25/August/2025

شام میں فرقہ وارانہ تشدد اور اغوا کی نئی لہر: وائٹ ہیلمٹس کا رکن حمزہ العمرین لاپتہ

👁️ 313 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
شام میں فرقہ وارانہ تشدد اور اغوا کی نئی لہر: وائٹ ہیلمٹس کا رکن حمزہ العمرین لاپتہ

شام میں فرقہ وارانہ تشدد اور اغوا کی نئی لہر: وائٹ ہیلمٹس کا رکن حمزہ العمرین لاپتہ

دمشق (ڈیلی اردو) شام میں فرقہ وارانہ کشیدگی کے دوران انسانی خدمت کے کارکنوں اور عام شہریوں کو نشانہ بنانے کے واقعات میں اضافہ ہو گیا ہے۔ سول ڈیفنس تنظیم وائٹ ہیلمٹس کے ایمرجنسی ریسپانس سینٹر کے سربراہ، 33 سالہ حمزہ العمرین کو 16 جولائی کو السویدا سے واپسی کے دوران اغوا کر لیا گیا، اور ایک ماہ سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود ان کا کوئی سراغ نہیں مل سکا۔

 

حمزہ کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ وہ کسی تنازع سے وابستہ نہیں تھے اور خالصتاً انسانی خدمت کے لیے کام کر رہے تھے۔ ان کا خیال ہے کہ حمزہ کو ممکنہ طور پر دروز ملیشیا نے صرف ان کے سنی ہونے کی بنیاد پر نشانہ بنایا۔

 

السویدا میں وسط جولائی سے شروع ہونے والے تشدد میں اب تک لگ بھگ 1,700 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ مارچ میں علوی اکثریتی ساحلی علاقوں میں ہونے والی لڑائی میں تقریباً 1,000 افراد مارے گئے تھے۔ اقوام متحدہ کی تازہ رپورٹ کے مطابق تشدد، اغوا، ماورائے عدالت قتل اور لوٹ مار کئی گروہوں کی جانب سے کی جا رہی ہے، اور صورتحال اس قدر پیچیدہ ہو چکی ہے کہ اصل ذمہ داروں کا تعین مشکل ہے۔

 

مبصرین کے مطابق آمریت کے خاتمے کے بعد بھی پرانی دشمنیاں اور علاقائی رقابتیں شامی معاشرے کو تقسیم کر رہی ہیں، جبکہ عبوری حکومت پر الزام ہے کہ وہ سکیورٹی فراہم کرنے میں ناکام ہے۔ انسانی حقوق تنظیموں نے عبوری حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری اقدامات کرے، شہریوں کو تحفظ فراہم کرے اور اپنی افواج کو جواب دہ بنائے۔

 

دوسری جانب، حمزہ العمرین کے اہل خانہ بین الاقوامی اداروں سے مدد کی اپیل کر رہے ہیں تاکہ مزید شہریوں اور امدادی کارکنوں کے اغوا کو روکا جا سکے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C