یمن میں اتحادی آمنے سامنے؟ سعودی عرب اور یو اے ای ایک دوسرے کے خلاف کیوں
👁️ 299 بار دیکھا گیا
یمن میں اتحادی آمنے سامنے؟ سعودی عرب اور یو اے ای ایک دوسرے کے خلاف کیوں
برلن (ڈیلی اردو، اے پی، ڈی پی اے اور روئٹرز ) جنگ زدہ ملک یمن میں متحدہ عرب امارات کی حمایت یافتہ جنوبی عبوری کونسل نے جمعے کے روز کہا کہ سعودی عرب کی طرف سے یہ فضائی حملے یمن کے صوبہ حضرموت میں کیے گئے۔ یہ واضح نہیں ہو سکا کہ ان حملوں سے کوئی ہلاکتیں ہوئیں یا نہیں۔ تاہم ان حملوں نے اس جنگ زدہ ملک میں کشیدگی کو مزید بڑھا اور سعودی قیادت والے اس نازک اتحاد کو خطرے میں ڈال دیا ہے، جو گزشتہ ایک دہائی سے یمن کے شمال میں ایرانی حمایت یافتہ حوثی باغیوں کے خلاف برسرپیکار ہے۔
کونسل کے خارجہ امور کے لیے خصوصی نمائندے عمرو البیض نے ایسوسی ایٹڈ پریس کو دیے گئے ایک بیان میں کہا کہ ان کے جنگجو جمعے کو مشرقی حضرموت میں آپریشن کر رہے تھے، جب مسلح افراد نے ان کے خلاف گھات لگا کر متعدد حملے کیے، جن میں کونسل کے دو جنگجو ہلاک اور 12 زخمی ہو گئے۔
ان کے مطابق سعودی فضائی حملے اس کے بعد کیے گئے۔
حضرموت میں قبائل کے اتحاد کے ایک سرکردہ رکن فائز بن عمر نے اے پی کو بتایا کہ ان کے خیال میں یہ حملے کونسل کو خبردار کرنے کے لیے تھے کہ وہ اپنی فورسز کو اس علاقے سے واپس بلا لے۔
حملوں کے ایک عینی شاہد احمد الخید نے کہا کہ انہوں نے تباہ شدہ فوجی گاڑیاں دیکھیں، جو کونسل سے منسلک فورسز کی بتائی جاتی ہیں۔کونسل کے سیٹلائٹ چینل اے آئی سی نے موبائل فون سے بنائی گئی ایک فوٹیج نشر کی، جسے حملوں کی فوٹیج قرار دیا جا رہا ہے۔
ایک ویڈیو میں ایک شخص سعودی طیاروں کو ان حملوں کا ذمہ دار ٹھہرا رہا ہے۔ سعودی عرب کے حکام نے اس تناظر میں تبصرہ کرنے کی درخواست کا کوئی فوری جواب نہیں دیا۔
سعودی عرب کی طرف سے وارننگ
قبل ازیں جمعرات کو ریاض حکومت نے متحدہ عرب امارات کے حمایت یافتہ علیحدگی پسندوں سے کہا تھا کہ وہ پیش قدمی نہ کریں اور پیچھے ہٹ جائیں۔ اس کونسل کے جنگجوؤں نے رواں ماہ یمن کے صوبوں حضرموت اور المہرہ میں پیش قدمی کی تھی۔ اس سے سعودی حمایت یافتہ نیشنل شیلڈ فورسز سے منسلک فورسز کو پیچھے دھکیلا گیا، جو حوثیوں کے خلاف اتحاد کا حصہ ہیں۔
متحدہ عرب امارات کی حمایت یافتہ کونسل سے منسلک افراد جنوبی یمن کا پرچم لہرا رہے ہیں، جو 1967ء سے 1990ء تک ایک علیحدہ ملک تھا۔
سعوی عرب اور متحدہ عرب امارات آمنے سامنے
جمعرات کو جنوبی بندرگاہی شہر عدن میں مظاہرین نے ایک ریلی نکالی اور جنوبی یمن کی دوبارہ علیحدگی کے مطالبے کی حمایت کی۔ اس وقت سعودی عرب اور امارات مختلف یمنی فورسز کی حمایت کر رہے ہیں۔ سن 2014 میں حوثی باغیوں کی طرف سے دارالحکومت صنعاء اور ملک کے بڑے حصے پر قبضے کے بعد سے عدن بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت اور حوثی باغیوں کے خلاف برسر پیکار فورسز کا مرکزِ اقتدار رہا ہے۔ حوثی باغیوں کے خلاف لڑنے والے گروہ اب اس جنوبی علاقے پر قبضے کے لیے آپس میں لڑ رہے ہیں۔
علیحدگی پسندوں کے ان اقدامات نے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے تعلقات پر بھی دباؤ ڈالا ہے، جو قریبی تعلقات رکھتے ہیں اور اوپیک کا حصہ ہیں، مگر حالیہ برسوں میں اثر و رسوخ اور بین الاقوامی کاروبار میں آپس میں مقابلہ بھی کر رہے ہیں۔
