08/October/2025

غزہ کی جنگ کے دو سال مکمل، 67 ہزار سے زائد ہلاکتیں اور کھنڈرات

👁️ 222 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
غزہ کی جنگ کے دو سال مکمل، 67 ہزار سے زائد ہلاکتیں اور کھنڈرات

غزہ کی جنگ کے دو سال مکمل، 67 ہزار سے زائد ہلاکتیں اور کھنڈرات

ڈیلی اردو/اے پی/اے ایف پی/روئٹرز/ڈی پی اے) اسرائیل کی غزہ پٹی میں فوجی کارروائیاں 67 ہزار سے زائد فلسطینیوں کی جانیں لے چکی ہیں جبکہ غزہ پٹی کے زیادہ تر حصے کھنڈرات بن چکے ہیں۔ اس دو سالہ جنگ میں کیا کچھ تبدیل ہوا ہے اور اعداد و شمار کیا کہتے ہیں؟

 

ذیل میں غزہ کی جنگ کے دوران انسانی ہلاکتوں اور مادی نقصانات کا خلاصہ پیش کیا جا رہا ہے، جس کا بیشتر ڈیٹا اقوام متحدہ کے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امدادی کارروائیوں کے رابطہ دفتر (اوچا) کی جاری کردہ رپورٹوں سے لیا گیا ہے۔

 

غزہ پٹی میں ہلاکتیں

 

7 اکتوبر 2023ء سے اب تک غزہ پٹی میں 67 ہزار سے زائد فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں۔ غزہ اتھارٹیز کے مطابق ان میں سے تقریباً ایک تہائی 18 سال سے کم عمر کے افراد تھے۔

 

غزہ پٹی کی وزارت صحت اپنی گنتی میں شہریوں اور جنگجوؤں میں کوئی فرق نہیں کرتی۔ اسرائیل نے پہلے کہا تھا کہ ہلاک ہونے والوں میں سے کم از کم 20 ہزار جنگجو تھے۔

 

اقوام متحدہ کے ایک تحقیقاتی کمیشن نے پچھلے مہینے غزہ پٹی میں ان ہلاکتوں کو اسرائیل کی طرف سے ’’نسل کشی کا ارتکاب‘‘ قرار دیا تھا جبکہ اسرائیل نے اس کمیشن کے نتائج کو تعصب آمیز اور ’’شرمناک‘‘ قرار دیا تھا۔

 

اسرائیلی ہلاکتیں

 

اسرائیلی سرکاری اطلاعات کے مطابق سات اکتوبر 2023ء سے 29 ستمبر 2025 تک جنگ کے نتیجے میں کم از کم 1665 اسرائیلی اور غیر ملکی شہری ہلاک ہوئے۔ ان میں سے 1200 سات اکتوبر کے حملے میں مارے گئے تھے۔

 

اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس کی غزہ پٹی میں زمینی کارروائیاں 27 اکتوبر 2023 سے شروع ہونے کے بعد سے 466 فوجی اس لڑائی میں ہلاک ہو چکے جبکہ 2951 زخمی ہوئے ہیں۔

 

فلسطینی عسکریت پسند تنظیم حماس نے ٹھیک دو سال پہلے سات اکتوبر کے حملے کے دوران 251 افراد کو یرغمال بھی بنا لیا تھا۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ غزہ میں ایسے 48 یرغمالی اب بھی موجود ہیں، جن میں سے 20 کے زندہ ہونے کی امید ہے۔

 

تباہ شدہ عمارتیں

 

اقوام متحدہ کے سیٹلائٹ سینٹر کے اعداد و شمار کی بنیاد پر کیے گئے تجزیے کے مطابق غزہ میں تقریباً 193,000 عمارتیں تباہ ہو چکی ہیں یا انہیں بری طرح نقصان پہنچا ہے۔ اسرائیل کی طرف سے تقریباً 213 ہسپتالوں اور 1,029 اسکولوں کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔

 

ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے مطابق غزہ پٹی کے 36 بڑے ہسپتالوں میں سے صرف 14 جزوی طور پر فعال ہیں اور جنوبی غزہ پٹی میں موجود ہسپتالوں پر بوجھ حد سے زیادہ بڑھ چکا ہے۔

 

نقل مکانی

 

اقوام متحدہ کے مطابق غزہ پٹی کا صرف تقریباً 18 فیصد حصہ اب نقل مکانی کے احکامات یا فوجی علاقوں سے پاک ہے۔ بہت سے فلسطینی کئی بار بے گھر ہو چکے ہیں۔

 

حماس کے جنگجوؤں کو جڑ سے اکھاڑنے کا عہد کرتے ہوئے اسرائیل نے مئی کے وسط میں غزہ شہر میں اپنی فوجی مہم کو وسعت دی۔ اس کے نتیجے میں اقوام متحدہ نے اس ساحلی علاقے کے شمال سے جنوب کی طرف 417,000 سے زائد افراد کی نقل مکانی ریکارڈ کی ہے۔

 

اسرائیل نے غزہ شہر کے رہائشیوں کو جنوب کی طرف جانے کی تلقین کی ہے لیکن جنوبی غزہ میں حالات خراب ہیں اور عارضی خیمے بھرے ہوئے ہیں۔

 

خوراک اور بھوک

 

ایک عالمی گروپ نے اگست میں کہا تھا کہ غزہ شہر میں قحط نے قدم جما لیا ہے اور اس کا پھیلاؤ ممکن ہے۔ اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو نے اس رپورٹ کو ’’جھوٹ‘‘ قرار دیا تھا۔

 

انٹیگریٹڈ فوڈ سکیورٹی فیز کلاسیفیکیشن سسٹم نے کہا کہ 514,000 افراد، غزہ پٹی میں فلسطینیوں کا تقریباً ایک چوتھائی حصہ، قحط کا سامنا کر رہے ہیں۔

 

غزہ کی وزارت صحت کے مطابق غزہ پٹی کے کچھ حصوں میں قحط کی تصدیق کے بعد سے کم از کم 177 افراد، جن میں 36 بچے بھی شامل تھے، بھوک اور غذائیت کی کمی کے باعث ہلاک ہو چکے ہیں۔

 

اقوام متحدہ کے پاپولیشن فنڈ نے کہا ہے کہ 60 فیصد سے زائد حاملہ خواتین اور نو مولود بچوں کی مائیں غذائیت کی کمی کا شکار ہیں۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C