10/February/2026

ہزاروں ہلاکتیں، دباؤ میں ایرانی صدر نے تحقیقات کا حکم دے دیا

👁️ 136 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
ہزاروں ہلاکتیں، دباؤ میں ایرانی صدر نے تحقیقات کا حکم دے دیا

ہزاروں ہلاکتیں، دباؤ میں ایرانی صدر نے تحقیقات کا حکم دے دیا

تہران (ڈیلی اردو) ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے جنوری میں ہونے والے حکومت مخالف مظاہروں اور ان کے نتیجے میں ہونے والی ہزاروں ہلاکتوں کی تحقیقات کے لیے ایک خصوصی کمیشن تشکیل دینے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔ 

 

ایرانی میڈیا کے مطابق اس کمیشن کی سربراہی نائب صدر محمد رضا عارف کریں گے، جبکہ اس میں حکومتی عہدیداروں کے ساتھ حکومت سے باہر کے افراد بھی شامل ہوں گے۔

 

ایرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ کمیشن احتجاجات کی وجوہات، ریاستی ردِعمل، ملک میں موجود اندرونی تقسیم اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے سفارشات مرتب کرے گا۔ 

 

جنوری میں ہونے والے مظاہروں کے دوران سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 3 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوئے، جبکہ انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق یہ تعداد کم از کم 6,961 ہے اور مزید 11 ہزار سے زائد ہلاکتوں کی تحقیقات جاری ہیں۔

 

یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی انتہائی خطرناک مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ دونوں ممالک نے 6 فروری کو عمان کے دارالحکومت مسقط میں نئے مذاکرات کا آغاز کیا ہے، تاہم خطے پر فوجی تصادم کا خطرہ بدستور برقرار ہے۔

 

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ معاہدے کی خواہش ظاہر کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ناکامی کی صورت میں ’’بری چیزیں‘‘ ہو سکتی ہیں۔ 

 

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے واضح کیا ہے کہ واشنگٹن چاہتا ہے کہ مذاکرات کا دائرہ صرف جوہری پروگرام تک محدود نہ رہے بلکہ ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام، خطے میں سرگرم گروہوں اور ایرانی عوام کے ساتھ حکومتی رویّے کو بھی زیر بحث لایا جائے۔

 

دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے میزائل پروگرام پر کسی بھی قسم کی بات چیت کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران صرف برابری کی بنیاد پر جوہری مذاکرات میں واپسی کے لیے تیار ہے۔

 

ایرانی قیادت نے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی امریکی حملے کو جنگ کا اعلان سمجھا جائے گا۔ تہران نے واضح کیا ہے کہ ممکنہ تصادم کی صورت میں امریکی اور اسرائیلی فوجی اڈے اور مفادات اس کے جائز اہداف ہوں گے۔

 

علاقائی مبصرین کے مطابق ایران بیلسٹک میزائلوں، ڈرونز، سپیڈ بوٹس، اتحادی گروہوں اور آبنائے ہرمز کی ممکنہ بندش جیسے آپشنز رکھتا ہے، جو پورے خطے کو جنگ کی لپیٹ میں لے سکتے ہیں۔

 

ادھر سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور اردن نے امریکہ کو اپنی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے، جس سے واشنگٹن کے فوجی آپشنز محدود ہو گئے ہیں۔

 

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق ایران ایک طرف شدید داخلی دباؤ اور معاشی بحران کا شکار ہے جبکہ دوسری جانب امریکہ کے ساتھ ممکنہ تصادم اس کے لیے وجودی چیلنج بنتا جا رہا ہے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C