28/October/2026

شام کے صوبے ادلب میں فائرنگ کا تبادلہ، فرانسیسی جنگجو ہلاک؛ ساتھیوں کی انتقامی کارروائی کی دھمکی

👁️ 68 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
شام کے صوبے ادلب میں فائرنگ کا تبادلہ، فرانسیسی جنگجو ہلاک؛ ساتھیوں کی انتقامی کارروائی کی دھمکی

شام کے صوبے ادلب میں فائرنگ کا تبادلہ، فرانسیسی جنگجو ہلاک؛ ساتھیوں کی انتقامی کارروائی کی دھمکی

دمشق(ڈیلی اردو) شام کے شمال مغربی صوبے ادلب میں سکیورٹی فورسز اور ایک مسلح گروہ کے درمیان فائرنگ کے تبادلے میں فرانسیسی جنگجو ہلاک جبکہ ایک شہری زخمی ہوگیا۔ جنگجو کے ساتھیوں نے واقعے کا الزام شامی سکیورٹی اہلکاروں پر عائد کرتے ہوئے بدلہ لینے کی دھمکی دی ہے، جس سے علاقے میں کشیدگی بڑھنے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔

شامی حکام کے مطابق ادلب میں داخلی سکیورٹی فورسز کے ایک گشت کرنے والے دستے نے حارم کے علاقے کی جانب فرانسیسی جنگجوؤں کے کیمپ سے نکلنے والے مسلح افراد کو دیکھا۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدام اس معاہدے کی خلاف ورزی تھا جس کے تحت کیمپ سے ہتھیاروں کے ساتھ باہر نکلنے پر پابندی عائد تھی۔ سکیورٹی اہلکاروں نے گروہ کو روکنے کی کوشش کی تو مبینہ طور پر اس کے ارکان نے فائرنگ کردی، جس کے جواب میں اہلکاروں نے کارروائی کی۔ فائرنگ کے نتیجے میں ایک جنگجو ہلاک اور ایک شہری زخمی ہوگیا۔

تاہم، گروہ ’’فرقۃ الغرباء‘‘ نے مختلف مؤقف اختیار کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اس کے ارکان کھانے پینے کی اشیا خریدنے کے لیے نکلے تھے کہ انہیں فائرنگ کا نشانہ بنایا گیا۔ گروہ نے ہلاک ہونے والے شخص کی شناخت ’’ابو ایمن الفرنسی‘‘ کے نام سے کی اور کہا کہ وہ گزشتہ 13 برس سے شام میں موجود تھا اور بشار الاسد کی حکومت کے خلاف لڑتا رہا تھا۔ گروہ نے اپنے ساتھی کی ہلاکت کا بدلہ لینے کی دھمکی بھی دی ہے۔ فائرنگ کے واقعے کی دونوں جانب سے پیش کی گئی تفصیلات میں اختلاف ہے۔

فرانسیسی جنگجوؤں پر مشتمل فرقۃ الغرباء کا مرکز حارم کے نواح میں واقع ایک کیمپ ہے، جہاں اس گروہ کے ارکان اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ رہتے ہیں۔ اس کی قیادت فرانسیسی سینیگالی نژاد عمر دیابی، المعروف عمر اومسن، کرتا ہے، جس پر ماضی میں فرانسیسی بولنے والے جنگجوؤں کو شام منتقل ہونے کے لیے بھرتی کرنے کے الزامات لگتے رہے ہیں۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق، اکتوبر 2025 میں بھی شامی حکام اور اس گروہ کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئی تھیں، جن کے بعد جنگ بندی کا معاہدہ طے پایا۔ یورپی یونین کی ایجنسی برائے پناہ گزینوں کی جولائی 2026 کی رپورٹ بھی حارم کے علاقے میں اس گروہ اور شامی عبوری حکومت کی فورسز کے درمیان اکتوبر 2025 کی جھڑپوں اور بعد ازاں جنگ بندی کی تصدیق کرتی ہے۔ معاہدے میں بھاری ہتھیاروں کی واپسی اور کیمپ میں حکومتی سکیورٹی فورسز کی رسائی سمیت اقدامات شامل تھے۔

بشار الاسد کی حکومت دسمبر 2024 میں ختم ہونے کے بعد شام کی نئی قیادت کو غیر ملکی جنگجوؤں کو ریاستی اختیار کے تحت لانے اور آزاد مسلح گروہوں کی سرگرمیوں پر قابو پانے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ ادلب میں تازہ واقعہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ سابقہ جنگجو گروہوں اور نئی شامی سکیورٹی فورسز کے درمیان کشیدگی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C