کَہبوب سے مغربی ساحل تک یمن میں لڑائی تیز، حوثی کمانڈر سمیت متعدد ہلاک، ایک لاکھ سے زائد افراد بے گھر
👁️ 98 بار دیکھا گیا
کَہبوب سے مغربی ساحل تک یمن میں لڑائی تیز، حوثی کمانڈر سمیت متعدد ہلاک، ایک لاکھ سے زائد افراد بے گھر
صنعاء (ڈیلی اردو) یمن میں مختلف محاذوں پر حکومت نواز فورسز اور ایران نواز حوثی باغیوں کے درمیان جھڑپوں میں شدت آگئی ہے۔ باب المندب کے قریب کَہبوب کے محاذ پر جاری لڑائی میں حوثی باغیوں کے ایک اہم کمانڈر صدام مطہر غلاب سمیت متعدد افراد کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں، جبکہ تعز اور مأرب کے مختلف علاقوں میں حوثی حملے پسپا کیے جانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ دوسری جانب اقوام متحدہ نے مغربی ساحلی علاقوں میں حالیہ کشیدگی کے باعث 110 شہریوں کے ہلاک یا زخمی ہونے اور ایک لاکھ 12 ہزار سے زائد افراد کے بے گھر ہونے کی تصدیق کی ہے۔ اسی دوران صنعاء میں حوثی قیادت کے خلاف ڈرون حملوں اور سعودی عرب کی جانب میزائل و ڈرون حملوں کو ناکام بنانے کے دعوے بھی سامنے آئے ہیں۔
کَہبوب میں حوثی کمانڈر صدام غلاب ساتھیوں سمیت ہلاک
مقامی ذرائع کے مطابق باب المندب کے قریب کَہبوب کے محاذ پر حالیہ جھڑپوں کے دوران حوثی باغیوں کا ایک کمانڈر صدام مطہر غلاب، جو ’’ابو عطان‘‘ کے نام سے بھی جانا جاتا تھا، اپنے متعدد ساتھیوں سمیت ہلاک ہوگیا۔
رپورٹس کے مطابق غلاب خود کو کرنل کے عہدے پر ظاہر کرتا تھا اور اس سے قبل عمران صوبے کے حوث اور بنی صریم اضلاع میں سیکیورٹی امور سے وابستہ ذمہ داریاں انجام دے چکا تھا۔ حالیہ دنوں میں اسے کَہبوب کے محاذ پر تعینات کیا گیا تھا، جہاں کئی روز سے شدید جھڑپیں جاری ہیں۔
غلاب کا تعلق صوبہ اِب کے ضلع القفر کے علاقے بنی سبأ سے بتایا جاتا ہے۔ دستیاب معلومات کے مطابق اس نے 2009 میں فضائی دفاع کے ادارے سے تربیت حاصل کی تھی اور بعد ازاں حوثی گروپ کے زیر انتظام مختلف سیکیورٹی اور جنگی ذمہ داریاں سنبھالتا رہا۔
مقامی طور پر جاری ہونے والی تعزیتی اطلاعات میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ وہ صوبہ اِب میں مرکزی سیکیورٹی فورسز کی قیادت کے علاوہ المخادر اور یریم اضلاع میں بھی سیکیورٹی عہدوں پر تعینات رہا، جبکہ فرع العدین سمیت دیگر علاقوں میں بھی ذمہ داریاں انجام دیتا رہا۔
رپورٹس کے مطابق غلاب ماضی میں مأرب سمیت مختلف محاذوں پر حوثی باغیوں کے ساتھ لڑائی میں شریک رہا اور بعد میں اسے کَہبوب منتقل کیا گیا۔
تعز اور باب المندب کے محاذوں پر حوثی حملے پسپا کرنے کا دعویٰ
حکومت نواز فورسز کے ذرائع کے مطابق تعز کے جنوب مغربی علاقوں، باب المندب اور الوازعیہ کے محاذوں پر حوثی باغیوں کی پیش قدمی کی متعدد کوششیں ناکام بنائی گئی ہیں۔
میدانی ذرائع کے مطابق الوازعیہ کے جنوب مغرب میں جبل المشرف کے مقام پر حوثی باغیوں نے سرکاری فورسز کی پوزیشنوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی، تاہم فائرنگ کے تبادلے کے بعد انہیں پیچھے ہٹنا پڑا۔ ذرائع نے لڑائی میں حوثی باغیوں کو جانی و مالی نقصان پہنچنے کا دعویٰ بھی کیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق حوثی باغی گزشتہ کئی روز سے باب المندب سے الوازعیہ اور پھر الشماطین تک مختلف محاذوں پر دباؤ بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ دوسری جانب المنصورہ اور جبل نمان کے اطراف بھی لڑائی کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
