شام کے باغی حکمران بین الاقوامی قبولیت کیلئے افغان طالبان کی راہ اپنا رہے ہیں
👁️ 89 بار دیکھا گیا
شام کے باغی حکمران بین الاقوامی قبولیت کیلئے افغان طالبان کی راہ اپنا رہے ہیں
واشنگٹن (ڈیلی اردو/وی اواے) ایک ایسے تناظر میں جب کہ بین الاقو امی برادری شام کے نئے حکمرانوں کے لیے شرائط رکھ رہی ہے، صورت حال پر نظر رکھنے والے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ملک کی حکومت سنبھالنے والا سرکردہ باغی گروپ عالمی قبولیت کے لیے افغان طالبان کی طرز پر مصالحت کا رویہ اختیار کر رہا ہے۔
حکومت پر قابض گروپ ہیت تحریر الشام کے رہنما احمد الشرع نے، جو ابو محمد الجولانی کے نام سے بھی مشہور ہیں، اتوار کو اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی برائے شام سے ملاقات کی جس دوران انہوں نے ملکی معیشت کی بحالی اور ملکی سالمیت کو یقینی بنانے کے لیے “جلد اور موثر تعاون” پر زور دیا۔
اخبار “دی ٹائمز آف لندن” کے ساتھ ایک انٹرویو میں الجولانی نے کہا کہ شام کی سرزمین اسرائیل سمیت کسی بھی ہمسایہ ملک کے خلاف استعال نہیں ہو گی۔
واشنگٹن میں قائم تھنک ٹینک “یو ایس انسٹی ٹیوٹ آف پیس” سے منسلک سینیئر تجزیہ کار اسفند یار میر نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ گروپ نے صلح کا پیغام دیا، جو کہ افغان طالبان کے سال 2021 میں حکومت پر قبضے کے بعد دیے گئے پیغام کی مانند ہے۔ اس پیغام کے ساتھ طالبان نے اپنے آپ کو خطے کی سیاست میں اس طریقے سے شامل کیا کہ جس سے خطے کے ممالک اور عالمی طاقتیں ان کے خلاف مشتعل نہ ہوئیں۔
خیال رہے کہ اگست میں حکومت پر قبضہ کرنے کے بعد طالبان نے ہمسایہ اور خطے کے دوسرے ملکوں کو یہ باور کرانے کی کوشش کی تھی کہ کسی کو بھی افغانستان کو کسی دوسرے ملک کے خلاف لانچنگ پیڈ کے طور پر استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہو گی۔
تاہم، رواں سال جولائی میں اقوام متحدہ نے کہا تھا کہ اگرچہ طالبان یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ افغانستان میں کوئی بیرونی دہشت گروپ نہیں ہے، رکن ملکوں نے رپورٹ دی ہے کہ ملک میں اس وقت دو درجن سے زیادہ دہشت گرد گروپ فعال ہیں۔
خطے کے ماہر میر نے کہا کہ گروپ نے اپنے تجربے اور طالبان طرز کے مشاہدے سے سیکھا ہے کہ بیرونی دنیا میں دشمن بنانے سے گریز کیا جائے۔ ایسا دوسرے ملکوں کو اس یقین دہانی کے ساتھ کیا جائے کہ ہمیں ان سے کوئی عداوت نہیں ہے۔
میر کے مطابق عالمی اور خطے کی طاقتوں کے شام کے باغی گروپ سے نمنٹنے کے لیے کوئی بڑے مقاصد نہیں ہیں۔ لیکن وہ گروپ کا بغور جائزہ لیں گے۔
شام کے باغیوں نے ایچ ٹی ایس کے مخفف سے جانے جانے والے ہیت تحریر الشام جسے ایچ ٹی ایس کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، کی قیادت میں گیارہ روز قبل دمشق پر قبضہ کر لیا تھا۔
اس گروپ نے سابق صدر بشار الاسد کے خلاف اپنی کارروائی کا آغاز 27 نومبر کو شمالی صوبے ادلیب سے کرنے کے بعد برق رفتاری سے ملک کے اہم شہروں پر قابض ہو گئے تھے۔
امریکہ نے شام میں تبدیلی کے بعد باغیوں کے “امید افزا” بیانات کا خیرمقدم کیا تھا لیکن ساتھ ہی واشنگٹن نے یہ بھی کہا تھا کہ باغیوں کو ان کے اقدامات کی بنیاد پر پرکھا جائے گا۔
واشنگٹن میں محکمہ خارجہ کے ترجمان میتھیو ملر نے وی او اے کو ایک سوال کے جواب میں کہا,” جب پابندیوں کا وقت آئے گا تو ہم اپنا فیصلہ کریں گے، جب تسلیم کرنے کا وقت آئے گا تو ہم اپنے تمام ٹول استمال کریں گے، ہم ایسا اس بنیاد پر کریں گے کہ ہم ایچ ٹی ایس اور دوسرے کرداروں کی طرف سے معروضی سطح پر کیا دیکھتے ہیں.”
