21/October/2026

پاکستان میں لاپتا افراد کے 11 ہزار سے زائد کیسز میں سے 9,596 حل ہونے کا دعویٰ، 1,439 تاحال زیرِ تفتیش

👁️ 39 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
پاکستان میں لاپتا افراد کے 11 ہزار سے زائد کیسز میں سے 9,596 حل ہونے کا دعویٰ، 1,439 تاحال زیرِ تفتیش

پاکستان میں لاپتا افراد کے 11 ہزار سے زائد کیسز میں سے 9,596 حل ہونے کا دعویٰ، 1,439 تاحال زیرِ تفتیش

اسلام آباد(ڈیلی اردو) پاکستان میں لاپتا افراد کے معاملے سے متعلق ایک سرکاری پالیسی دستاویز میں بتایا گیا ہے کہ کمیشن برائے انکوائری آن انفورسڈ ڈس اپیئرنسز کو مجموعی طور پر 11,035 کیسز موصول ہوئے، جن میں سے 9,596 نمٹائے جا چکے ہیں، جبکہ 1,439 کیسز تاحال زیرِ تفتیش ہیں۔ دستاویز کے مطابق نمٹائے گئے کیسز کی شرح 86.95 فیصد ہے۔

صوبائی اعداد و شمار کے مطابق خیبر پختونخوا میں 3,849 میں سے 2,954، بلوچستان میں 2,970 میں سے 2,797، سندھ میں 1,888 میں سے 1,756 اور پنجاب میں 1,820 میں سے 1,633 کیسز حل ہونے کی اطلاع دی گئی ہے۔ اسی طرح اسلام آباد کے 427 میں سے 385 اور آزاد کشمیر کے 71 میں سے 61 کیسز نمٹائے گئے، جبکہ گلگت بلتستان کے تمام 10 درج شدہ کیسز حل ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ دستاویز میں بلوچستان میں کیسز نمٹانے کی شرح 94.17 فیصد بتائی گئی ہے۔

پالیسی دستاویز میں کہا گیا ہے کہ لاپتا افراد کے تمام معاملات کو جبری گمشدگی قرار نہیں دیا جا سکتا، کیونکہ بعض افراد کے لاپتا ہونے کے پیچھے ذاتی تنازعات، جرائم، بیرونِ ملک جانے یا دیگر وجوہات کا امکان بھی ہو سکتا ہے۔ دستاویز میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ 70 سے 80 فیصد کیسز ذاتی یا مفاداتی نوعیت کے ہو سکتے ہیں، تاہم اس تناسب کی آزادانہ تصدیق کے لیے شواہد فراہم نہیں کیے گئے۔

دستاویز کے مطابق کمیشن مئی 2010 میں قائم کیا گیا تھا، جبکہ وفاقی حکومت نے 25 جون 2025 کو اس کی تشکیلِ نو کی۔ اس میں 6 اپریل 2026 کو جسٹس (ر) منظور حسین ملک کی بطور چیئرمین تقرری کا بھی ذکر ہے۔ کیسز کی تحقیقات کے لیے پولیس، مشترکہ تحقیقاتی ٹیموں، صوبائی ٹاسک فورسز اور کمیشن کے کردار کی تفصیلات بھی شامل کی گئی ہیں۔

متاثرہ خاندانوں کی مالی معاونت کے حوالے سے دستاویز میں بتایا گیا ہے کہ وفاقی کابینہ نے اگست 2024 میں اہل خاندانوں کے لیے فی خاندان 50 لاکھ روپے امداد کی منظوری دی تھی، جس کے تحت ایک ہزار خاندانوں کے لیے مجموعی طور پر 5 ارب روپے مختص کیے گئے۔ دستاویز میں انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے تحت بعض حالات میں 90 روز تک احتیاطی حراست اور پنجاب میں ججوں، پراسیکیوٹرز اور گواہوں کے تحفظ کے لیے خصوصی عدالتی طریقۂ کار کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔

تاہم، کیسز کو حل شدہ قرار دینے کے معیار، متاثرہ خاندانوں کے اطمینان اور جبری گمشدگیوں سے متعلق شکایات کی صورتِ حال جاننے کے لیے مزید تفصیلات ضروری ہیں۔ کیسز نمٹائے جانے کے اعداد و شمار بذاتِ خود یہ ثابت نہیں کرتے کہ ہر معاملے میں لاپتا شخص کی بازیابی ہوئی یا خاندان کو مکمل جواب مل گیا۔

 

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C