24/October/2026

لندن: القاعدہ اور ٹی ٹی پی کو تکنیکی معاونت فراہم کرنے والے 18 سالہ نوجوان کو چار سال سے زائد قید

👁️ 41 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
لندن: القاعدہ اور ٹی ٹی پی کو تکنیکی معاونت فراہم کرنے والے 18 سالہ نوجوان کو چار سال سے زائد قید

لندن: القاعدہ اور ٹی ٹی پی کو تکنیکی معاونت فراہم کرنے والے 18 سالہ نوجوان کو چار سال سے زائد قید

لندن (ڈیلی اردو) برطانیہ میں دہشت گرد تنظیموں القاعدہ اور کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کو سائبر سکیورٹی اور کرپٹو کرنسی سے متعلق تکنیکی معاونت فراہم کرنے کے جرم میں 18 سالہ نوجوان یوسف شاہ کو چار سال اور دو ماہ قید کی سزا سنا دی گئی ہے۔ اسے 10 سال تک متعلقہ حکام کو اپنی معلومات فراہم کرنے کے حکم کا بھی پابند بنایا گیا ہے۔

برطانوی پولیس کے مطابق یوسف شاہ کا تعلق مشرقی لندن کے علاقے الفورڈ سے ہے اور جنوری 2024 میں جب وہ 16 سال کا تھا تو اسے ہیتھرو ایئرپورٹ پر انسداد دہشت گردی قانون کے تحت روکا گیا۔ اس کے موبائل فون، کمپیوٹر اور دیگر ڈیجیٹل آلات کی جانچ پڑتال کے دوران حکام کو ایسے مواد اور آن لائن رابطوں کا پتا چلا جن سے القاعدہ اور تحریک طالبان پاکستان جیسی دہشت گرد تنظیموں کے لیے اس کی حمایت اور تکنیکی مدد کی کوششوں کا انکشاف ہوا۔

تحقیقات کے مطابق شاہ نے القاعدہ سے وابستہ افراد کو کرپٹو کرنسی کے ذریعے عطیات وصول کرنے اور مالی لین دین کو شناخت سے بچانے کے طریقوں سے متعلق مشورے دیے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اپریل 2024 میں اس کے تجویز کردہ طریقے کے تحت ایک مخصوص کوڈ کے ذریعے القاعدہ کے لیے 1,376.51 ڈالر کا عطیہ بھی بھیجا گیا۔ حکام کے مطابق اس کوڈ کے ذریعے موصول ہونے والا یہ واحد عطیہ تھا۔

پولیس کے مطابق مارچ 2024 کے آخر میں ٹیلی گرام پر ایک شخص نے شاہ سے تحریک طالبان پاکستان کے لیے سائبر سکیورٹی سے متعلق رہنما دستاویز تیار کرنے کو کہا۔ مذکورہ شخص نے بتایا تھا کہ ٹی ٹی پی کے ایک سینئر عہدیدار نے یہ کام کرنے کی درخواست کی ہے۔ شاہ نے اس کے بعد ’’سائبر سکیورٹی سے متعلق رہنما اصول‘‘ کے عنوان سے ایک دستاویز تیار کرکے بھیجی، جس میں سائبر سکیورٹی اور کرپٹو کرنسی کے استعمال سے متعلق ہدایات شامل تھیں۔ برطانوی حکام کے مطابق اس کا مقصد تنظیم کو اپنی سرگرمیاں خفیہ رکھنے میں مدد دینا تھا۔

تفتیش کے دوران شاہ کے آلات سے القاعدہ کے آن لائن جریدے تک رسائی اور دھماکا خیز مواد تیار کرنے، دھماکا خیز آلات بنانے اور مختلف ہتھیاروں کے استعمال سے متعلق ہدایات پر مشتمل دستاویزات حاصل کرنے کے شواہد بھی ملے۔ پولیس کے مطابق وہ ٹیلی گرام پر ایسے گروپس میں بھی سرگرم تھا جہاں دہشت گرد تنظیموں کی حمایت کی جاتی تھی اور اس نے وہاں اپنی تکنیکی مہارت سے مدد فراہم کرنے کی پیشکش کی تھی۔

کنگسٹن کراؤن کورٹ میں پانچ ہفتے جاری رہنے والے مقدمے کی سماعت کے بعد شاہ کو دہشت گردی کے لیے مالی وسائل دستیاب کرانے کے انتظام میں ملوث ہونے، دہشت گردی کے مقاصد کے لیے تربیت یا ہدایات فراہم کرنے اور دہشت گردی سے متعلق مواد جمع کرنے کے جرائم میں مجرم قرار دیا گیا۔ عدالت نے 20 اکتوبر 2026 کو اسے چار سال اور دو ماہ قید کی سزا سنائی۔

لندن میں انسداد دہشت گردی پولیس کی سربراہ ہیلن فلاناگن نے اس مقدمے کو نوجوانوں کی آن لائن انتہا پسندی کی جانب راغب ہونے کے خطرات سے متعلق تنبیہ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ تحقیقات سے ظاہر ہوا کہ شاہ تقریباً 13 یا 14 سال کی عمر میں انتہا پسندانہ نظریات اور دہشت گردی سے متعلق مواد کی طرف مائل ہونا شروع ہوا تھا۔ انہوں نے والدین اور سرپرستوں پر زور دیا کہ وہ بچوں کی آن لائن سرگرمیوں اور سوشل میڈیا پر ان کے زیرِ مطالعہ مواد کے بارے میں باخبر رہیں۔

 

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C