے وقوعہ پر امدادی کارکنوں کو تباہ شدہ گاڑی سے ایک لاش نکالتے ہوئے بھی دیکھا۔

 

واقعے کی ویڈیوز میں سفید رنگ کی منی بس مکمل طور پر تباہ دکھائی دی، جسے دھماکے کے بعد جائے وقوعہ سے ہٹا دیا گیا، جبکہ سکیورٹی اہلکاروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات شروع کر دیں۔

 

عینی شاہد سمر عباس نے، جن کی کپڑوں کی دکان دھماکے کی جگہ سے چند میٹر کے فاصلے پر واقع ہے، بتایا کہ دھماکے کی آواز انتہائی شدید تھی اور اس کے نتیجے میں دکان کے اگلے حصے پر دھماکے کے ٹکڑے آ کر لگے۔

 

انہوں نے بتایا کہ اس وقت ان کی سب سے بڑی فکر اپنے بیٹے کی تھی، جو دکان کے باہر بیٹھا ہوا تھا۔ ان کے بقول، ’’میرا خون خشک ہو گیا تھا، جب تک میں نے اپنے بیٹے کو محفوظ نہ دیکھ لیا اور اس کی آواز نہ سن لی۔‘‘

 

دوسری جانب دمشق کے المجتہد اسپتال میں موجود باسل عماد نے بتایا کہ ان کے کزن صفوح دھماکے کا شکار ہونے والی منی بس چلا رہے تھے اور زخمیوں میں شامل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک نہایت سفاکانہ حملہ تھا، جبکہ جس سڑک پر دھماکہ ہوا وہاں دکانیں اور ریڑھی بان بڑی تعداد میں موجود تھے۔

 

یہ حملہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب شام کی نئی اسلام پسند حکومت اور دروز برادری کے درمیان کشیدگی برقرار ہے۔ اقوام متحدہ کی ایک تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق جولائی 2025 میں صوبہ سویدا میں ہونے والے پرتشدد واقعات میں 1,700 سے زائد افراد، جن میں اکثریت دروز شہریوں کی تھی، ہلاک ہوئے تھے۔

 

رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ ان جھڑپوں کے دوران شامی سرکاری فورسز، قبائلی جنگجوؤں اور دروز مسلح گروہوں کی جانب سے ممکنہ طور پر جنگی جرائم کا ارتکاب کیا گیا۔

 

تاحال کسی گروپ نے جرمانہ دھماکے کی ذمہ داری قبول نہیں کی، جبکہ شامی حکام نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C