28/September/2026

پی ٹی آئی پر ٹی ٹی پی سے تعلق اور دہشتگردوں کی مالی معاونت کے الزامات، وفاقی وزراء

👁️ 85 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
پی ٹی آئی پر ٹی ٹی پی سے تعلق اور دہشتگردوں کی مالی معاونت کے الزامات، وفاقی وزراء

پی ٹی آئی پر ٹی ٹی پی سے تعلق اور دہشتگردوں کی مالی معاونت کے الزامات، وفاقی وزراء

اسلام آباد(ڈیلی اردو) اسلام آباد میں مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا تارڑ اور وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے خیبر پختونخوا میں امن و امان کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے دہشتگردی کے خلاف وفاقی اور صوبائی اداروں کے درمیان مزید مؤثر تعاون پر زور دیا۔

طلال چوہدری نے کہا کہ حکومت کے پاس موجود معلومات کے مطابق افغانستان سے دہشتگرد عناصر پاکستان میں داخل ہوکر مختلف کارروائیاں کرتے ہیں۔ ان کے بقول ان گروہوں میں شامل دہشتگردوں کی ایک بڑی تعداد افغانستان کی رہائشی ہے۔ وزیر مملکت نے دعویٰ کیا کہ حالیہ عرصے میں دہشتگردوں کی جانب سے پاکستان میں کارروائیاں کرکے ملک میں عدم استحکام پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

وزیر مملکت نے ڈیرہ اسماعیل خان کے امن میلہ چیک پوسٹ پر حالیہ حملے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ واقعے میں خواتین اور بچوں سمیت شہری ہلاک ہوئے جبکہ امدادی کارکنوں کو بھی مبینہ طور پر نشانہ بنایا گیا۔ ان کے مطابق حملے کے بعد ایک مشتبہ حملہ آور کی تصویر دستیاب نظام میں چیک کی گئی، تاہم مقامی ریکارڈ سے اس کی شناخت نہیں ہوسکی۔ طلال چوہدری نے کہا کہ کھلے ذرائع سے حاصل معلومات کے ذریعے مذکورہ شخص کے کابل، افغانستان کا رہائشی ہونے کا دعویٰ سامنے آیا۔

طلال چوہدری نے کہا کہ پاکستان نے افغانستان کے حکام سے معاملے پر سفارتی رابطوں، مذاکرات، ڈوزیئرز اور دیگر ذرائع کے ذریعے بات کی ہے، تاہم ان کے بقول افغان حکام کے طرزِ عمل میں مطلوبہ تبدیلی نہیں آئی۔ انہوں نے مزید الزام عائد کیا کہ بعض دہشتگرد عناصر کو پاکستان میں حملوں کے لیے ڈالرز میں رقم ادا کی جاتی ہے۔

وزیر مملکت نے خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ کے ڈیرہ اسماعیل خان کے دورے کا حوالہ دیتے ہوئے سوال اٹھایا کہ صوبائی قیادت کی جانب سے دہشتگردی کے مبینہ بیرونی پہلو اور افغانستان سے درپیش خطرے کو واضح طور پر کیوں زیر بحث نہیں لایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت کے نمائندوں نے حملے میں ہلاک افراد کے اہل خانہ سے ملاقاتیں کیں اور دہشتگردی کے خلاف قومی سطح پر سیاسی اختلافات سے بالاتر ہوکر یکجہتی کی ضرورت ہے۔

طلال چوہدری نے خیبر پختونخوا میں پولیس اور سیکیورٹی اداروں کو دستیاب وسائل پر بھی سوالات اٹھائے۔ ان کے مطابق صوبے میں دہشتگردی کے خلاف طویل عرصے سے جاری کارروائیوں کے باوجود سیکیورٹی اداروں کو بعض ضروری سہولیات اور وسائل کی کمی کا سامنا ہے۔ انہوں نے مؤثر انسداد دہشتگردی کارروائیوں کے لیے مضبوط کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ، بلٹ پروف گاڑیوں اور مناسب اسلحے کی ضرورت پر زور دیا۔

وزیر مملکت نے مزید کہا کہ نیشنل ایکشن پلان کے 14 نکات پر اتفاق رائے موجود ہے اور ان پر عملدرآمد دہشتگردی کے خلاف قومی کوششوں کا اہم حصہ ہے۔ انہوں نے خیبر پختونخوا سے تقریباً 800 ارب روپے کے حسابات میں شفافیت اور احتساب کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا کہ حکومت دہشتگردی کے خاتمے اور سیکیورٹی اداروں کو ضروری معاونت فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے پی ٹی آئی کی قیادت کے بعض عناصر اور کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے درمیان مبینہ روابط اور دہشتگردوں کو مالی معاونت فراہم کرنے سے متعلق الزامات بھی عائد کیے۔ تاہم یہ الزامات وفاقی وزرا کے مؤقف کے طور پر بیان کیے گئے ہیں۔

عطا تارڑ نے سیاسی جماعتوں پر زور دیا کہ سیاسی اختلافات کے باوجود دہشتگردی کے معاملے پر واضح مؤقف اختیار کیا جائے۔ انہوں نے عوامی نیشنل پارٹی، پاکستان مسلم لیگ ن اور جمعیت علمائے اسلام سے وابستہ سیاسی کارکنوں اور رہنماؤں کی دہشتگردی کے خلاف جدوجہد اور قربانیوں کا بھی ذکر کیا۔

وفاقی وزیر نے خیبر پختونخوا میں نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کی موجودگی کا معاملہ بھی اٹھایا اور کہا کہ ان گاڑیوں کی مناسب رجسٹریشن اور نگرانی نہ ہونے سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے جرائم یا دہشتگردی میں استعمال ہونے والی گاڑیوں کا سراغ لگانا مشکل ہوسکتا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ گاڑیوں کی رجسٹریشن سے صوبائی حکومت کو اضافی آمدن بھی حاصل ہوسکتی ہے۔

عطا تارڑ نے یہ بھی کہا کہ وفاقی وزارت داخلہ نے خیبر پختونخوا پولیس کی آپریشنل صلاحیت بہتر بنانے کے لیے جدید گاڑیاں فراہم کرنے کی پیشکش کی تھی، تاہم ان کے بقول صوبائی حکومت نے انہیں قبول نہیں کیا۔ انہوں نے صوبائی حکومت سے سیکیورٹی اداروں کو مطلوبہ وسائل اور ادارہ جاتی معاونت فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔

دونوں وفاقی وزرا نے کہا کہ دہشتگردی کا مقابلہ صرف سیاسی اختلافات کے ذریعے نہیں کیا جاسکتا بلکہ وفاقی و صوبائی اداروں کے درمیان مؤثر رابطہ، انٹیلی جنس معلومات کا تبادلہ، سیکیورٹی اداروں کو مناسب وسائل کی فراہمی اور قومی انسداد دہشتگردی پالیسی پر عملدرآمد ضروری ہے۔

وفاقی حکومت نے ایک بار پھر کہا کہ شہریوں کے جان و مال کا تحفظ اس کی بنیادی ذمہ داری ہے اور دہشتگردی کے خلاف کارروائیوں میں شہریوں، پولیس اہلکاروں، سیکیورٹی اہلکاروں اور امدادی کارکنوں کی قربانیوں کو نظر انداز نہیں کیا جائے گا۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C