کررونا وباء کی آڑ میں فرقہ واریت کی سازش…! (ساجد خان)
👁️ 103 بار دیکھا گیا
کررونا وباء کی آڑ میں فرقہ واریت کی سازش…! (ساجد خان)
پاکستان میں جوں ہی کررونا وائرس کی وباء پھیلی ہے، ایک مخصوص طبقہ یہ باور کرانے کی حتیٰ الامکان کوشش کر رہا ہے کہ یہ ایران کی پاکستان سے دشمنی کی گئی ہے، اسی طرح شیعہ برادری کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے کہ انہوں نے ملک دشمنی ثابت کی ہے۔
کررونا وائرس ایک عالمگیر وباء ہے اور کوئی بھی یہ نہیں چاہتا کہ وہ کسی بیماری میں مبتلا ہو لہذا کسی کو بیمار ہونے پر تنقید کرنا انتہائی کم ظرفی ہے۔
دوسرا اعتراض یہ کیا جا رہا ہے کہ چین میں مقیم پاکستانی طلباء کو واپس نہیں لایا گیا مگر ایران سے زائرین کو خاص طور پر واپس لایا گیا حالانکہ دونوں واقعات مختلف ہیں کیونکہ چین سے صرف ان پاکستانی شہریوں کو واپس نہیں لایا گیا جو ووہان شہر میں مقیم تھے ورنہ چین کے باقی حصوں سے پاکستانی روزانہ کی بنیاد پر آتے رہے۔
ووہان شہر میں مقیم پاکستانی طلباء ایک عرصہ سے وہاں مقیم تھے اور وہ ان حالات میں مزید عرصہ بھی گزار سکتے تھے جبکہ ایران میں سینکڑوں زائرین تھے جو صرف چند دنوں کے لئے گئے تھے اور ان کی نا ہی مستقل رہائش تھی اور نا ہی اتنا سرمایہ کہ وہ طویل عرصے تک ایران میں رہ سکتے اور پاکستانی شہری صرف ایران سے نہیں آئے بلکہ پوری دنیا سے پاکستانی شہری واپس اپنے ملک آئے جیسے گزشتہ دنوں اٹلی سے واپس آنے والے شہری پاکستان پہنچا اور وہ کررونا وائرس کا مریض تھا۔
زائرین کے معاملے پر عوام سے لے کر میڈیا یہاں تک کہ اپوزیشن جماعتوں خصوصاً مسلم لیگ ن نے بھی انتہائی غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے حکومت میں موجود چند شیعہ وزراء کو بدنام کرنے کی کوشش کی کہ انہوں نے اپنی مسلکی برادری کو پورے ملک میں آزادانہ طور پر جانے کی اجازت دی لیکن دوسری طرف سعودی عرب سے سینکڑوں پاکستانی زائرین آزادی سے آئے اور ملک میں پھیل گئے تو ان افراد کو نا روکنے کا حکم کس وزیر نے دیا تھا۔
اسی طرح شیعہ مخالف کالعدم تنظیم سپاہ صحابہ/کالعدم تنظیم اہلسنت والجماعت کے رہنما بھی ایران اور شیعہ دشمنی میں بڑھ چڑھ کر افواہیں اور نفرت پھیلا رہے ہیں، میں ان کو قصوروار نہیں مانتا کیونکہ ان کی روزی روٹی ہی اسی نفرت کی مرہون منت ہے مگر ایک قومی سیاسی جماعت سے اس کم ظرفی کی امید ہرگز نہیں تھی۔
اب آتے ہیں چند حقائق پر جن کی طرف توجہ نہیں دی جا رہی اور وہ یہ ہے کہ افغان بارڈر ہو یا ایران بارڈر یا ائر پورٹ، ان مقامات پر داخل ہونے والے شہریوں کی صحت کا خیال رکھنا اور ٹیسٹ کرنا ریاست کی زمہ داری تھی۔
جب ایران سے آنے والے زائرین کو ہزار گنجی کوئٹہ میں رکھنے کا فیصلہ کیا گیا تو کوئٹہ میں سول سوسائٹی کے نام پر اس فیصلے کے خلاف مظاہرے کئے گئے، بلوچستان پارلیمنٹ میں احتجاج کیا گیا۔
جس پر زائرین کو ان کے صوبوں کے حوالے کر دیا گیا۔
جہاں تک بات ہے کہ پاکستان سے ایران یا شیعہ دشمنی کی تو یہ کیسے ممکن ہے کہ دشمنی پاکستان کی غیر شیعہ برادری سے ہو اور وباء لگا دی جائے اہل تشیع کو جو گھر جائیں تو سب اہل تشیع، انہیں مبارکباد دینے کے لئے آنے والوں کی اکثریت بھی شیعہ ہو گی۔
