05/January/2026

لکی مروت میں فیکٹری ملازمین کی بس پر بم حملہ، ایک شخص ہلاک، 11 زخمی

👁️ 239 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
لکی مروت میں فیکٹری ملازمین کی بس پر بم حملہ، ایک شخص ہلاک، 11 زخمی

لکی مروت میں فیکٹری ملازمین کی بس پر بم حملہ، ایک شخص ہلاک، 11 زخمی

پشاور (ڈیلی اردو) پاکستان کے شورش زدہ صوبے خیبر پختونخوا کے ضلع لکی مروت میں پیر کی صبح لکی سیمنٹ فیکٹری جانے والی ایک بس کو دیسی ساختہ بم حملے کا نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں ایک شخص ہلاک جبکہ 11 افراد زخمی ہو گئے۔

 

ضلعی پولیس افسر (ڈی پی او) لکی مروت نذیر خان کے مطابق حملہ بیگو خیل روڈ پر ناورخیل موڑ کے قریب پیش آیا۔ واقعے کے بعد پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی اور علاقے میں سرچ اینڈ اسٹرائیک آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔

 

سول ہسپتال لکی مروت کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر کفایت اللہ نے بتایا کہ 12 زخمیوں کو ہسپتال منتقل کیا گیا تھا، جن میں سے ایک زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے ہلاک ہو گیا۔

 

پولیس کے مطابق بیگو خیل سمیت لکی مروت کے مختلف دیہی علاقوں میں مقامی امن کمیٹیاں سرگرم ہیں، جو شدت پسندوں کے خلاف مزاحمت کر رہی ہیں۔ حالیہ دنوں میں بیگو خیل اور تختی خیل کے علاقوں میں امن کمیٹیوں اور شدت پسندوں کے درمیان جھڑپوں کی اطلاعات بھی موصول ہو چکی ہیں۔

مقامی افراد کے مطابق بس میں بیگو خیل سے تعلق رکھنے والے لکی سیمنٹ فیکٹری کے ملازمین سوار تھے۔

 

دوسری جانب اتوار کے روز تحصیل نورنگ میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے مقامی ٹریفک پولیس کے انچارج سمیت تین اہلکار ہلاک ہو گئے تھے، جن میں سے ایک اہلکار کی تدفین آج ان کے آبائی علاقے میں کی جا رہی ہے۔ نورنگ، ضلع بنوں اور لکی مروت کی سرحد پر واقع ایک اہم شاہراہ پر واقع ہے۔

 

علاقے میں 2025 کے دوران پُرتشدد واقعات میں مسلسل اضافہ دیکھا گیا ہے۔ شمالی وزیرستان کے علاقے میر علی سے بھی تشدد کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں، جہاں ہفتے کی شام ایک نجی سکول پر مبینہ طور پر کواڈ کاپٹر کے ذریعے دھماکہ کیا گیا، جس میں تین افراد زخمی ہوئے۔

 

زخمیوں کو منتقل کرنے کے لیے آنے والی ریسکیو 1122 کی گاڑی پر بھی حملہ کیا گیا، جس کے نتیجے میں ایک اہلکار زخمی ہوا۔ واقعے کے حوالے سے شمالی وزیرستان کے ضلعی پولیس افسر سے رابطہ کیا گیا تاہم تاحال کوئی مؤقف سامنے نہیں آ سکا۔

یہ واقعات ایسے وقت میں پیش آئے ہیں جب جمعے کے روز میر علی میں ’میر علی پاسون‘ کے نام سے ایک بڑے عوامی مظاہرے کا انعقاد کیا گیا، جس میں علاقے میں امن کے قیام کا مطالبہ کیا گیا۔

 

مظاہرے میں شریک عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما ملک نثار علی خان نے کہا کہ بدقسمتی سے جب بھی علاقے میں امن کے لیے آواز بلند کی جاتی ہے، اس کے بعد ایسے واقعات رونما ہوتے ہیں جو بدامنی کو مزید ہوا دیتے ہیں۔

 

ملک نثار علی خان کے مطابق حالیہ دنوں میں ان کے گھر پر ایک ہفتے کے دوران دو مرتبہ مارٹر گولے گرے، جن کے نتیجے میں ان کے خاندان کے چھ افراد زخمی ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ امن پاسون کے شرکاء نے تمام فریقین کو 20 جنوری تک کا وقت دیا ہے، اس دوران جرگوں کے ذریعے امن قائم کرنے کی کوشش کی جائے گی، بصورت دیگر آئندہ لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C