فوجی مطالبات: عمران خان نے جھکنے سے انکار کردیا
👁️ 96 بار دیکھا گیا
فوجی مطالبات: عمران خان نے جھکنے سے انکار کردیا
اسلام آباد (ڈیلی اردو/ڈی ڈبلیو) پاکستان تحریک انصاف کے بانی سربراہ عمران خان نے گزشتہ برس نو مئی کے واقعات کے لیے معافی مانگنے کے مطالبات کو مسترد کرتے ہوئے فوج کے مطالبات کے سامنے جھکنے سے انکار کر دیا ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل احمد شریف نے نو مئی 2023ء کے ان واقعات کے تناظر میں اپنی حالیہ پریس کانفرنس میں اپنی توجہ اس موضوع پر مرکوز رکھی، جسے پاکستان کے موجودہ سیاسی منظر نامے پر غیر معمولی اہمیت کا حامل سمجھا جا رہا ہے۔ گزشتہ سال پاکستان کی مقبول سیاسی جماعت پاکستان تحریک انصاف یا پی ٹی آئی کے بانی عمران خان کی گرفتاری کے بعد 9 مئی کو فوجی تنصیبات پر کیے گئے حملوں کے بعد سے عمران خان اور ان کی پارٹی کے خلاف سخت ریاستی کریک ڈاؤن ملک کے اندر اور باہر خاصی تشویش کا باعث بنا ہوا ہے۔
رواں برس فروری میں ہونے والے انتخابات اور ان کے نتائج اور پھر ملک میں نئی حکومت سازی کا عمل جس انداز میں تکمیل تک پہنچا، اسے بھی بڑی حد تک نو مئی 2023 ء کے واقعات کے تناظر میں دیکھا جاتا ہے۔ اس بارے میں جمہوریت اور قانون کی بالا دستی پر یقین رکھنے والوں کی طرف سے پاکستان کے مقتدر حلقوں، ارباب اختیار اور ذمہ دار اداروں کے کردار پر سوالات اٹھائے جاتے رہے ہیں۔
اس پس منظر میں میجر جنرل احمد شریف کے پریس کانفرنس میں دیے گئے بیانات پر تبصرے کے لیے ڈی ڈبلیو نے پاکستان کے معروف سیاسی تجزیہ کار اور نمل یونیورسٹی اسلام آباد سے منسلک سیاسیات کے پروفیسر طاہر نعیم ملک سے رابطہ کیا۔ پروفیسر ملک نے ان بیانات کے بارے میں کہا کہ میجر جنرل احمد شریف نے روایتی موقف دہرایا ہے تاہم اس پریس کانفرنس کے بارے میں پروفیسر ملک کا کہنا تھا، ”حالیہ دنوں میں سامنے آنے والی غیر مصدقہ خبروں کے مطابق عمران خان اور فوج کے مابین مذاکرات ہو رہے ہیں۔ یا انصار عباسی صاحب کی خبر تھی کہ جنرل ریٹائرڈ خالد نعیم لودھی ایک مشن لے کے دونوں کے درمیان معاملات سلجھانے اور تلخیوں کو کم کرنے کے لیے کردار ادا کر رہے ہیں۔ تو ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس میں دیے گئے بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ روایتی موقف میں کوئی نرمی نہیں آئی اور حالات جوں کے توں ہی رہیں گے۔‘‘
ڈی جی آئی ایس پی آر کی طرف سے تحریک انصاف پر نو مئی کے واقعات پر معافی مانگنے اور ان کی مذمت کرنے جیسی شرائط عائد کرنا اور ان اقدامات کو تعمیری سیاست کی جانب پیش رفت سمجھنے اور اس طرح عمران خان کی سیاسی نظام میں واپسی کا واحد رستہ قرار دینے کو پروفیسر ملک اس حقیقت کی طرف ایک اشارہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان میں جاری سیاسی نظام ہائبرڈ ہے۔
تحریک انصاف کے موقف کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے پروفیسر طاہر نعیم ملک نے کہا کہ پی ٹی آئی یہ سمجھتی ہے کہ اس تنازعے میں اسٹیبلشمنٹ خود ایک فریق ہے جو غیر منصفانہ اور غیر جانبدارانہ انکوائری نہیں کرا سکتی جبکہ قومی سلامتی کے ادارے یہ سمجھتے ہیں کہ نو مئی کے واقعات میں انکوائری کی ضرورت نہیں کیونکہ ان کے شواہد تو موجود ہیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطالبات کا جواب
پاکستان تحریک انصاف کے بانی سربراہ عمران خان نے گزشتہ برس نو مئی کے واقعات کے لیے معافی مانگنے کے مطالبات کو مسترد کرتے ہوئے فوج کے مطالبات کے سامنے جھکنے سے انکار کر دیا ہے۔ انہوں نے بدھ کے روز اڈیالہ جیل میں صحافیوں سے بات چیت کے دوران کہا، ”معافی مانگنے کی ذمہ داری مجھ پر کیوں عائد ہونا چاہیے؟‘‘
