لاہور:لمز یونیورسٹی میں ڈی جی آئی ایس پی آر کا بائیکاٹ اور ہال کے باہر فوج مخالف نعرے
👁️ 215 بار دیکھا گیا
لاہور:لمز یونیورسٹی میں ڈی جی آئی ایس پی آر کا بائیکاٹ اور ہال کے باہر فوج مخالف نعرے
لاہور (ڈیلی اردو/وی او اے) نجی تعلیمی ادارے لاہور انسٹی ٹیوٹ آف مینیجمنٹ سائنسز (لمز) کے بعض طلبہ نے جمعے کو کیمپس میں اُس وقت فوج کے خلاف نعرے بازی کی جب پاکستان فوج کے ترجمان ادارے ‘آئی ایس پی آر’ کے سربراہ وہاں خطاب کر رہے تھے۔
ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر لیفٹننٹ جنرل احمد شریف چوہدری فوج کے پروگرام ‘انٹریکٹ وِد اسٹوڈنٹس’ کے تحت لاہور میں قائم لمز گئے تھے جب کہ اسی طرح کی ایک تقریب ہفتے کو نیشنل کالج آف آرٹس (این سی اے) لاہور میں بھی منعقد ہوئی ہے۔
رپورٹس کے مطابق لمز میں طلبہ و طالبات کے ایک گروپ نے فوجی ترجمان کے ساتھ ہونے والی خصوصی نشست کا بائیکاٹ کیا اور اُس ہال کے باہر نعرے بازی شروع کر دی جہاں اِس نشست کا اہتمام کیا گیا تھا۔
سوشل میڈیا پر موجود بعض ویڈیوز میں طلبہ کو نعرے لگاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے جس میں وہ پاکستان کے مبینہ خراب حالات کا ذمے دار فوج کو قرار دے رہے تھے۔
ایک ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ نعرے لگوانے والے کا منہ اپنے ساتھیوں کی طرف ہے جب کہ اُس کے نعروں کا جواب دینے والوں کے چہرے نظر نہیں آ رہے۔
وائس آف امریکہ نے اِس سلسلے میں لمز کے طلبہ سے بات کی تو اُنہوں نے مذکورہ واقعہ کے بارے میں بات کرنے سے انکار کیا۔ جب ادارے کی ویب سائٹ پر موجود نمبرز کے ذریعے لمز انتظامیہ سے رابطہ کیا گیا تو ان سے کوئی رابطہ نہیں ہو سکا۔
لمز کے ایک اُستاد نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ڈی جی آئی ایس پی آر کو لمز بزنس اسکول کی انتظامیہ نے مدعو کیا تھا اور جس مقام پر طلبہ نے نعرے بازی کی وہ شعبہ سوشل سائنسز کے باہر ہال ہے۔
تاہم سیکیورٹی ذرائع سے موصول واٹس ایپ میسج میں کہا گیا ہے کہ لیفٹننٹ جنرل احمد شریف کی لمز آمد پر اساتذہ، طلبہ اور انتظامیہ نے ان کا پرتپاک استقبال کیااور خصوصی نشست کے دوران ڈی جی آئی ایس پی آر نے طلبہ کے مختلف سوالات کے مدلل اور مؤثر جوابات دیے۔
پیغام مزید کہا گیا ہے کہ ڈی جی آئی ایس پی آر نے طلبہ کے ساتھ پاکستان کی اندرونی و بیرونی سیکیورٹی صورتِ حال سمیت مختلف موضوعات پر بھی مفصل گفتگو کی۔
یہ پہلا موقع نہیں جب کسی اعلٰی فوجی افسر نے لمز میں طلبہ سے خطاب کیا ہو ۔
اِس سے قبل فوج کے سابق سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے بطور آرمی چیف لمز کے طلبہ سے خطاب کیا تھا تو انہیں طلبہ کے سخت سوالات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
اِسی طرح ماضی میں سابق نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ کو بھی لمز میں طلبہ کے ساتھ خصوصی نشست کے موقع پر سخت سوالات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ معاشرے میں اختلافِ رائے کے لیے شائستگی کا عنصر ختم ہوتا جا رہا ہے۔نوجوان نسل اور خاص طور پر طلبہ کی ایسی ذہن سازی ہوئی ہے کہ وہ کسی مباحثے کا حصہ بننے کے بجائے بات چیت کو فتح یا شکست تصور کرنے لگتے ہیں۔
دفاعی تجزیہ کار بریگیڈیئر ریٹائرڈ حارث نواز سمجھتے ہیں کہ یہ ایک خاص قسم کی ذہن سازی ہے کہ فوج اور فوجی حکام پر تنقید کی جائے۔
وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے اُنہوں نے کہا کہ فوجی افسران ایک طے شدہ پروگرام کے تحت مختلف تعلیمی اداروں میں جا کر طلبہ سے بات کرتے ہیں تا کہ اُن کے ذہنوں میں موجود شکوک وشبہات کو بات چیت کے ذریعے ختم کیا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ اس طرح کے سیشنز کا مقصد ہوتا ہے کہ طلبہ فوجی قیادت سے دلیل و منطق کے ساتھ سوالات کریں، مباحثے کا حصہ بنیں لیکن بدتمیزی نہ کریں۔
