22/December/2025

پاکستان 4 ارب ڈالر کے جے ایف-17 طیارے اور فوجی سازوسامان لیبیا کو فروخت کریگا

👁️ 412 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
پاکستان 4 ارب ڈالر کے جے ایف-17 طیارے اور فوجی سازوسامان لیبیا کو فروخت کریگا

پاکستان 4 ارب ڈالر کے جے ایف-17 طیارے اور فوجی سازوسامان لیبیا کو فروخت کریگا

اسلام آباد (ڈیلی اردو/روئٹرز/بی بی سی) پاکستان نے مشرقی لیبیا میں برسراقتدار لیبین نیشنل آرمی (ایل این اے) کو چار ارب ڈالر سے زائد مالیت کا فوجی سازوسامان فروخت کرنے کا معاہدہ کر لیا ہے، حالانکہ شمالی افریقہ کے اس منقسم ملک پر اقوام متحدہ کی جانب سے اسلحہ کی پابندی عائد ہے۔ 

 

خبر رساں ادارے روئٹرز نے چار پاکستانی حکام کے حوالے سے آج بروز پیر اطلاع دی ہے کہ یہ معاہدہ پاکستانی فوجی سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کے گزشتہ ہفتے مشرقی لیبیا کے شہر بن غازی کے دورے کے دوران ایل این اے کے نائب کمانڈر ان چیف صدام خلیفہ حفتر کے درمیان ملاقات کے بعد طے پایا۔ دفاعی امور سے وابستہ ان چاروں حکام نے معاہدے کی حساس نوعیت کے باعث اپنے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر روئٹرز سے بات کی۔

 

پاکستان کی وزارت خارجہ، وزارت دفاع اور فوج کے ترجمان نے اس حوالے سے روئٹرز کی جانب سے تبصرے کی درخواستوں کا جواب نہیں دیا۔

 

اس معاہدے کو پاکستان کی تاریخ میں ہتھیاروں کی فروخت کے سب سے بڑے معاہدوں میں سے ایک قرار دیا جا رہا ہے۔ لیبیا میں سن 2011 میں نیٹو کی حمایت یافتہ بغاوت کے نتیجے میں معمر قذافی کی حکومت کا خاتمہ ہونے کے بعد سے یہ ملک حریف دھڑوں میں تقسیم ہو گیا تھا۔ اس صورتحال میں لیبیا کے  ساتھ کسی بھی اسلحہ معاہدے کو ملک میں جاری عدم استحکام کے تناظر میں کڑی جانچ کا سامنا ہو سکتا ہے۔

 

روئٹرز کی جانب سے دیکھے گئے معاہدے کے ایک مسودے کے مطابق اس میں 16 جے ایف-17 لڑاکا طیاروں اور 12 سپر مشاق تربیتی طیاروں کی خریداری شامل ہے۔ جے ایف-17 ایک کثیرالمقاصد جنگی طیارہ ہے، جسے پاکستان اور چین نے مشترکہ طور پر تیار کیا ہے جبکہ سپر مشاق بنیادی پائلٹ تربیت کے لیے استعمال ہوتا ہے۔

 

ایک پاکستانی اہلکار نے اس فہرست کی تصدیق کی جبکہ دوسرے نے کہا کہ اس میں درج تمام ہتھیار معاہدے کا حصہ ہیں، تاہم ان کی درست تعداد نہیں بتائی جا سکتی۔

 

ایک اہلکار کے مطابق یہ معاہدہ زمینی، بحری اور فضائی سازوسامان کی فراہمی پر مشتمل ہے، جو ڈھائی سال میں مکمل کیا جائے گا، اور اس میں جے ایف-17 طیارے بھی شامل ہو سکتے ہیں۔ دو حکام نے معاہدے کی مالیت چار ارب ڈالر سے زائد بتائی، جبکہ دیگر دو کے مطابق اس کی مجموعی قیمت 4.6 ارب ڈالر ہے۔

 

