31/August/2026

مکہ دفاعی معاہدہ: سعودی عرب میں سیکریٹریٹ کے قیام پر اتفاق

👁️ 79 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
مکہ دفاعی معاہدہ: سعودی عرب میں سیکریٹریٹ کے قیام پر اتفاق

مکہ دفاعی معاہدہ: سعودی عرب میں سیکریٹریٹ کے قیام پر اتفاق

استنبول(ڈیلی اردو) پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت اسٹریٹجک سیاسی و دفاعی کمیٹی کا پہلا اجلاس استنبول میں منعقد ہوا، جس میں تینوں ممالک کے وزرائے خارجہ، وزرائے دفاع اور عسکری قیادت نے شرکت کی۔ اجلاس میں اتحاد کے عملی ڈھانچے، دفاعی تعاون اور علاقائی سلامتی سے متعلق آئندہ کے لائحہ عمل پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

اجلاس کے بعد ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان نے بتایا کہ تینوں ممالک نے اتحاد کے باضابطہ نام ’’مکہ دفاعی اتحاد‘‘ پر اتفاق کیا ہے، جبکہ اس کے پہلے سیکریٹری جنرل کے لیے پاکستان سے امیدوار نامزد کرنے پر بھی اتفاق رائے سامنے آیا ہے۔

مشترکہ اعلامیے کے مطابق سعودی عرب میں مکہ معاہدے کا مستقل سیکریٹریٹ قائم کیا جائے گا، جس کی ابتدائی سربراہی پاکستان سے تعلق رکھنے والے سیکریٹری جنرل کریں گے۔ پاکستانی سیکریٹری جنرل تین سال تک سیکریٹریٹ کی قیادت کریں گے۔

حاقان فیدان نے کہا کہ مکہ دفاعی اتحاد کسی مخصوص ملک کے خلاف قائم نہیں کیا گیا بلکہ ان تمام ممالک کے لیے کھلا ہے جو اس کے بنیادی اصولوں اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کرتے ہیں۔ ان کے مطابق مستقبل میں مزید ممالک کو اتحاد میں شامل کرنے کے لیے طریقہ کار وضع کیا جائے گا۔

ترک وزیر خارجہ نے کہا کہ خطے میں موجود سکیورٹی چیلنجز کا اثر پوری دنیا پر پڑتا ہے، اس لیے علاقائی ممالک کو اپنی سلامتی کے معاملات میں زیادہ ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک دوسرے کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام کرنا چاہیے۔ ان کے بقول مکہ دفاعی اتحاد کا مقصد خطے میں استحکام پیدا کرنا، کشیدگی کم کرنا اور امن و ترقی کے امکانات کو بہتر بنانا ہے۔

دفاعی تعاون اور مشترکہ صلاحیتوں میں اضافے پر اتفاق

اجلاس میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کی مسلح افواج کے درمیان باہمی رابطہ اور تعاون بڑھانے پر غور کیا گیا۔ تینوں ممالک نے دفاعی صنعت، ٹیکنالوجی کی مشترکہ ترقی، تحقیق اور دفاعی مصنوعات کی مشترکہ تیاری کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر بھی اتفاق کیا۔

مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ تینوں ممالک اجتماعی دفاعی صلاحیت اور باہمی تعاون کو مزید مؤثر بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں گے۔ اس کے علاوہ بحرانوں کے پرامن حل، کشیدگی میں کمی اور خطے میں پائیدار امن کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھنے کے عزم کا بھی اظہار کیا گیا۔

سعودی وزیر دفاع خالد بن سلمان نے بھی اجلاس کے بعد کہا کہ معاہدے کے مختلف پہلوؤں کو عملی شکل دینے کا عمل آگے بڑھایا جائے گا تاکہ تینوں ممالک کے درمیان سیاسی اور دفاعی تعاون کو مزید مضبوط کیا جاسکے۔

حاقان فیدان کی نیتن یاہو پر سخت تنقید

اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کے دوران ترک وزیر خارجہ سے اسرائیل کی جانب سے ترکیہ کو سکیورٹی خطرہ قرار دیے جانے سے متعلق سوال بھی کیا گیا۔ حاقان فیدان نے جواب میں اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کو صرف ترکیہ ہی نہیں بلکہ عالمی سلامتی کے لیے بھی خطرہ قرار دیا۔

انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ خطے میں مزید خونریزی اور عدم استحکام روکنے کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔ حاقان فیدان نے اسرائیلی حکومت کی فلسطین سے متعلق پالیسیوں پر بھی شدید تنقید کی اور کہا کہ خطے میں جاری تنازع کے منفی اثرات وسیع پیمانے پر مرتب ہورہے ہیں۔

7 اگست کو معاہدے پر دستخط ہوئے تھے

پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے رواں ماہ 7 اگست کو مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ اس معاہدے کے تحت تینوں ممالک نے دفاع، سلامتی اور باہمی تعاون کے لیے ایک مشترکہ فریم ورک تشکیل دینے پر اتفاق کیا تھا۔

استنبول میں ہونے والا پہلا اجلاس اسی معاہدے کو عملی اور ادارہ جاتی شکل دینے کی جانب اہم پیش رفت قرار دیا جارہا ہے، جس کے تحت سعودی عرب میں سیکریٹریٹ کے قیام اور پاکستان سے پہلے سیکریٹری جنرل کی تقرری کا فیصلہ سامنے آیا ہے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C