مسجد میں نمازی بھی شیعہ اور امام بارگاہ میں عزادار بھی شیعہ تو ایسی کسی سازش کا شکار تو سب سے زیادہ خود شیعہ ہی ہوں گے۔ اب ایسا کوئی الزام لگانا سوائے جہالت اور بغض کے کچھ اور وجہ نظر نہیں آتی حالانکہ کررونا وائرس سے پاکستان میں صرف تین اموات ہوئی ہیں مگر اسی الزامات لگانے والے مخصوص طبقہ کی مہربانی سے پاکستان نے اسی ہزار لاشیں اٹھائی ہیں۔ اس پر تو آج تک مسلم لیگ ن کے کسی رہنما نے یہ نہیں کہا کہ یہ مخصوص انتہا پسندانہ عقائد سعودی عرب سے آ رہے ہیں، انہیں روکا جائے۔
جب سے پاکستان میں کررونا وائرس کی وباء پھیلی ہے، سعودی عرب سے دس ہزار سے زائد پاکستانی واپس آئے ہیں اور ان میں سے بہت سے افراد اس بیماری کا شکار بھی تھے، جن میں سے ایک خاتون جھنگ کی شہری ہیں جو چند دن قبل عمرہ کر کے لوٹی ہیں۔
پاکستان میں کررونا وائرس سے پہلی ہلاکت پنجاب میں ہوئی ہے اور وہ مریض عمان سے واپس لوٹا تھا، دوسری ہلاکت مردان میں ہوئی ہے جو سعودی عرب سے واپس آیا تھا جبکہ تیسری ہلاکت پشاور میں ہوئی جو ترکی سے بذریعہ دوبئی سے پاکستان آیا تھا مگر کسی نے عمان اور سعودی عرب کو پاکستان دشمن قرار نہیں دیا۔
ریاست کی نااہلی کا الزام کسی اور پر نہیں لگایا جا سکتا کیونکہ آخر ایران میں بھی تو کسی طرح چین سے کررونا وائرس آیا ہو گا لیکن وہاں یہ کارڈ نہیں کھیلا گیا۔ اٹلی اور اسپین میں سینکڑوں ہلاکتیں ہو چکی ہیں کیا وہاں بھی کسی مخصوص طبقہ نے وائرس پھیلایا۔
حیرت کا مقام ہے کہ ایک مخصوص طبقہ ان مشکل حالات میں اتحاد قائم کرنے کے بجائے فتنہ و فساد پھیلانے کا موقع ہاتھ سے نہیں جانے دے رہے۔ یہ الزام تو ہمیں لگانا چاہئے تھا کہ ریاست نے جان بوجھ کر ایک سازش کے تحت غفلت کا مظاہرہ کرتے ہوئے شیعہ برادری میں اس وباء کو پھیلانے کی سازش کی ہے مگر ہم جانتے ہیں کہ یہاں ریاستی اداروں کی سازش سے زیادہ روایتی نااہلی ہے جس کی وجہ سے یہ وباء پورے پاکستان میں پھیلی۔ جس کا ایک واضح ثبوت یہ ہے کہ ایک شخص جو اسپین سے پاکستان پہنچا، ائر پورٹ پر اس میں کرونا وائرس کی تشخیص ہو گئی مگر وہ چھ ہزار روپے رشوت دے کر اپنے آبائی علاقے گجرات چلا گیا جہاں وہ لوگوں سے ملتا جلتا رہا۔
اسی طرح مردان کا رہائشی جو گزشتہ دنوں کررونا وائرس کی وجہ سے وفات پا گیا تھا وہ سعودی عرب سے عمرہ کر کے واپس پہنچا تھا، لوگوں سے ملاقاتیں کرتا رہا اور اب وہ پورا گاؤں لاک ڈاؤن ہے۔
گزشتہ دنوں لاہور کے علاقے گلبرگ میں ایک خاتون میں کررونا وائرس کی تشخیص ہوئی جو حال ہی میں برطانیہ سے واپس آئی تھیں اور انہوں نے اپنے گھر میں ہی تین سو افراد کی دعوت بھی کی تھی جبکہ ایران سے آئے زائرین کی اکثریت پہلے تفتان بارڈر پر قید رہی اور پھر ہزار گنجی کے علاقے میں قید رکھا گیا اور اس کے بعد سکھر، ڈیرہ اسماعیل خان میں اور جس کے بعد انہیں اپنے اپنے صوبوں میں قرنطینہ بھیج دیا گیا اور اب صوبہ سندھ کے ترجمان نے بتایا کہ صرف چودہ زائرین کو کررونا وائرس تشخیص ہوا ہے اور اس میں بھی زیادہ نااہلی ریاست کی ہے کہ انہوں نے بارڈر پر سب زائرین کو ایک ساتھ ہی کیمپوں میں قید رکھا جس سے وائرس منتقل ہوا۔
اب تک جن علاقوں کو لاک ڈاؤن کیا گیا یا جتنی اموات ہوئی ہیں وہ سب عمرہ یا خلیجی ممالک سے آئے تھے یا یورپ سے آئے تھے۔