تاہم متحدہ عرب امارات نے جمعے کو ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ ''یمن میں سکیورٹی اور استحکام کی حمایت کے لیے مملکت سعودی عرب کی کوششوں کا خیرمقدم کرتا ہے۔‘‘
بحیرہ احمر کے کنارے واقع ایک اور ملک سوڈان میں بھی تشدد بڑھ رہا ہے اور وہاں بھی سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات جنگ میں مخالف فورسز کی حمایت کر رہے ہیں۔
یمن کی کشیدہ صورت حال اور اس کا پس منظر
یمن کی جنگ اس وقت شدت اختیار کر گئی تھی، جب ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں نے ستمبر 2014ء میں صنعاء پر قبضہ کرتے ہوئے بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کو جلاوطنی پر مجبور کیا۔ ایران حوثی باغیوں کو ہتھیار دینے سے انکار کرتا ہے تاہم اقوام متحدہ کی طرف سے ہتھیاروں کی پابندی کے باوجود میدان جنگ اور سمندر میں یمن کی طرف جانے والے جہازوں سے ایرانی ساختہ ہتھیار برآمد ہوئے۔
اس پیش رفت کے جواب میں امریکی ہتھیاروں اور انٹیلیجنس سے لیس سعودی قیادت والے اتحاد نے مارچ 2015ء میں جلاوطن حکومت کی حمایت کرتے ہوئے اس جنگ میں مداخلت کی۔ برسوں کی غیر فیصلہ کن لڑائی نے عرب دنیا کے اس غریب ترین ملک کو قحط کے دہانے پر پہنچا دیا۔
اس جنگ میں ایک لاکھ پچاس ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں جنگجو اور عام شہری دونوں شامل ہیں۔ دریں اثنا حوثیوں نے اسرائیل اور حماس کی جنگ کے تناطر میں بحیرہ احمر میں سینکڑوں جہازوں پر حملے کیے، جن سے علاقائی شپنگ شدید متاثر ہوئی ہے۔
مبصرین کے مطابق یمن میں مزید افراتفری امریکہ کو دوبارہ اس ملک میں کھینچ سکتی ہے۔ واشنگٹن نے رواں سال حوثی باغیوں کے خلاف شدید بمباری کی مہم شروع کی تھی، جسے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اکتوبر میں مشرق وسطیٰ کے دورے سے قبل روک دیا تھا۔
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
امریکہ ایران معاہدہ مکمل، آبنائے ہرمز کھل گئی، صدر ٹرمپ کا اعلان
15/June/2026 👁️ 123 بار دیکھا گیا
امریکہ اور ایران کے درمیان امن معاہدہ طے پا گیا، پاکستانی وزیراعظم
15/June/2026 👁️ 127 بار دیکھا گیا
غزہ میں اسرائیلی حملوں میں 6 فلسطینی ہلاک
15/June/2026 👁️ 105 بار دیکھا گیا
بیروت پر اسرائیلی حملے کے بعد ایران کا سخت ردعمل
15/June/2026 👁️ 113 بار دیکھا گیا
خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے 10 واقعات میں مائننگ بارودی مواد کے استعمال کا انکشاف
15/June/2026 👁️ 172 بار دیکھا گیا
بیروت پر اسرائیلی حملہ، حزب اللہ کے سینئر کمانڈر علی موسی دقدوق 5 ساتھیوں سمیت ہلاک
15/June/2026 👁️ 107 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
جنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 8827 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 4552 بار دیکھا گیاپاکستانی طیاروں کا کابل، پکتیکا، خوست اور جلال آباد میں فضائی حملہ، متعدد ہلاکتیں
10/October/2025 👁️ 3268 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ کے انتہائی مطلوب کمانڈر تہران طوری کے حملے میں پولیس افسر ہلاک
15/August/2025 👁️ 2448 بار دیکھا گیاکیا آپ کو معلوم ہے خام تیل کے ایک بیرل سے کتنے لیٹر پٹرول اور ڈیزل بنتا ہے؟
01/February/2019 👁️ 2086 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ نے پولیس افسر قیصر حسین کی ہلاکت کی ذمہ داری قبول کرلی
26/August/2025 👁️ 1895 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C