ان جھڑپوں کے دوران فضائی حملوں کی بھی اطلاعات ہیں، جن میں حوثی باغیوں کے مبینہ ٹھکانوں، اجتماعات اور عسکری کمک کو نشانہ بنائے جانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
مأرب میں دراندازی کی کوشش ناکام بنانے کا دعویٰ
یمن کے جنوبی مأرب میں حکومتی فورسز نے الفلیحہ کے علاقے میں حوثی باغیوں کی مبینہ دراندازی کی کوشش ناکام بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔
یمنی وزارت دفاع سے منسلک ویب سائٹ ’’26 ستمبر‘‘ کے مطابق کارروائی کے دوران 12 حوثی عناصر ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے۔ اسی دوران جنوبی مأرب میں ام ریش کیمپ اور عقبہ ملعا کے قریب حوثی باغیوں کے اجتماعات اور گاڑیوں کو فضائی حملوں کا نشانہ بنائے جانے کی بھی اطلاع دی گئی۔
صنعاء میں حوثی قیادت کو نشانہ بنانے کی اطلاعات
دوسری جانب سعودی ذرائع ابلاغ نے عسکری اور مقامی ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ صنعاء میں دو ڈرون کارروائیوں کے نتیجے میں حوثی باغیوں سے وابستہ چار اہم افراد ہلاک ہوئے۔
رپورٹس کے مطابق ایک کارروائی وسطی صنعاء کے ضلع اَزال میں ظہر حمیر کے مقام پر واقع ایک عسکری مرکز جبکہ دوسری کارروائی شہر کے مشرق میں جبل نقم کے قریب ایک مبینہ انٹیلی جنس مرکز کے خلاف کی گئی۔
سعودی اخبار ’’عکاظ‘‘ کے مطابق حملوں میں ظہر حمیر کے علاقے میں حوثی باغیوں کے سیکیورٹی ذمہ دار، جسے ’’ابو احمد المدانی‘‘ کے نام سے پکارا جاتا تھا، سمیت دیگر افراد ہلاک ہوئے۔ رپورٹ میں بعض ہلاک افراد کو ایرانی ماہرین قرار دیے جانے کا دعویٰ بھی کیا گیا ہے، تاہم ان تفصیلات کی آزاد ذرائع سے تصدیق واضح نہیں۔
حوثی ترجمان یحییٰ سریع نے صنعاء میں ایک کارروائی کو ناکام بنانے کا دعویٰ کرتے ہوئے اسے سعودی عرب سے منسوب کیا، جبکہ مقامی سطح پر سوشل میڈیا پر ایک نامعلوم طیارے یا ڈرون کی ویڈیوز بھی گردش کرتی رہیں۔
حوثیوں کا سعودی عرب پر میزائل اور ڈرون حملوں کا دعویٰ
حوثی ترجمان نے بعد ازاں سعودی عرب میں بعض حساس مقامات کو بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا۔ ان میں ریاض کے مبینہ اہداف اور بحیرہ احمر کے ساحل پر واقع ینبع میں سعودی آرامکو سے منسلک ایک تنصیب بھی شامل بتائی گئی۔
اس سے قبل سعودی شہری دفاع نے ریاض اور الخرج کے رہائشیوں کو ممکنہ فضائی خطرے سے متعلق موبائل پیغامات کے ذریعے خبردار کیا تھا، تاہم بعد میں خطرہ ختم ہونے کا اعلان کیا گیا۔
اتحادی افواج کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے دعویٰ کیا کہ سعودی فضائی دفاع نے ریاض کی جانب داغے گئے ایک بیلسٹک میزائل کو تباہ کردیا، جبکہ دیگر مقامات کو نشانہ بنانے کی حوثی کوششیں بھی ناکام بنائی گئیں۔
کَہبوب کی لڑائی کیوں اہم ہے؟
کَہبوب تعز اور لحج کے درمیان واقع ایک پہاڑی علاقہ ہے جو باب المندب کے قریب ساحلی پٹی پر نظر رکھنے کے لیے جغرافیائی اعتبار سے اہم سمجھا جاتا ہے۔ یہاں موجود بلند مقامات اندرونی علاقوں کو ساحلی خطے سے ملانے والے راستوں پر اثرانداز ہوتے ہیں۔
