13/February/2026

نیٹو کا ’’آرکٹک سینٹری‘‘ منصوبہ کیا ہے؟

👁️ 174 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
نیٹو کا ’’آرکٹک سینٹری‘‘ منصوبہ کیا ہے؟

نیٹو کا ’’آرکٹک سینٹری‘‘ منصوبہ کیا ہے؟

برسلز (ڈیلی اردو) شمالی بحر منجمد شمالی اور اس سے ملحقہ خطے میں گرین لینڈ کے تنازع کے باعث امریکہ اور یورپی اتحادیوں کے درمیان پیدا ہونے والی کشیدگی کے بعد نیٹو نے خطے میں اپنی موجودگی بڑھانے کا اعلان کیا ہے۔

 

نیٹو کے سپریم الائیڈ کمانڈر یورپ جنرل الیکسس جی گرینکیوچ نے بدھ کو کہا کہ ''آرکٹک سینٹری‘‘ نامی یہ اقدام نیٹو کی طاقت کو بروئے کار لاتے ہوئے ہمارے علاقے کے تحفظ اور آرکٹک و ہائی نارتھ کو محفوظ رکھنے کو یقینی بنائے گا۔

 

ان کے مطابق آرکٹک سینٹری کا مقصد ''اتحادی ممالک کا دفاع کرنا اور دنیا کے ایک انتہائی اسٹریٹجک اور ماحولیاتی طور پر چیلنجنگ خطے میں استحکام برقرار رکھنا‘‘ ہے۔

 

گرین لینڈ میں نیٹو کی موجودگی بڑھانے کی تجویز بعض اتحادی ممالک نے اس لیے پیش کی تھی تاکہ گرین لینڈ کے معاملے پر پیدا ہونے والے تنازع کو کم کیا جا سکے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بعض مواقع پر ڈنمارک کے زیر انتظام اس جزیرے کو ضم کرنے کی دھمکی دی تھی اور مؤقف اختیار کیا تھا کہ بصورت دیگر روس یا چین اسے اپنے قبضے میں لے سکتے ہیں۔

 

جنوری میں نیٹو کے سکریٹری جنرل مارک ُرٹے سے ملاقات کے بعد ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ گرین لینڈ اور پورے آرکٹک خطے سے متعلق مستقبل کے ایک معاہدے کا فریم ورک تیار کر لیا گیا ہے۔

 

اس معاہدے میں آرکٹک میں مشترکہ اقدامات کے ذریعے سکیورٹی یقینی بنانے کی شق شامل ہے، خصوصاً  امریکہ، کینیڈا، ڈنمارک، ناروے، سویڈن، فن لینڈ اور آئس لینڈ پر مشتمل  سات آرکٹک اتحادی ممالک کی مشترکہ کارروائیوں کے ذریعے۔ 

 

نیٹو کے اعلامیے کے مطابق آرکٹک سینڑی کے تحت خطے میں اتحادی ممالک کی سرگرمیوں کو ایک مشترکہ آپریشنل حکمت عملی کے تحت منظم کیا جائے گا تاکہ نیٹو کی موجودگی کو مضبوط بنایا جا سکے۔

 

ان سرگرمیوں میں ڈنمارک کی جانب سے ترتیب دی گئی کثیرالجہتی مشقیں شامل ہیں، جن کا مقصد خطے میں نیٹو کی آپریشنل صلاحیت میں اضافہ کرنا ہے۔ اسی طرح ناروے میں ہونے والی آئندہ فوجی مشق میں بھی اتحادی ممالک کے دستے پہنچنا شروع ہو چکے ہیں۔

 

جرمن خبر رساں ادارے ڈی پی اے کو حاصل معلومات کے مطابق جرمن مسلح افواج بنڈس ویئر آرکٹک سینٹری میں یورو فائٹر طیاروں اور A400M ٹرانسپورٹ طیاروں کے ساتھ شرکت کا ارادہ رکھتی ہے۔

 

گرین لینڈ کا بڑا حصہ برف سے ڈھکا ہوا ہے۔ یہ رقبے میں جرمنی سے چھ گنا بڑا ہے، تاہم اس کی آبادی تقریباً 57 ہزار افراد پر مشتمل ہے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C