22/August/2024

مبارک ثانی کیس: وفاق کی درخواست منظور، سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے سے متنازع پیراگراف حذف کر دیے

👁️ 129 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
مبارک ثانی کیس: وفاق کی درخواست منظور، سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے سے متنازع پیراگراف حذف کر دیے

مبارک ثانی کیس: وفاق کی درخواست منظور، سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے سے متنازع پیراگراف حذف کر دیے

اسلام آباد (ڈیلی اردو/بی بی سی) مبارک ثانی کیس میں سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت کی درخواست منظور کرتے ہوئے 6 فروری اور 24 جولائی کے فیصلوں سے متنازع پیراگراف نمبر 7 اور 42 کو حذف کرنے کا حکم دیا ہے۔

عدالت نے جمعرات کو اپنے فیصلے میں کہا کہ ’مبارک ثانی نظر ثانی فیصلے کے خذف شدہ پیراگراف کو عدالتی نظیر کے طور پر پیش نہیں کیا جا سکتا۔‘

سپریم کورٹ نے نظرثانی فیصلے کے پیراگراف 7، 42 اور 49 سی کو خذف کر دیا۔ عدالت میں علما کی جانب سے تینوں پیراگرافس کو خذف کرنے کی استدعا کی گئی تھی۔ نظرثانی فیصلے کے خذف کردہ پیراگرافس میں احمدیوں کی ممنوعہ کتاب اور تبلیغ سے متعلق ذکر کیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ کے سامنے 6 فروری کو ملزم کی ضمانت اور فردِ جرم سے بعض الزامات حذف کروانے کی درخواست سماعت کے لیے مقرر ہوئی جو لاہور ہائیکورٹ سے ضمانت مسترد ہونے کے بعد 16 اور 27 نومبر 2023 کے فیصلوں کے خلاف دائر کی گئی تھی۔

ملزم پر چھ دسمبر 2022 کو ضلع چنیوٹ میں درج ایف آئی آر کے مطابق صوبہ پنجاب میں قرآن کی طباعت کے قانون 2011، تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 298 سی اور دفعہ 295 بی کے تحت تین الزامات لگائے گئے تھے۔

ایف آئی آر میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ ملزم ممنوعہ کتاب ’تفسیرِ صغیر‘ تقسیم کر رہا تھا جبکہ ضمانت کی درخواست میں ملزم کے وکیل کا مؤقف تھا کہ ایف آئی آر کے مطابق اس جرم کا ارتکاب 2019 میں کیا گیا جبکہ کسی بھی ممنوعہ کتاب کی تقسیم یا اشاعت کو پنجاب قرآن شریف (ترمیم) قانون کے تحت سنہ 2021 میں جرم قرار دیا گیا تھا۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے فیصلے میں کہا تھا کہ چونکہ سنہ 2019 میں ممنوعہ کتاب کی تقسیم جرم نہیں تھی اس لیے درخواست گزار پر یہ فردِ جرم عائد نہیں کی جا سکتی۔

’مبارک ثانی کیس‘ کے عدالتی فیصلے کے پیراگراف سات اور 42 میں کیا کہا گیا تھا؟

عدالت کی جانب سے ’مبارک ثانی کیس‘ میں نظرِ ثانی کی اپیل پر فیصلے کے پیراگراف نمبر 7 میں کہا گیا تھا کہ ’ایف آئی آر میں ملزم پر مجموعہ تعزیرات کی دفعہ 295B کا تو ذکر کیا گیا لیکن کسی قانونی شق کا صرف ذکر کرنا ملزم کو اس دفعہ کے تحت جرم کے لیے ذمہ دار ٹھرانے کے لیے کافی نہیں ہوتا۔ ایف آئی آر کے مندرجات میں ’توہینِ قرآن‘ کا الزام نہ تو بلاواسطہ اور نہ ہی بالواسطہ لگایا گیا تھا، اور چونکہ مذکورہ ادارہ جہاں ایف آئی آر کے مطابق ممنوعہ کتاب تقسیم کی گئی تھی احمدیوں کا ادارہ تھا، اس لیے اس فعل پر مجموعہ تعزیرات کی دفعہ 298C کا اطلاق نہیں ہو سکتا تھا۔ درخواست گزار نے فوجداری درخواست نمبر 1344-L/2023 کے ذریعے ضمانت پر رہائی کی درخواست دائر کی تھی۔ عدالتِ ہذا کے علم میں یہ بات لائی گئی کہ ملزم قید میں 13 مہینے گزار چُکا ہے، جبکہ ممنوعہ کتاب کی تقسیم کا جُرم ثابت ہونے پر اسے جس قانون کے تحت سزا سُنائی جا سکتی ہے وہ فوجداری ترمیمی قانون، 1932 کی دفعہ 5 ہے جس کے تحت زیادہ سے زیادہ 6 مہینے تک کی سزائے قید دی جا سکتی ہے۔‘

تاہم اسی عدالتی فیصلے کے پیراگراف نمبر 42 میں کہا گیا تھا کہ ’آئینی و قانونی دفعات اور عدالتی نظائر کی اس تفصیل سے ثابت ہوا کہ احمدیوں کے دونوں گروہوں کو غیر مسلم قرار دینے کے بعد انھیں آئین اور قانون کے مطابق اپنے مذہب پر عمل پیرا ہونے اور اس کے اظہار اور اس کی تبلیغ کا حق اس شرط کے ساتھ حاصل ہے کہ وہ عوامی سطح پر مسلمانوں کی دینی اصطلاحات استعمال نہیں کریں گے، نہ ہی عوامی سطح پر خود کو مسلمانوں کے طور پر پیش کریں گے۔ تاہم اپنے گھروں، عبادت گاہوں اور اپنے نجی مخصوص اداروں کے اندر انھیں قانون کے تحت مقررہ کردہ ’معقول قیود‘ کے اندر گھر کی خلوت‘ کا حق حاصل ہے۔‘

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C