13/October/2025

پاکستان کے 58 فوجی ہلاک، 20 چوکیاں پر قبضہ کیا گیا، طالبان حکومت کا دعویٰ

👁️ 459 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
پاکستان کے 58 فوجی ہلاک، 20 چوکیاں پر قبضہ کیا گیا، طالبان حکومت کا دعویٰ

پاکستان کے 58 فوجی ہلاک، 20 چوکیاں پر قبضہ کیا گیا، طالبان حکومت کا دعویٰ

کابل (ڈیلی اردو/بی بی سی) افغانستان میں طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان کی جانب سے افغانستان پر کیے گئے مختلف حملوں کے جواب میں کی گئی کارروائیوں میں پاکستان کے 58 سکیورٹی اہلکار ہلاک جبکہ 30 زخمی ہوئے ہیں۔

 

اتوار کو کابل میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ طالبان فورسز نے جوابی کارروائی کے دوران پاکستان کی 20 چیک پوسٹوں پر قبضہ کیا، تاہم لڑائی ختم ہونے کے بعد یہ چوکیاں واپس کر دی گئیں۔

 

برطانوی خبر رساں ادارے بی بی سی کے مطابق، ذبیح اللہ مجاہد کے ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی، اور تاحال پاکستان کی حکومت یا فوج کی جانب سے ان الزامات پر کوئی ردِعمل سامنے نہیں آیا۔

 

ترجمان کے مطابق، جھڑپوں کے دوران نو طالبان اہلکار ہلاک اور 18 زخمی ہوئے۔

 

ذبیح اللہ مجاہد نے مزید الزام عائد کیا کہ داعش کے سربراہ اس وقت پاکستان میں موجود ہیں اور یہ تنظیم پاکستان کے صوبوں خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں اب بھی فعال ہے۔

 

ان کے بقول، “افغانستان سے داعش کا مکمل خاتمہ کر دیا گیا ہے، مگر پاکستان میں اس کے تربیتی مراکز قائم ہیں، لہٰذا عالمی برادری کو اس کا نوٹس لینا چاہیے۔”

 

ذبیح اللہ مجاہد نے یہ بھی کہا کہ حال ہی میں افغانستان میں ہونے والے ایک بڑے حملے میں داعش ملوث تھی اور “اس کے جنگجو پاکستان سے آئے تھے۔”

 

طالبان ترجمان نے افغان وزیرِ خارجہ کے بھارت کے دورے کے بارے میں کہا کہ یہ دورہ کسی ملک کے خلاف نہیں ہے اور کسی ملک کو اس پر تحفظات نہیں ہونے چاہییں۔

 

ذبیح اللہ مجاہد نے مزید الزام عائد کیا کہ پاکستانی فوج کے اندر ایک مخصوص گروہ افغانستان کی ترقی اور استحکام سے خوش نہیں اور وہ افغانستان کے خلاف سازشیں کر رہا ہے۔

 

ان کے مطابق، “ہم یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ پاکستانی فوج کی اکثریت، سیاست دان، علمائے کرام اور عوامی حلقے اس مخصوص گروپ کے افغانستان مخالف ایجنڈے سے متفق نہیں ہیں۔”

 

انہوں نے کہا کہ پاکستانی فوج کے اندر موجود یہ گروہ "افغانستان میں انتشار پھیلانے اور عالمی سطح پر طالبان حکومت کا منفی تاثر اُبھارنے" میں سرگرم ہے۔

 

واضح رہے کہ پاکستان کی حکومت اور فوج ماضی میں طالبان کی جانب سے ایسے الزامات کی تردید کرتی رہی ہے۔

 

پاکستانی حکام ملک میں ہونے والے بیشتر حملوں کی ذمہ داری تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) پر عائد کرتے ہوئے افغان طالبان سے بارہا مطالبہ کر چکے ہیں کہ وہ ٹی ٹی پی کے خلاف کارروائی کریں، مگر طالبان حکومت کا موقف ہے کہ دہشت گردی پاکستان کا اندرونی مسئلہ ہے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C