فرانس میں پولیس کو اسمارٹ فونز کے ذریعے جاسوسی کی اجازت
👁️ 115 بار دیکھا گیا
فرانس میں پولیس کو اسمارٹ فونز کے ذریعے جاسوسی کی اجازت
پیرس (ڈیلی اردو/اے ایف پی/ڈی پی اے) حالیہ مظاہروں کے بعد فرانس میں ایک ایسا قانون منظور کر لیا گیا ہے، جس کے تحت اسمارٹ فونز اور کمپیوٹر سمیت بیشتر آلات مشتبہ ملزمان کی جاسوسی کے لیے استعمال ہو سکیں گے۔ کئی سیاسی اور سماجی حلقے اس قانون پر ناراض ہیں۔
فرانس میں منظور کیے گئے ایک نئے قانون کے تحت پولیس اہلکاروں کو اب یہ اختیار حاصل ہو جائے گا کہ وہ اسمارٹ فونز کے کیمروں، مائیکرو فونز، جی پی ایس لوکیشنز اور دیگر ایپس کے ذریعے مشتبہ افراد کی جاسوسی کر سکیں۔ پیرس میں ملکی پارلیمان نے بدھ کو رات گئے اس بارے میں ایک مسودہ قانون کی منظوری دے دی۔
فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق لیپ ٹاپ کمپیوٹرز، کاریں اور دیگر ایسے آلات، جو ایک دوسرے سے یاانٹرنیٹ سے کنیکٹ ہو سکتے ہوں، تمام کے ذریعے جاسوسی ممکن ہو سکے گی۔ جن افراد پر شبہ ہو گا، ان کی ڈیوائسز خودکار طریقے سے ریکارڈنگ شروع کر سکیں گی۔ یہ امر اہم ہے کہ یہ قانون ایسے ملزمان سے متعلق چھان بین کے لیے استعمال کیا جا سکے گا، جن کے مشتبہ جرائم ثابت ہونے پر ایسے کسی بھی مجرم کو پانچ برس تک قید کی سزا ہو سکتی ہو۔ اس قانون کا استعمال عموماً سلامتی سے متعلقہ امور اور مشتبہ دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے کیا جائے گا۔
یہ قانون جاسوسی سے متعلق ایک وسیع تر قانونی پیکچ کا حصہ ہے، جس کی پارلیمان سے مجموعی توثیق ابھی باقی ہے۔ فرانسیسی حکومت نے یقین دہانی کرائی ہے کہ پولیس کی طرف سے جاسوسی کے یہ اختیارات کسی جج کی اجازت کے بعد ہی استعمال کیے جا سکیں گے اور انفرادی سطح پر ان کی مدت چھ ماہ سے زائد نہیں ہو سکتی۔
بدھ کے روز قانون سازوں کے مابین پارلیمانی بحث کے دوران صدر ایمانوئل ماکروں کے حامیوں نے موقف اختیار کیا کہ اس طرز کی جاسوسی صرف اسی صورت مین کی جا سکے گی، جب ‘جرم کی نوعیت اور سنجیدگی‘ دونوں ہی اس قدر شدید ہوں کہ اس قانون کا استعمال جائز ہو۔ یہ بھی واضح کیا گیا کہ صحافی، جج، ڈاکٹر، وکلاء اور ارکان پارلیمان اس قانون کا ہدف نہیں بنیں گے۔
فرانس میں دائیں اور بائیں بازو کی سیاسی جماعتیں اور ذرائع ابلاغ کے نمائندے اس قانونی بل پر شدید تحفظات رکھتے ہیں۔ ڈیجیٹل حقوق کے لیے سرگرم فرانسیسی گروپ La Quadrature du Net نے اپنے ایک حالیہ بیان میں کہا تھا کہ اس قانون کے ذریعے دمے جانے والے اختیارات بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کے زمرے میں آ سکتے ہیں۔ اس گروپ کے مطابق سلامتی، ذاتی زندگی اور ذاتی نوعتت کی گفتگو اور اس کے علاوہ آزادانہ نقل و حرکت یہ تمام کسی بھی شہری کے بنیادی حقوق میں شامل ہیں۔
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
شمالی وزیرستان میں چیک پوسٹ پر خودکش حملہ ناکام، 4 حملہ آور ہلاک
03/June/2026 👁️ 281 بار دیکھا گیا
امریکی طیاروں نے ایک بار پھر ایران میں فضائی حملے کیے، پاسداران انقلاب کی جوابی کارروائیاں
03/June/2026 👁️ 156 بار دیکھا گیا
ٹانک میں دہشت گردوں کی فائرنگ، چھٹی پر آیا پولیس اہلکار ہلاک
03/June/2026 👁️ 155 بار دیکھا گیا
جزوی جنگ بندی کے باوجود لبنان میں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جھڑپیں جاری
03/June/2026 👁️ 326 بار دیکھا گیا
بنوں: دہشت گردوں نے گیس پائپ لائن دھماکے سے اڑا دی، پشاور میں دھماکا
03/June/2026 👁️ 274 بار دیکھا گیا
لبنان میں طویل المدتی اسرائیلی قبضہ ناقابلِ قبول ہے، فرانس
03/June/2026 👁️ 481 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
جنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 8783 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 4464 بار دیکھا گیاپاکستانی طیاروں کا کابل، پکتیکا، خوست اور جلال آباد میں فضائی حملہ، متعدد ہلاکتیں
10/October/2025 👁️ 3190 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ کے انتہائی مطلوب کمانڈر تہران طوری کے حملے میں پولیس افسر ہلاک
15/August/2025 👁️ 2366 بار دیکھا گیاکیا آپ کو معلوم ہے خام تیل کے ایک بیرل سے کتنے لیٹر پٹرول اور ڈیزل بنتا ہے؟
01/February/2019 👁️ 2049 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ نے پولیس افسر قیصر حسین کی ہلاکت کی ذمہ داری قبول کرلی
26/August/2025 👁️ 1861 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C