عمران خان کرپشن سے لے کر آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خلاف ورزی تک کے متعدد الزامات کا سامنا کرتے ہوئے اپنے موقف پر قائم ہیں۔ بدھ کے روز صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیر اعظم نے یہ بھی کہا کہ وہ اپنی پارٹی کے 2014ء کے دھرنے کے بارے میں کسی بھی چھان بین کے لیے تیار ہیں۔ میجر جنرل احمد شریف نے اپنی پریس کانفرنس میں اس دھرنے کی عدالتی تحقیقات کی طرف اشارہ کیا تھا۔
اس سوال کے جواب میں کہ اسٹیبلشمنٹ ایک انکوائری کمیشن بنانے کے پی ٹی آی کے مطالبے سے گریزاں کیوں ہے، ماہر سیاسیات طاہر نعیم ملک نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ”فوج اپنے معاملات کسی اور ادارے کے سپرد نہیں کرنا چاہتی، چاہے وہ عدلیہ یا پھر ملکی پارلیمان ہی کیوں نہ ہو۔‘‘
فوج کے اس رویے کی وجوہات پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے کہا، ”فوج نے پہلے فوجی عدالتوں کا قانون پاس کروایا۔ یہ امر ظاہر کرتا ہے کہ انہیں موجودہ عدالتی نظام پر اعتبار نہیں ہے۔‘‘
پروفیسر طاہر ملک نے پی ٹی آئی کے اندر پائی جانے والی تقسیم کی بات بھی کی اور کہا کہ تحریک انصاف میں دو گروپ پائے جاتے ہیں۔ اس میں سے ایک کا ماننا ہے کہ پارٹی کو مسلسل محاذ آرائی سے نقصان ہوگا۔ دوسرا گروپ محاذ آرائی جاری رکھنے کے حق میں ہے اور اس کی سیاسی سوچ یہ ہے کہ موجودہ حکومت زیادہ عرصہ نہیں چلے گی اور عمران خان دونوں امکانات استعمال کر رہے ہیں۔
پروفیسر طاہر نعیم ملک کے مطابق پاکستان میں عمران خان اور پی ٹی آئی سے متعلق تنازعے میں اطراف کا موقف غیر لچک دار ہونے کے باعث موجود سیاسی بحران کے حل کے امکانات ضعیف ہیں۔
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
خیبرپختونخوا میں پولیس اہلکاروں پر حملوں کا سلسلہ جاری، مختلف واقعات میں 5 اہلکار ہلاک، لکی مروت میں 2 حملہ آور ہلاک
30/October/2026 👁️ 72 بار دیکھا گیا
پشاور: سکیورٹی فورسز اور سی ٹی ڈی کا مشترکہ آپریشن، 5 دہشتگرد ہلاک، اسلحہ اور بارودی مواد برآمد
30/October/2026 👁️ 70 بار دیکھا گیا
ترکیہ کا پاک افغان سرحدی خطے میں داعش خراسان کے مبینہ رکن کے خلاف آپریشن، ترک شہری گرفتار
30/October/2026 👁️ 78 بار دیکھا گیا
ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کم کرنے کی کوششیں، قطری وفد اہم پیغام لے کر تہران پہنچ گیا
30/October/2026 👁️ 84 بار دیکھا گیا
بھارت: اتراکھنڈ میں مسافر ہیلی کاپٹر پہاڑی علاقے میں گر کر تباہ، پائلٹ سمیت تمام 6 افراد ہلاک
30/October/2026 👁️ 52 بار دیکھا گیا
آبنائے ہرمز میں دو آئل ٹینکر حادثات کے بعد رک گئے، ایران نے امریکی حمایت سے غیر مجاز راستہ اختیار کرنے کا الزام عائد کردیا
30/October/2026 👁️ 83 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
ٹرمپ کا ایران کو آخری الٹی میٹم، ڈیل نہ ہوئی تو تباہ کن کارروائی کی دھمکی
04/August/2026 👁️ 26412 بار دیکھا گیاایران میں موساد کیلئے جاسوسی کا الزام، دو افراد کو پھانسی دے دی گئی
04/August/2026 👁️ 15649 بار دیکھا گیاحوثیوں کا سعودی عرب کے نجران ایئرپورٹ پر ڈرون حملہ
05/August/2026 👁️ 11953 بار دیکھا گیاجنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 9315 بار دیکھا گیایمن میں حوثی باغیوں کے میزائل اور ڈرون حملے، 36 فوجی اہلکار ہلاک
07/August/2026 👁️ 7568 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 5546 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C