ایل این اے کے سرکاری میڈیا چینل نے اتوار کو رپورٹ کیا کہ دھڑے نے پاکستان کے ساتھ دفاعی تعاون کے معاہدے پر دستخط کیے ہیں، جس میں اسلحہ کی فروخت، مشترکہ تربیت اور فوجی پیداوار شامل ہے، تاہم اس حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔ الحدث ٹی وی پر نشر ہونے والے بیان میں حفتر نے کہا، ’’ہم پاکستان کے ساتھ اسٹریٹجک فوجی تعاون کے ایک نئے مرحلے کا آغاز کر رہے ہیں۔‘‘

 

بن غازی کے حکام نے بھی فوری طور پر تبصرے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔

 

اقوام متحدہ کی تسلیم شدہ حکومتِ قومی اتحاد، جس کی قیادت وزیر اعظم عبدالحمید الدبیبہ کر رہے ہیں، مغربی لیبیا کے بڑے حصے کو کنٹرول کرتی ہے، جبکہ حفتر کی ایل این اے مشرقی اور جنوبی علاقوں بشمول بڑے تیل کے ذخائر پر قابض ہے اور وہ مغربی حکومت کو تسلیم نہیں کرتی۔

 

لیبیا پر سن 2011 سے اقوام متحدہ کی اسلحہ پابندی نافذ ہے، جس کے تحت ہتھیاروں اور متعلقہ سامان کی منتقلی کے لیے اقوام متحدہ کی منظوری ضروری ہے۔ دسمبر 2024ء میں اقوام متحدہ کو پیش کی گئی ماہرین کی ایک رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ لیبیا پر اسلحہ پابندی ’’غیر مؤثر‘‘ ثابت ہوئی ہے اور بعض غیر ملکی ریاستیں پابندی کے باوجود مشرقی اور مغربی لیبیا کی افواج کو فوجی تربیت اور مدد فراہم کرنے میں کھل کر شامل ہو رہی ہیں۔

 

یہ فوری طور پر واضح نہیں ہو سکا کہ آیا پاکستان یا لیبیا نے اقوام متحدہ کی پابندی سے کسی استثنا کے لیے درخواست دی ہے یا نہیں۔

 

تین پاکستانی حکام نے کہا کہ اس معاہدے سے اقوام متحدہ کی اسلحہ پابندی کی خلاف ورزی نہیں ہوتی۔ ایک اہلکار نے کہا کہ پاکستان لیبیا کے ساتھ معاہدہ کرنے والا واحد ملک نہیں۔ دوسرے نے کہا کہ حفتر پر کوئی پابندیاں عائد نہیں، جبکہ تیسرے کے مطابق بن غازی کے حکام کے مغربی ممالک کے ساتھ تعلقات بہتر ہو رہے ہیں، خاص طور پر ایندھن کی برآمدات میں اضافے کے باعث۔

 

پاکستان حالیہ برسوں میں دفاعی برآمدات بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے، جس میں دہائیوں پر محیط انسداد شورش سے نمٹنے کے تجربے اور ملکی دفاعی صنعت کا سہارا لیا جا رہا ہے، جو طیارہ سازی، بکتر بند گاڑیوں، اسلحہ اور بحری جہازوں کی تیاری تک پھیلی ہوئی ہے۔

 

فیلڈ مارشل عاصم منیر نے اتوار کو الحدث ٹی وی پر نشر ہونے والے بیان میں کہا، ’’بھارت کے ساتھ ہماری حالیہ جنگ نے دنیا کو ہماری جدید صلاحیتوں کو ظاہر کیا۔‘‘

 

لیبیا کے ساتھ یہ معاہدہ شمالی افریقہ میں پاکستان کی موجودگی کو وسعت دے گا، جہاں علاقائی اور عالمی طاقتیں لیبیا کے منقسم سکیورٹی نظام اور تیل سے تقویت یافتہ معیشت پر اثر و رسوخ کے لیے مقابلہ کر رہی ہیں۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C