تجزیہ کار اور کالم نویس افتخار احمد سمجھتے ہیں کہ پاکستان کی نوجوان نسل کو ملک کے مسائل سے بخوبی آگہی ہونی چاہیے اور یہ اُن کا آئینی حق بھی ہے لیکن سوالات سے قبل انہیں اُن سوالات کی وجوہات کا علم بھی ہونا چاہیے۔
افتخار احمد کے مطابق گفتو شنید مسائل کے حل کا ایک راستہ ہوتا ہے جس میں کسی کی شکست یا کامیابی نہیں ہوتی۔ تاہم افواجِ پاکستان کا یہ کام نہیں کہ وہ تعلیمی اداروں میں جائیں اور یہ کام کریں۔
واضح رہے کہ پاکستان فوج پر سیاست میں مداخلت کا الزام لگتا رہا ہے جب کہ فوجی ترجمان بارہا کہتے رہے ہیں کہ ان کا کوئی فیورٹ نہیں اور وہ سیاست سے دور ہیں۔
افتخار احمد کہتے ہیں فوج نظام چلانے کے الزامات پر پسِ پردہ رہ کر بات کر سکتی ہے۔
سینئر صحافی کے مطابق اُنہوں نے ڈی جی آئی ایس پی آر کے ساتھ ہونے والی گفتگو کو دیکھا ہے جس میں ایک طالبہ اُن سے سوال کر رہی تھیں لیکن وہ تمام سوالات ایک منفی ذہن کی عکاسی کر رہے تھے اور وہ طالبہ کچھ بھی سیکھنا نہیں چاہتی تھی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں نوجوان نسل کی جو ذہن سازی آج ہوئی ہے اُس کی بہت زیادہ ذمہ دار ملک کی تمام سیاسی جماعتیں ہیں۔ ان کے بقول سیاسی جماعتوں کا کام تھا کہ وہ اِس ذہن سازی کے راستے میں رکارٹ ڈالنے کے لیے مثبت طریقہ اپناتے۔
افتخار احمد نے مزید کہا کہ طلبہ سوال کے متبادل سوال کو بھی دیکھیں۔ اُن میں متبادل سوالات سننے کی برداشت نہیں اور وہ سوالات کے جواب میں ایک ہی جواب سننا چاہیں تو ایسی گفتگو سے اچھے نتائج سامنے نہیں آئیں گے۔
ان کے بقول فوج کو بھی یہ سوچنا چاہیے کہ وہ آہستہ آہستہ پیچھے ہٹے تاکہ ایک ایسا ماحول جنم لے جس میں طلبہ کے سوالات کا جواب فوجی ترجمان کے بجائے سیاسی جماعتوں کے قائدین دیں اور اس معاملے پر کھل کر گفتگو ہونی چاہیے۔
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
آبنائے ہرمز میں ایک اور آئل ٹینکر میں دھماکا اور آگ، ایران کا سمندری بارودی سرنگ سے ٹکرانے کا دعویٰ
19/October/2026 👁️ 48 بار دیکھا گیا
قلات میں کارروائی کے دوران 4 دہشت گرد ہلاک، گوادر میں آئی ای ڈی دھماکے سے میجر بھی ہلاک
19/October/2026 👁️ 30 بار دیکھا گیا
نیتن یاہو کا نیا دفاعی منصوبہ، ایران میں حکومت کی تبدیلی اور اسلحہ سازی میں خود کفالت پر زور
19/October/2026 👁️ 108 بار دیکھا گیا
نیتن یاہو ایران کے ساتھ نئی جنگ کے لیے واشنگٹن پر دباؤ ڈال رہے ہیں، عباس عراقچی کا الزام
19/October/2026 👁️ 93 بار دیکھا گیا
تل ابیب سے ویانا جانے والی پرواز کی صوفیہ میں ہنگامی لینڈنگ، بم کی دھمکی پر مسافروں سے پوچھ گچھ
19/October/2026 👁️ 66 بار دیکھا گیا
یمن میں سعودی فضائی حملوں میں 30 سے زائد افراد ہلاک و زخمی ، حوثی باغیوں کا دعویٰ
19/October/2026 👁️ 76 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
ٹرمپ کا ایران کو آخری الٹی میٹم، ڈیل نہ ہوئی تو تباہ کن کارروائی کی دھمکی
04/August/2026 👁️ 26383 بار دیکھا گیاایران میں موساد کیلئے جاسوسی کا الزام، دو افراد کو پھانسی دے دی گئی
04/August/2026 👁️ 15620 بار دیکھا گیاحوثیوں کا سعودی عرب کے نجران ایئرپورٹ پر ڈرون حملہ
05/August/2026 👁️ 11914 بار دیکھا گیاجنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 9268 بار دیکھا گیایمن میں حوثی باغیوں کے میزائل اور ڈرون حملے، 36 فوجی اہلکار ہلاک
07/August/2026 👁️ 7525 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 5476 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C