مقامی ذرائع کے مطابق حوثی باغی کَہبوب کے پہاڑی علاقوں میں اپنی پوزیشن مضبوط کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جبکہ حکومت نواز فورسز کی جانب سے ان کی پیش قدمی روکنے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے۔
کَہبوب کی اہمیت صرف مقامی محاذ تک محدود نہیں کیونکہ یہ باب المندب کے قریب واقع ہے، جو عالمی بحری تجارت کے اہم سمندری راستوں میں شمار ہوتا ہے۔ اسی وجہ سے اس علاقے میں کسی بڑے عسکری تغیر کے اثرات مقامی لڑائی سے آگے بھی جا سکتے ہیں۔
فوجی امور کے بعض ماہرین کے مطابق کَہبوب پر مضبوط پوزیشن ساحلی علاقوں میں موجود فورسز کو دفاعی اور نگرانی کی اضافی صلاحیت فراہم کرسکتی ہے، تاہم صرف اس علاقے پر قبضہ پورے باب المندب یا یمن کی جنگ کا فیصلہ نہیں کرتا۔
کَہبوب سے عدن تک دباؤ بڑھانے کا امکان
مقامی تجزیوں میں یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ آیا حوثی باغیوں کی کَہبوب میں سرگرمی کا مقصد صرف پہاڑی علاقوں اور ساحلی راستوں پر اپنی گرفت مضبوط کرنا ہے یا مستقبل میں جنوبی علاقوں، خصوصاً لحج اور عدن کی سمت دباؤ بڑھانے کی بنیاد رکھنا بھی اس حکمت عملی کا حصہ ہے۔
عسکری امور کے ماہر علی الذهب کے حوالے سے نقل کیے گئے تجزیے میں کہا گیا ہے کہ حالیہ پیش رفت نے عدن کے دفاعی علاقے کی گہرائی کو متاثر کیا ہے اور مخالف فورسز کے لیے نئی دفاعی لائنیں قائم کرنے کا چیلنج بڑھا ہے۔
تاہم موجودہ صورتحال میں کَہبوب کو فوری طور پر عدن پر کسی بڑے زمینی حملے کے نقطۂ آغاز کے طور پر دیکھنے کے بجائے باب المندب اور مغربی ساحلی علاقوں میں عسکری پوزیشن مضبوط کرنے کی کوشش کے طور پر بیان کیا جا رہا ہے۔
اقوام متحدہ کا انتباہ، 110 شہری ہلاک یا زخمی
اقوام متحدہ نے مغربی ساحل پر حالیہ کشیدگی کے انسانی اثرات پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ادارے کے مطابق اگست میں لڑائی میں اضافے کے بعد سے 110 شہریوں کی ہلاکت یا زخمی ہونے کی تصدیق کی گئی ہے، جن میں 28 ہلاک اور 82 زخمی شامل ہیں۔
اقوام متحدہ نے واضح کیا کہ حقیقی تعداد اس سے زیادہ ہوسکتی ہے کیونکہ متعدد علاقوں تک رسائی محدود ہونے کے باعث تمام واقعات کی آزادانہ تصدیق ممکن نہیں۔
عالمی ادارے کے مطابق یمن میں 2 کروڑ 20 لاکھ سے زائد افراد کو انسانی امداد کی ضرورت ہے اور مغربی ساحلی علاقوں میں نئی لڑائی نے انسانی بحران کو مزید سنگین کردیا ہے۔
ایک لاکھ 12 ہزار سے زائد افراد نقل مکانی پر مجبور
بین الاقوامی ادارہ برائے مہاجرت کے مطابق مغربی ساحل اور تعز کے علاقوں میں حالیہ لڑائی کے نتیجے میں ایک لاکھ 12 ہزار سے زیادہ افراد بے گھر ہوچکے ہیں، جن میں بڑی تعداد نے گزشتہ دو ہفتوں کے دوران اپنے گھر چھوڑے۔
ادارے کے مطابق کئی علاقوں میں سڑکیں بند، مواصلاتی نظام متاثر اور امدادی اداروں کی رسائی محدود ہے، جس کے باعث متاثرہ خاندانوں کو خوراک، رہائش، گھریلو ضروریات اور طبی سہولیات کی شدید ضرورت ہے۔
اقوام متحدہ کے حکام نے خبردار کیا ہے کہ اگر فوری طور پر اضافی امداد فراہم نہ کی گئی تو موجودہ انسانی بحران مزید سنگین ہوسکتا ہے۔
