02/August/2024

ڈیرہ اسماعیل خان میں ججز کے قافلے پر دہشت گردوں کا حملہ، ججز محفوظ، 2 پولیس اہلکار ہلاک، 2 زخمی

👁️ 127 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
ڈیرہ اسماعیل خان میں ججز کے قافلے پر دہشت گردوں کا حملہ، ججز محفوظ، 2 پولیس اہلکار ہلاک، 2 زخمی

ڈیرہ اسماعیل خان میں ججز کے قافلے پر دہشت گردوں کا حملہ، ججز محفوظ، 2 پولیس اہلکار ہلاک، 2 زخمی

اسلام آباد (ش ح ط) خیبرپختونخوا کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں ججز کے اسکواڈ کی گاڑیوں کے قافلے پر حملہ کیا گیا جس کے نتیجے میں 2 پولیس اہلکار ہلاک اور دو زخمی ہوگئے۔ تاہم تینوں ججز حملے میں محفوظ رہے ہیں۔

ڈیلی اردو کے مطابق ڈیرہ اسماعیل خان میں ججز کی گاڑی پر دہشت گردوں نے حملہ کیا جس کے نتیجے میں ججز کے اسکواڈ میں شامل 2 سیکیورٹی اہلکار ہلاک اور دو شدید زخمی ہوئے گئے۔

پولیس کے مطابق حملے کے وقت گاڑی میں مقامی عدالت کے 3 ججز موجود تھے، حملے میں تینوں ججز محفوظ رہے۔

ڈی ایس پی ڈیرہ اسماعیل خان حافظ محمد عدنان کے مطابق ججز پر فائرنگ کا واقعہ ہتھالہ کے قریب پیش آیا، علاقے کا محاصرہ کر کے ملزمان کی تلاش شروع کر دی ہے۔

پولیس کے مطابق دہشت گردوں نے ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقے بھگوال کے قریب جج کی گاڑی پر حملہ کیا۔ ہلاک پولیس اہلکاروں میں سپاہی عبداللہ اور صمد شامل ہیں۔ یہ اہلکار ساؤتھ وزیرستان سے تعلق رکھتے تھے۔ حملے کے دوران نامعلوم افراد نے ایک ڈبل کیبن گاڑی بھی اپنے ساتھ لے گئے۔

پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہے اور حملہ آوروں کی تلاش جاری ہے۔

یاد رہے رواں ہفتے میں ڈیرہ اسماعیل خان مین شاہراہ پر تیسرا واقعہ ہے۔ دو روز قبل اقوام متحدہ کی گاڑی پر دہشت گردوں نے حملہ کیا جبکہ اسی روز بینگ کیش وین کو بھی دہشت گردوں نے پکڑا گیا اور پانچ کروڑ روپے لوٹنے کے بعد گاڑی کو آگ لگا کر چھوڑ گئے۔

یاد رہے کہ 27 اپریل کو ٹانک میں سیشن جج شاکراللہ مروت کو اغوا کرلیا گیا تھا جنہیں 2 روز بعد بازیاب کرالیا گیا تھا، جج کو پولیس اور قانون نافذ کرنے والے ادارے کی مشترکہ کارروائی میں بازیاب کرایاگیا تھا۔

بازیابی سے قبل نامعلوم مقام سے بھیجے گئے ویڈیو بیان میں شاکراللہ مروت نے کہا تھا کہ ’طالبان مجھے یہاں لائے ہیں، یہ ایک جنگل ہے اور جنگ جاری ہے۔‘

ایک منٹ طویل ویڈیو پیغام میں سیشن جج نے کہا تھا کہ ان کی رہائی تبھی ممکن ہے جب عسکریت پسندوں کا مطالبہ مان لیا جائے، میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں، پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اور سپریم کورٹ آف پاکستان سے درخواست کرتا ہوں کہ طالبان کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے اور میری بازیابی کو جلد از جلد یقینی بنایا جائے۔’

خیبر پختونخوا پولیس نے بتایا تھا کہ سیشن جج شاکر اللہ مروت کو ٹانک سے ڈیرہ اسماعیل خان جارہے تھے کہ مسلح دہشت گردوں نے ڈیرہ روڈ بھگوال سے انہیں اغوا کرلیا۔ جو بعدازاں تعاون کے عوض رہا کیے گئے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C