15/October/2026

شمالی کوریا کا آبدوز سے داغے جانے والے کروز میزائلوں کے دو نمونوں کا تجربہ، خطے میں فوجی کشیدگی بڑھنے لگی

👁️ 55 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
شمالی کوریا کا آبدوز سے داغے جانے والے کروز میزائلوں کے دو نمونوں کا تجربہ، خطے میں فوجی کشیدگی بڑھنے لگی

شمالی کوریا کا آبدوز سے داغے جانے والے کروز میزائلوں کے دو نمونوں کا تجربہ، خطے میں فوجی کشیدگی بڑھنے لگی

پیانگ یانگ(ڈیلی اردو) شمالی کوریا نے آبدوز سے داغے جانے والے اسٹریٹجک کروز میزائلوں کی دو اقسام کے تجربات کیے ہیں۔ شمالی کوریا کے سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق یہ میزائل مشرقی سمندر، جسے بحیرہ جاپان بھی کہا جاتا ہے، کی جانب داغے گئے۔ پیانگ یانگ نے دعویٰ کیا ہے کہ تجربات کے دوران پڑوسی ممالک کی سلامتی کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔

شمالی کوریا کے سرکاری میڈیا کے مطابق یہ تجربات بحریہ کی مشقوں کا حصہ تھے، جن کا مقصد زیرِ آب جنگی نظاموں کی موجودہ عملی تیاری اور کارکردگی جانچنا تھا۔ حکام نے ان تجربات کو ملک کی دفاعی صلاحیت اور جنگی ردعمل کے نظام کی مضبوطی کا مظہر قرار دیا ہے۔

سرکاری خبر رساں ادارے کی جاری کردہ تصاویر میں سمندر سے میزائل داغے جانے کے مناظر دکھائے گئے ہیں۔ بعض تصاویر میں میزائل عمودی انداز میں جبکہ دیگر میں ترچھی سمت میں پانی سے نکلتا دکھائی دیتا ہے۔ ماہرین کے مطابق داغنے کے مختلف طریقے میزائل کی پرواز، ممکنہ فاصلے اور دفاعی نظام کے لیے اسے شناخت کرنے کی صلاحیت پر اثر انداز ہوسکتے ہیں۔

جنوبی کوریا کے کوریا انسٹی ٹیوٹ فار نیشنل یونیفیکیشن سے وابستہ تجزیہ کار ہونگ من کے مطابق، میزائلوں کو مختلف زاویوں سے داغنے کی صلاحیت شمالی کوریا کو حکمتِ عملی کے اعتبار سے فائدہ دے سکتی ہے۔ تاہم، آبدوزوں سے میزائل داغنے کے متعدد سابقہ تجربات کے باوجود شمالی کوریا کی حقیقی بحری میزائل صلاحیت اور اس نظام کی عملی افادیت کے بارے میں مکمل معلومات دستیاب نہیں ہیں۔

آبدوز سے داغے جانے والے کروز میزائل کم بلندی پر پرواز کرسکتے ہیں، جس کے باعث بعض حالات میں فضائی دفاعی نظام کے لیے ان کا بروقت سراغ لگانا اور انہیں روکنا مشکل ہوسکتا ہے۔ اگر شمالی کوریا اس صلاحیت کو مؤثر انداز میں استعمال کرنے میں کامیاب ہوتا ہے تو اسے جزیرہ نما کوریا سے باہر بھی اپنے ہتھیار تعینات کرنے کے مزید امکانات مل سکتے ہیں۔

یہ تجربہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب جزیرہ نما کوریا میں دونوں جانب فوجی سرگرمیاں جاری ہیں۔ شمالی کوریا نے حالیہ عرصے میں بیلسٹک میزائلوں کے بھی متعدد تجربات کیے ہیں، جبکہ جنوبی کوریا کے صدارتی دفتر نے مقامی طور پر تیار کردہ ہائپرسونک میزائل کے پہلے تجرباتی لانچ کا اعلان کیا ہے۔ شمالی کوریا نے 3 اکتوبر کو درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے ہائپرسونک میزائل کے تجربے کا بھی دعویٰ کیا تھا، جس میں مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی استعمال کرنے کی بات کی گئی تھی۔

دونوں ممالک کے درمیان سرحدی کشیدگی اور میزائل تجربات کے تسلسل نے خطے کی سلامتی سے متعلق خدشات برقرار رکھے ہیں۔ تاہم، شمالی کوریا کے تازہ تجربے کی مکمل تکنیکی تفصیلات اور میزائلوں کی حقیقی کارکردگی کی آزادانہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C