ادھر یورپ کے ایک اعلی سفارت کار نے اتوار کو کہا تھا کہ یورپی یونین اس وقت تک گروپ کے خلاف اپنی پابندیاں نہیں اٹھائے گی جب تک کہ نئے حمکران اقلیتوں اور خواتین کے حقوق کے تحفظ کی گارنٹی نہیں دیتے اور جب تک وہ دہشت گردی سے الگ ہونے کا اعلان نہیں کرتے۔
بین الاقو امی برادری نے افغان طالبان سے بھی اگست 2021 میں ان کے کابل پر قابض ہونے کے بعد اس قسم کی گارنٹیاں مانگی تھی۔
دنیا نے طالبان پر زور دیا تھا کہ اس سے پہلے کہ ان کی حکومت کو تسلیم کیا جائے، وہ دہشت گردی کو روکنے کے اپنے وعدے کی پاسداری کریں، ایک جامع حکومت قائم کریں اور انسانی حقوق، خاص طور پر خواتین کے حقوق کا احترام کریں۔
ابھی تک دنیا کے کسی بھی ملک نے افغان طالبان کی حکومت کو باضابطہ طور پر تسلیم نہیں کیا ہے۔
صوفان گروپ نامی تحقیق کے ادارے کے ڈائریکٹر کولن کلارک نے وی او اے کو بتایا کہ امریکہ کی شام کے بارے میں پالیسی اس کے افغانستان کے تجربے کی روشنی میں ترتیب دی جا رہی ہے۔
کلارک کے مطابق شام کے ایچ ٹی ایس گروپ اور افغان طالبان میں بہت سے مماثلتیں ہیں جن میں حقیقت پسندانہ ہونا، میانہ رو ہونا، انتہا پسند جہادی نظریے سے الگ رہنا شامل ہیں۔
یاد رہے کہ اقوام متحدہ، امریکہ، ترکیہ اور دنیا کے کئی دوسرے ملکوں نے ایچ ٹی ایس گروپ کو دہشت گرد قرار دے رکھا ہے۔
امریکہ کے انسداد دہشت گردی کے قومی مرکز کے مطابق ایچ ٹی ایس شام کے سنی باغی گروپوں کا مخلوط گروپ پے جو ماضی کے النصرہ یا نصرہ فرنٹ کے نام کی القاعدہ گروپ کی شام میں شاخ تھی۔
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
ایران سے تعلقات بہتر نہ ہوئے تو پرانی کشیدگی دوبارہ جنم لے سکتی ہے، امریکی صدر ٹرمپ
16/June/2026 👁️ 57 بار دیکھا گیا
روس کے حملے میں کییف کا ہزار سالہ مذہبی ورثہ بھی نشانہ بن گیا
16/June/2026 👁️ 65 بار دیکھا گیا
چین کی بڑھتی فوجی طاقت پر دنیا میں تشویش
16/June/2026 👁️ 69 بار دیکھا گیا
حزب اللہ کے مکمل خاتمے تک جنگ جاری رہے گی، اسرائیل وزیر قومی سلامتی
16/June/2026 👁️ 65 بار دیکھا گیا
کرم میں گھر پر ڈرون حملہ، ماں بیٹے سمیت 4 افراد ہلاک، 8 زخمی
16/June/2026 👁️ 65 بار دیکھا گیا
سوڈان میں 5 ماہ کے دوران ڈرون حملوں میں ایک ہزار سے زائد عام شہری ہلاک
16/June/2026 👁️ 59 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
جنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 8828 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 4558 بار دیکھا گیاپاکستانی طیاروں کا کابل، پکتیکا، خوست اور جلال آباد میں فضائی حملہ، متعدد ہلاکتیں
10/October/2025 👁️ 3270 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ کے انتہائی مطلوب کمانڈر تہران طوری کے حملے میں پولیس افسر ہلاک
15/August/2025 👁️ 2449 بار دیکھا گیاکیا آپ کو معلوم ہے خام تیل کے ایک بیرل سے کتنے لیٹر پٹرول اور ڈیزل بنتا ہے؟
01/February/2019 👁️ 2090 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ نے پولیس افسر قیصر حسین کی ہلاکت کی ذمہ داری قبول کرلی
26/August/2025 👁️ 1897 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C