حاملہ خواتین اور بچوں کو بھی شدید مشکلات کا سامنا
اقوام متحدہ کے پاپولیشن فنڈ کے مطابق موجودہ نقل مکانی کے دوران خواتین اور لڑکیوں کو خاص طور پر مشکلات کا سامنا ہے۔ ادارے کے مطابق گزشتہ ماہ بے گھر خاندانوں میں ایک ہزار سے زائد زچگیوں کے معاملات میں معاونت فراہم کی گئی، جبکہ تقریباً دو ہزار حاملہ خواتین نقل مکانی کی حالت میں ہیں۔
اقوام متحدہ کے مطابق ان میں 200 سے زائد خواتین کے آئندہ چند روز میں زچگی کے مرحلے میں داخل ہونے کا امکان ہے۔ ادارے نے خبردار کیا کہ محفوظ طبی مراکز، رہائش اور بنیادی سہولیات کی کمی سے خواتین اور بچوں کو مزید خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔
عالمی ادارے نے تمام فریقوں اور بااثر قوتوں پر زور دیا ہے کہ وہ کشیدگی کم کرنے، شہریوں کے تحفظ اور انسانی امداد کی بلاتعطل رسائی کو یقینی بنانے کے لیے فوری اقدامات کریں۔
حوثی زیر انتظام علاقوں میں امدادی سرگرمیوں پر بھی رکاوٹیں
اقوام متحدہ نے حوثی زیر انتظام علاقوں میں اپنے امدادی کاموں کو درپیش مشکلات پر بھی تشویش ظاہر کی ہے۔ ادارے کے مطابق اقوام متحدہ کے عملے کی مبینہ گرفتاریاں، ایک اہلکار کی دوران حراست ہلاکت، دفاتر پر قبضہ اور ادارے کے اثاثوں پر کنٹرول جیسے اقدامات نے کئی علاقوں میں انسانی امداد کی فراہمی کو شدید متاثر کیا ہے۔
اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ جاری لڑائی اور امدادی رسائی میں رکاوٹوں کے باعث لاکھوں یمنی شہری بنیادی اور زندگی بچانے والی امداد سے محروم ہونے کے خطرے سے دوچار ہیں۔
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
شوپیاں میں باغ سے مشتبہ آئی ای ڈی برآمد، سیکیورٹی فورسز نے علاقہ گھیر لیا
21/September/2026 👁️ 82 بار دیکھا گیا
خاران کے ڈپٹی کمشنر منیر سومرو تین افراد سمیت لاپتہ، اغوا کیے جانے کی تصدیق
21/September/2026 👁️ 103 بار دیکھا گیا
کَہبوب سے مغربی ساحل تک یمن میں لڑائی تیز، حوثی کمانڈر سمیت متعدد ہلاک، ایک لاکھ سے زائد افراد بے گھر
21/September/2026 👁️ 98 بار دیکھا گیا
ہنگو میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائی، 8 دہشتگرد اور 6 اہلکار ہلاک
20/September/2026 👁️ 90 بار دیکھا گیا
طالبان کی ڈرون صلاحیت بڑھانے کی کوشش، مقامی تیاری کا منصوبہ سامنے آگیا
20/September/2026 👁️ 104 بار دیکھا گیا
ہنگو میں سیکیورٹی فورسز کا انٹیلیجنس آپریشن، 6 دہشتگرد ہلاک، متعدد زخمی
20/September/2026 👁️ 110 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
ٹرمپ کا ایران کو آخری الٹی میٹم، ڈیل نہ ہوئی تو تباہ کن کارروائی کی دھمکی
04/August/2026 👁️ 26320 بار دیکھا گیاایران میں موساد کیلئے جاسوسی کا الزام، دو افراد کو پھانسی دے دی گئی
04/August/2026 👁️ 15567 بار دیکھا گیاحوثیوں کا سعودی عرب کے نجران ایئرپورٹ پر ڈرون حملہ
05/August/2026 👁️ 11853 بار دیکھا گیاجنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 9161 بار دیکھا گیایمن میں حوثی باغیوں کے میزائل اور ڈرون حملے، 36 فوجی اہلکار ہلاک
07/August/2026 👁️ 7444 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 5227 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C