عراق منتقلی: شام کی افراتفری میں 27 جرمن داعش قیدی ’غائب‘
👁️ 185 بار دیکھا گیا
عراق منتقلی: شام کی افراتفری میں 27 جرمن داعش قیدی ’غائب‘
برلن (ڈیلی اردو/ڈی پی اے/اے ایف پی/) ایک تازہ رپورٹ کے مطابق، شمال مشرقی شام میں ’اسلامک اسٹیٹ‘ (داعش) کے قیدیوں کو رکھنے والی جیلوں اور کیمپوں میں شدید افراتفری کے بعد 5,700 سے زائد قیدیوں کو 21 جنوری سے 12 فروری 2026 کے درمیان شام سے عراق منتقل کیا گیا۔ امریکی فوج نے یہ منتقلی ممکن بنائی۔
رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ تقریباً 27 جرمن مرد جو پہلے شام میں قید تھے، غالب امکان ہے کہ اب عراق میں موجود ہیں۔
ورنر پلائل کو اب بھی نہیں معلوم کہ اس کا بیٹا کہاں ہے۔ جنوبی جرمنی کے علاقے باڈن وُرٹمبرگ سے تعلق رکھنے والے اس ریٹائرڈ فوٹوگرافر نے اپنے بیٹے ڈِرک کی آخری خبر یہ سنی تھی کہ وہ شمال مشرقی شام کی ایک جیل میں قید ہے۔
ڈِرک نے 2015 میں شدت پسند تنظیم ’’اسلامک اسٹیٹ‘‘ میں شمولیت اختیار کی تھی، مگر 2017 میں گرفتار ہو کر بغیر کسی مقدمے کے برسوں سے قید تھا۔ اس کی صحت بھی بہتر نہیں، باپ کو شبہ ہے کہ اسے ٹی بی ہو گئی ہے، اسی لیے وہ چاہتا ہے کہ اسے جرمنی واپس لایا جائے تاکہ علاج بھی ہو سکے اور اگر ضرورت ہو تو قانون کا سامنا بھی۔
پلائل کی بہو اور نو برس کا پوتا اس وقت ترکی میں ہیں، اور وہ انہیں بھی واپس گھر لانے کا خواہشمند ہے۔ لیکن پچھلے چند ہفتوں میں خاندان کی امیدیں مزید بے یقینی میں بدل گئیں۔
شام کے شمال مشرقی علاقوں میں عبوری حکومتی فورسز اور کرد ملیشیاؤں کے درمیان جھڑپوں نے جیلوں اور حراستی کیمپوں کا نظام تہس نہس کر دیا۔اسی افراتفری میں کچھ داعش ارکان اور ان کے اہلِ خانہ فرار ہو گئے ، جب کہ کئی قیدیوں کو عراق منتقل کر دیا گیا۔
پلائل نے جرمن وزارتِ خارجہ سے رابطہ کیا تو بتایا گیا کہ جرمنی ان منتقلیوں کا حصہ نہیں تھا، یہ معاملہ صرف شامی، کُرد اور امریکی حکام کے درمیان طے پایا تھا۔ وزارتِ خارجہ کے مطابق وہ منتقلی کا عمل نہ صرف جرمن نگرانی کے بغیر ہوا بلکہ انہیں اب تک یہ بھی مکمل علم نہیں کہ کن ممالک کے شہری منتقل ہوئے۔ البتہ یہ امکان ظاہر کیا گیا کہ شام میں قید 27 جرمن شہری اب عراق میں موجود ہیں۔
مقامی اور بین الاقوامی رپورٹیں بھی بتاتی ہیں کہ منتقل کیے گئے ہزاروں افراد میں جرمن شہری شامل تھے۔ بغداد کے الکرخ جیل کمپلیکس میں ایک عراقی جج نے بتایا کہ اس نے وہاں جرمن قیدیوں کو اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔
یہ سب سن کر ورنر پلائل کی پریشانی مزید بڑھ گئی ہے۔ اسے اب بھی نہیں معلوم کہ اس کا بیٹا کہاں ہے، زندہ ہے یا نہیں، اور اس کا خاندان دوبارہ کب اور کیسے ایک ساتھ کھڑا ہو سکے گا۔
جرمن داعش ارکان کی درست تعداد معلوم نہیں۔
حکومت کا اندازہ ہے کہ وہ چند درجن ہیں۔ زیادہ تر خواتین اور بچے شام کے کیمپوں، جیسے الحسکہ کے الہول اور روج، میں تھے، مگر الہول کیمپ تقریباً خالی ہو چکا ہے۔ وہاں موجود تقریباً 6,000 غیر ملکی خواتین و بچوں کا علاقہ بھی اب غیر آباد ہے۔
کچھ افراد کو شامی حکومت نے حلب کے صوبے میں واقع نئے کیمپ 'اخترین‘ منتقل کیا ہے، جبکہ دیگر اپنے رشتہ داروں کے پاس بھاگ گئے یا اسمگلروں کی مدد سے نکل گئے۔ معلوم نہیں وہ کہاں گئے ہیں۔ اس میں ممکنہ طور پر باقی جرمن بھی شامل ہیں۔