زائرین تو گزشتہ کئی ہفتوں سے بارڈر پر قید کر لئے گئے تھے اور انہوں نے بھی دوسروں کی طرح رشوت دے کر بھاگنے کی کوشش نہیں کی۔ پاکستان میں جو کرونا وائرس پھیلا ہے، ان مریضوں کا ایران کے سفر سے کوئی تعلق نہیں تھا مگر پروپیگنڈا اس طرح کیا گیا کہ جیسے ایران کے علاوہ کسی اور ملک سے مریض کبھی آئے ہی نہیں ہے۔
اہل تشیع کے خلاف نفرت پھیلانے کا یہ پہلا موقع نہیں ہے۔ ہزاروں اہل تشیع کو فرقہ واریت میں قتل کیا گیا مگر اس کے باوجود الزام یہ لگایا جاتا رہا کہ ایران پاکستان میں فرقہ واریت پھیلاتا ہے جیسے ملک کے اسی ہزار شہری اہل تشیع نے ایران کی فنڈنگ سے مارے ہوں۔
یہ پروپیگنڈہ اعلیٰ سطح پر بلکہ کہیں نا کہیں سرکاری سرپرستی میں کیا جاتا ہے۔ کویتی وفد کا ایک سرکاری افسر نے بٹوہ چوری کیا تو فوراً سے اس کا نام تبدیل ہو کر زیدی سید ہو گیا۔ کیا ریاستی ادارے یہ سب پروپیگنڈا ہوتا نہیں دیکھتے مگر اس معاملہ پر سب خاموش ہو جاتے ہیں۔
ایرانی صدر پاکستان کے دورے پر آتے ہیں تو فوراً ڈی جی آئی ایس پی آر پریس کانفرنس کر کے کلبھوشن یادیو کا الزام ایران پر لگاتا ہے حالانکہ وہ گزشتہ پندرہ سالوں سے مسلمان بھارتی شہری کے پاسپورٹ پر آیا کرتا تھا مگر کسی نے یہ سوال نہیں پوچھا کہ جب وہ اتنی بار ائر پورٹ یا سرحد سے باقاعدہ پاکستانی ویزے پر آتا تھا تو اس وقت کون ذمہ دار تھا۔
پاکستان میں سعودی لابی کا سوائے ملک میں فرقہ وارانہ نفرت پھیلانے کے اور کچھ مقاصد نہیں ہیں مگر افسوس اس بات کا ہے اس مہم میں ہمارے ادارے، میڈیا اور سیاسی جماعتیں بھی برابر کی حصہ دار ہوتی ہیں کیونکہ تیل کی کمائی میں سب اپنا حصہ چاہتے ہیں۔
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
شمالی وزیرستان میں چیک پوسٹ پر خودکش حملہ ناکام، 4 حملہ آور ہلاک
03/June/2026 👁️ 281 بار دیکھا گیا
امریکی طیاروں نے ایک بار پھر ایران میں فضائی حملے کیے، پاسداران انقلاب کی جوابی کارروائیاں
03/June/2026 👁️ 156 بار دیکھا گیا
ٹانک میں دہشت گردوں کی فائرنگ، چھٹی پر آیا پولیس اہلکار ہلاک
03/June/2026 👁️ 155 بار دیکھا گیا
جزوی جنگ بندی کے باوجود لبنان میں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جھڑپیں جاری
03/June/2026 👁️ 326 بار دیکھا گیا
بنوں: دہشت گردوں نے گیس پائپ لائن دھماکے سے اڑا دی، پشاور میں دھماکا
03/June/2026 👁️ 274 بار دیکھا گیا
لبنان میں طویل المدتی اسرائیلی قبضہ ناقابلِ قبول ہے، فرانس
03/June/2026 👁️ 481 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
جنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 8783 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 4464 بار دیکھا گیاپاکستانی طیاروں کا کابل، پکتیکا، خوست اور جلال آباد میں فضائی حملہ، متعدد ہلاکتیں
10/October/2025 👁️ 3190 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ کے انتہائی مطلوب کمانڈر تہران طوری کے حملے میں پولیس افسر ہلاک
15/August/2025 👁️ 2366 بار دیکھا گیاکیا آپ کو معلوم ہے خام تیل کے ایک بیرل سے کتنے لیٹر پٹرول اور ڈیزل بنتا ہے؟
01/February/2019 👁️ 2049 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ نے پولیس افسر قیصر حسین کی ہلاکت کی ذمہ داری قبول کرلی
26/August/2025 👁️ 1861 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C