13/May/2026

لکی مروت میں خودکش دھماکا، 10 افراد ہلاک، 44 زخمی

👁️ 240 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
لکی مروت میں خودکش دھماکا، 10 افراد ہلاک، 44 زخمی

لکی مروت میں خودکش دھماکا، 10 افراد ہلاک، 44 زخمی

واشنگٹن (ش ح ط) پاکستان کے شورش زدہ صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع لکی مروت میں بارود سے بھرے آٹو رکشہ کے ذریعے کیے گئے خودکش دھماکے میں دو پولیس اہلکاروں سمیت 10 افراد ہلاک اور 44 زخمی ہو گئے۔

 

ڈی پی او محمد سجاد خان کے مطابق ابتدائی اطلاعات سے معلوم ہوتا ہے کہ خودکش حملہ آور نے چیک پوسٹ پر تعینات دو ٹریفک پولیس اہلکاروں کے قریب پہنچ کر خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔

 

مقامی پولیس کے مطابق یہ دھماکہ نورنگ کے مصروف ترین بازار میں واقع پھاٹک چوک پر ہوا۔ اس مقام پر صبح کے اوقات میں زیادہ رش کی وجہ سے ٹریفک پولیس اہلکار ٹریفک کو کنٹرول کرتے ہیں۔

 

پولیس اہلکاروں نے بتایا کہ لاشوں اور زخمیوں کو نورنگ ہسپتال کے علاوہ بنوں میں ڈسٹرکٹ ہیڈ کواٹر ہسپتال اور خلیفہ گل نواز ٹیچنگ ہسپتال منقتل کر دیا گیا ہے۔

 

دوسری جانب میڈیکل اینڈ ٹیچنک انسٹیٹیوٹ (ایم ٹی آئی) بنوں کے ترجمان نعمان خان نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ اس دھماکے کے 29 زخمی بنوں لائے گئے ہیں، جن میں سے 15 زخمی ڈسٹرکٹ ہیدڈ کواٹرز ہسپتال بنوں اور پانچ زخمیوں کو خلیفہ گل نواز ٹیچنگ ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔

 

یہ دھماکا ایسے وقت ہوا ہے جب چند روز قبل بنوں میں بھی ایک خودکش حملے میں بارود سے بھری گاڑی چیک پوسٹ سے ٹکرائی تھی، جس کے بعد حملہ آوروں نے پولیس پر فائرنگ کر دی تھی۔ اس حملے میں 15 اہلکار ہلاک ہوئے تھے۔

 

ایم ایس ڈاکٹر اسحاق نے تصدیق کی کہ ہسپتال میں دو ٹریفک پولیس اہلکاروں عادل جان اور راحت اللہ سمیت 10 افراد کی لاشیں لائی گئی ہیں۔

 

اس  دھماکے میں نوجوان کھلاڑی افنان بھی ہلاک ہو گیا، جو سات بہنوں کا اکلوتا بھائی بتایا جاتا ہے۔ اس کی ہلاکت کی خبر نے علاقے میں غم کی فضا پیدا کر دی ہے۔

 

دوسری جانب ایک اور نوجوان ریاض ولد کریم خان بھی دھماکے کا نشانہ بنا۔ اطلاعات کے مطابق ریاض اپنی شادی کی خریداری کے لیے بازار آیا تھا۔ وہ اپنے گھر کا واحد کفیل تھا اور محنت مزدوری کر کے خاندان کا سہارا بنا ہوا تھا۔

 

ریاض کے اہل خانہ کے مطابق اس کے والد پہلے ہی وفات پا چکے تھے جبکہ چند ماہ قبل اس کے چھوٹے بھائی محمد مصطفیٰ کو بھی دہشت گردوں نے ہلاک کر دیا تھا۔ ریاض پہلے ایف سی میں ملازم تھا، تاہم والدہ کی خواہش پر اس نے نوکری چھوڑ دی تھی کیونکہ وہ اپنے آخری بیٹے کو کھونا نہیں چاہتی تھیں۔

 

بعد ازاں ریاض نے ایک لوڈر رکشہ خرید کر نورنگ بازار میں اپنی محنت مزدوری شروع کر دی تھی، لیکن خونریز خودکش نے اس خاندان سے آخری مرد کا سہارا بھی چھین لیا۔ اہل خانہ کے مطابق اب گھر میں کوئی مرد باقی نہیں رہا۔

 

اس واقع پر ردعمل کے طور پر اسلام آباد نے پیر کے روز ملک میں تعینات افغانستان کے اعلیٰ سفارت کار کو طلب کرکے ایک بار پھر اپنی شدید تشویش کا اظہار کیا اور اپنے اپنے موقف کا اعادہ کیا کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردانہ حملوں کے لیے استعمال ہو رہی ہے۔

 

ڈیلی اردو کے مطابق پاکستانی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ افغان ناظم الامور کو طلب کیا گیا اور انہیں آگاہ کیا گیا کہ اس واقعے کی تفصیلی تحقیقات، جمع کیے گئے شواہد اور تکنیکی انٹیلی جنس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ حملہ افغانستان میں مقیم دہشت گردوں نے منصوبہ بندی کے تحت کیا۔

 

افغانستان کی طالبان حکومت بارہا پاکستان کے ان الزامات کی تردید کرتی رہی ہے کہ افغان سرزمین شدت پسندوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ ہے۔

 

حالیہ مہینوں میں دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان کشیدہ تعلقات مہلک مسلح تصادم میں بدل چکے ہیں، جن میں افغانستان کے شہروں پر پاکستانی فضائی حملے بھی شامل ہیں۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C