یورپی شہریوں کی غیر منظم واپسی، جو داعش کے رکن یا اس کے حامی رہے ہیں، ایک سنگین سکیورٹی خطرہ ہے، جس کے بارے میں دہشت گردی کے ماہرین کئی سالوں سے تنبیہ کر رہے ہیں۔ ماہرین مسلسل زور دیتے آئے ہیں کہ ممالک اپنے شہریوں کو واپس لیں اور ان سے اپنے ہی قانونی یا بحالیاتی نظام کے تحت نمٹیں۔
صوفیا کُولر جو برلن میں کاؤنٹر ایکسٹریمزم پراجیکٹ (CEP) کی سینئر ریسرچر اور تجزیہ کار ہیں، کہتی ہیں، ’’اس مسئلے کا کوئی مکمل یا بہترین حل موجود نہیں،‘‘ اور اس موضوع پر کئی رپورٹس لکھی جا چکی ہیں۔ سیاسی طور پر شہریوں کی واپسی متنازع ہے، لیکن بہت سے دوسرے پہلوؤں سے یہ بالکل متنازع نہیں۔ خاص طور پر اگر ہم یہ دیکھیں کہ واپسی نہ کرنے کے کیا منفی نتائج ہو سکتے ہیں ۔ یعنی وہی نتائج جو ہم اس وقت اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھ رہے ہیں۔‘‘
عراق اور امریکہ دونوں نے ان غیر ملکیوں کی واپسی کا مطالبہ کیا ہے جنہیں وہ اپنی تحویل میں رکھے ہوئے ہیں۔
جرمن لاپتہ قیدیوں کے مستقبل پر سوالات بڑھ رہے ہیں ، لیکن جرمن حکام مرد قیدیوں کی واپسی سے ہچکچا رہے ہیں۔ حکومت اب تک زیادہ تر خواتین اور بچوں کی واپسی پر توجہ دیتی رہی ہے، جبکہ مرد قیدیوں کے معاملے میں وہ دلیل دیتی ہے کہ جرائم جس ملک میں ہوئے، کارروائی بھی وہیں ہونی چاہیے۔
جرمنی کی گرین پارٹی کی رکنِ پارلیمان لمیاء قدور کے مطابق، ’’سیاسی خوف کی وجہ سے واپسی کا فیصلہ مسلسل مؤخر کیا جا رہا ہے، حالانکہ جرمن شہریوں کو غیر انسانی حراست یا تشدد کے خطرے میں چھوڑ دینا قانونی و اخلاقی طور پر نا قابلِ قبول ہے۔
ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ ان قیدیوں کی صورتحال مزید خراب ہو رہی ہے، خصوصاً اب جب کہ عراق اعلان کر چکا ہے کہ وہ داعش کے قیدیوں پر خود مقدمات چلائے گا۔‘‘
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
آبنائے ہرمز میں ایک اور آئل ٹینکر میں دھماکا اور آگ، ایران کا سمندری بارودی سرنگ سے ٹکرانے کا دعویٰ
19/October/2026 👁️ 38 بار دیکھا گیا
قلات میں کارروائی کے دوران 4 دہشت گرد ہلاک، گوادر میں آئی ای ڈی دھماکے سے میجر بھی ہلاک
19/October/2026 👁️ 23 بار دیکھا گیا
نیتن یاہو کا نیا دفاعی منصوبہ، ایران میں حکومت کی تبدیلی اور اسلحہ سازی میں خود کفالت پر زور
19/October/2026 👁️ 106 بار دیکھا گیا
نیتن یاہو ایران کے ساتھ نئی جنگ کے لیے واشنگٹن پر دباؤ ڈال رہے ہیں، عباس عراقچی کا الزام
19/October/2026 👁️ 91 بار دیکھا گیا
تل ابیب سے ویانا جانے والی پرواز کی صوفیہ میں ہنگامی لینڈنگ، بم کی دھمکی پر مسافروں سے پوچھ گچھ
19/October/2026 👁️ 64 بار دیکھا گیا
یمن میں سعودی فضائی حملوں میں 30 سے زائد افراد ہلاک و زخمی ، حوثی باغیوں کا دعویٰ
19/October/2026 👁️ 75 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
ٹرمپ کا ایران کو آخری الٹی میٹم، ڈیل نہ ہوئی تو تباہ کن کارروائی کی دھمکی
04/August/2026 👁️ 26383 بار دیکھا گیاایران میں موساد کیلئے جاسوسی کا الزام، دو افراد کو پھانسی دے دی گئی
04/August/2026 👁️ 15620 بار دیکھا گیاحوثیوں کا سعودی عرب کے نجران ایئرپورٹ پر ڈرون حملہ
05/August/2026 👁️ 11914 بار دیکھا گیاجنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 9268 بار دیکھا گیایمن میں حوثی باغیوں کے میزائل اور ڈرون حملے، 36 فوجی اہلکار ہلاک
07/August/2026 👁️ 7525 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 5475 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C