یوکرین اور روس کے مابین قیدیوں کا تبادلہ
👁️ 34 بار دیکھا گیا
یوکرین اور روس کے مابین قیدیوں کا تبادلہ
ریاض + انقرہ (ڈیلی اردو/اے ایف پی) روس اور یوکرین کے مابین رواں سال فروری سے جاری جنگ میں قیدیوں کا سب سے بڑا تبادلہ ہوا ہے۔ رہائی پانے والے چند قیدیوں کو سعودی عرب اور بقیہ کچھ کو ترکی پہنچا دیا گیا، جہاں سے انہیں ان کے آبائی ممالک پہنچایا جائے گا۔
یوکرین نے آج 22 ستمبر کو روس کے ساتھ 215 قیدیوں کے تبادلے کا اعلان کیا۔ رہائی پانے والوں میں وہ یوکرینی فوجی بھی شامل ہیں، جو ماریوپول کے آزوفسٹال اسٹیل ورکس نامی پلانٹ کے دفاع کر رہے تھے۔ بدلے میں روس کے پچپن قیدی رہا کیے گئے۔ ان میں سے ایک وکٹور مدویدچک ہیں، جو سابقہ طور پر یوکرین کے ایک قانون ساز رہ چکے ہیں مگر روسی صدر ولادیمیر پوٹن کے حامی مانے جاتے ہیں اور جن پر یوکرین میں غداری کا مقدمہ ہے۔ یوکرینی صدر وولودمیر زیلینسکی نے اپنی یومیہ بریفنگ میں قیدیوں کے تبادلے کی اس ڈیل کا اعلان کیا۔
اس سال فروری میں روسی حملے کے آغاز کے بعد فریقین کے مابین ہونے والا یہ اب تک کا سب سے بڑا قیدیوں کا تبادلہ تھا۔ زیلنسکی نے بتایا کہ امریکہ اور برطانیہ سمیت دیگر ممالک کے دس جنگی قیدیوں کو بھی بدھ کے روز ماسکو اور کییف کے درمیان ڈیل کے تحت سعودی عرب منتقل کر دیا گیا ہے۔ یوکرینی صدر نے مزید کہا کہ پانچ فوجی کمانڈروں کو ترکی پہنچا دیا گیا ہے، جن کی رہائی کی ڈیل کو ترک صدر رجب طیب ایردوگان کے ساتھ حتمی شکل دی گئی تھی۔ زیلینسکی کے بقول یہ فوجی جنگ کے خاتمے تک ‘مکمل حفاظت اور آرام دہ حالات میں‘ ترکی میں رہیں گے۔
ایک سعودی اہلکار نے اس تبادلے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ سعودی عرب کو منتقل کیے گئے جنگی قیدیوں میں پانچ برطانوی شہری، دو امریکی اور ایک ایک مراکش، سویڈن اور کروشیا سے ہیں۔ سعودی بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ مذکورہ قیدی روس سے ان کے ملک پہنچ چکے ہیں حکام انہیں ان کے آبائی ممالک بحفاظت واپس پہنچانے کے طریقہ کار کو آسان بنا رہے ہیں۔
برطانوی وزیر اعظم لز ٹروس نے ٹویٹر پر لکھا کہ برطانوی شہریوں کی رہائی ‘انتہائی خوش آئند خبر ہے، جس سے ان کے اور ان کے اہل خانہ کے لیے مہینوں کی غیر یقینی صورتحال اور مصائب کا خاتمہ ممکن ہو سکے گا‘۔
یوکرین میں جنگ نے کئی دہائیوں سے اہم اتحادی ممالک سعودی عرب اور امریکہ کے درمیان کشیدگی بڑھائی ہے۔ گو کہ سعودی عرب نے روسی حملے کی مذمت کے لیے اقوام متحدہ کی قرارداد کے حق میں ووٹ دیا تھا اور ماسکو سے فوجیں واپس بلانے کا مطالبہ بھی کیا۔ تاہم ریاض حکومت نے جنگ کے نتیجے میں پیدا ہونے والے توانائی کے بحران کو کم کرنے کے لیے تیل کی پیداوار بڑھانے کے لیے امریکی دباؤ کے خلاف مزاحمت کا مظاہرہ کیا۔ اس کے بجائے ریاض نے OPEC پلس آئل کارٹیل کے ساتھ تعاون کیا، جس کی وہ روس کے ساتھ مشترکہ طور پر قیادت کرتا ہے۔
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
کابل : شیعہ کمیونٹی کی اعلیٰ کونسل کے دفتر کا طالبان فورسز کی جانب سے محاصرہ
08/September/2026 👁️ 41 بار دیکھا گیا
جنوبی وزیرستان میں قبائلی رہنما ملک نیک محمد محسود فائرنگ سے ہلاک
08/September/2026 👁️ 54 بار دیکھا گیا
بلوچستان میں بی ایل اے کے خلاف کارروائیاں، 3 دہشتگرد ہلاک، ایک گرفتار
08/September/2026 👁️ 51 بار دیکھا گیا
عراق : سلیمانیہ میں داعش سے وابستگی کے الزام میں مطلوب شخص گرفتار
08/September/2026 👁️ 51 بار دیکھا گیا
بدخشاں کے زیبک میں جھڑپ، 4 طالبان جنگجو ہلاک اور 7 زخمی ہونے کا دعویٰ
08/September/2026 👁️ 47 بار دیکھا گیا
سعودی عرب پر حوثی باغیوں کے حملے، 73 شہری زخمی، عرب ممالک کی شدید مذمت
08/September/2026 👁️ 63 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
ٹرمپ کا ایران کو آخری الٹی میٹم، ڈیل نہ ہوئی تو تباہ کن کارروائی کی دھمکی
04/August/2026 👁️ 26278 بار دیکھا گیاایران میں موساد کیلئے جاسوسی کا الزام، دو افراد کو پھانسی دے دی گئی
04/August/2026 👁️ 15527 بار دیکھا گیاحوثیوں کا سعودی عرب کے نجران ایئرپورٹ پر ڈرون حملہ
05/August/2026 👁️ 11815 بار دیکھا گیاجنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 9109 بار دیکھا گیایمن میں حوثی باغیوں کے میزائل اور ڈرون حملے، 36 فوجی اہلکار ہلاک
07/August/2026 👁️ 7400 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 5101 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C