یوکرین جزوی جنگ بندی پر آمادہ
👁️ 132 بار دیکھا گیا
یوکرین جزوی جنگ بندی پر آمادہ
کییف (ڈیلی اردو/ڈی پی اے) یوکرین کے صدر زیلنسکی کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ کے ساتھ ان کی بات چیت مثبت رہی اور وہ بھی ‘جزوی جنگ بندی’ کے لیے تیار ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ رواں برس ہی پائیدار امن کا حصول ممکن ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روسی صدر ولادیمیر پوٹن سے بات کرنے کے ایک دن بعد اپنے یوکرینی ہم منصب وولودیمیر زیلنسکی کے ساتھ فون پر ایک گھنٹہ طویل بات چیت کی اور اس گفتگو کو انہوں نے “بہت ہی اچھا” قرار دیا۔
ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر اپنی ایک پوسٹ میں لکھا کہ یہ فون کال، “گزشتہ روز صدر پوٹن کے ساتھ فون پر کی گئی بات چیت پر مبنی تھی، تاکہ روس اور یوکرین دونوں کو ان کی درخواستوں اور ضروریات کے لحاظ سے ہم آہنگ کیا جا سکے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ دونوں رہنما “پوری طرح سے راستے پر ہیں” اور وہ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو اور قومی سلامتی کے مشیر مائیکل والٹز کو جلد ہی اس بات چیت کی تفصیل فراہم کرنے کو کہیں گے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے منگل کے روز فون پر بات کی تھی اور صرف توانائی سے متعلق بنیادی ڈھانچوں پر حملوں کو روکنے پر اتفاق کیا تھا۔ تاہم صدر پوٹن نے 30 دن کی وسیع جنگ بندی کے لیے ٹرمپ کی تجویز کو مسترد کر دیا تھا۔
بات چیت کے بعد زیلینسکی نے کیا کہا؟
ٹرمپ سے فون پر بات چیت کے بعد زیلنسکی نے کہا کہ ان کا ماننا ہے کہ ٹرمپ کی قیادت میں “اس سال ہی دیرپا امن حاصل کیا جا سکتا ہے۔”
ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ اپنی بات چیت کے دوران زیلنسکی نے کہا کہ وہ جزوی جنگ بندی کے لیے تیار ہیں، جس میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے، ریل اور بندرگاہوں کی سہولیات پر حملوں کو روکنا شامل ہے اور اس پر فوری طور پر عمل کیا جا سکتا ہے۔
تاہم یوکرین کے صدر نے خبردار کیا کہ اگر ماسکو نے جنگ بندی کی شرائط کی خلاف ورزی کی تو ان کا ملک جوابی کارروائی کرے گا۔
انہوں نے ڈرونز اور میزائلوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ “میں سمجھتا ہوں کہ جب تک ہم (روس کے ساتھ) متفق نہیں ہوں گے اور جزوی جنگ بندی پر بھی متعلقہ دستاویز موجود نہیں ہوں گے، تو یہ سب کچھ ہوا میں اڑ جائے گا۔”
ان کا مزید کہنا تھا کہ “دونوں رہنماؤں نے اپنے دفاعی عملے کے درمیان قریبی معلومات کا تبادلہ کرنے پر اتفاق کیا کیونکہ میدان جنگ کی صورت حال مسلسل بدل رہی ہے۔”
اوول آفس میں تلخ کلامی کے بعد ٹرمپ اور زیلینسکی کے درمیان بدھ کے روز پہلی بار یہ بات چیت ہوئی۔ البتہ اس واقعے کے بعد سے دونوں رہنماؤں کی ٹیموں نے سعودی عرب میں ملاقات کی اور مجوزہ 30 دن کی جنگ بندی پر بات چیت بھی کی تھی۔
یہ پیش رفت زیلنسکی کے لیے راحت کے طور پر سامنے آئے گی، جنہوں نے بدھ کے روز صحافیوں کو آن لائن بریفنگ کے دوران ٹرمپ کے ساتھ اپنی گفتگو کو “مثبت”، “کھل کر” اور “بہت اہم” قرار دیا۔
انہوں نے سوشل میڈيا ایکس پر مزید لکھا، “ہم سمجھتے ہیں کہ امریکہ کے ساتھ، صدر ٹرمپ کے ساتھ اور امریکی قیادت میں اسی برس دیرپا امن حاصل کیا جا سکتا ہے۔”
صحافیوں کے ساتھ ویڈیو کال کے دوران زیلنسکی نے یہ بھی کہا کہ ان کا خیال ہے کہ پوٹن مکمل جنگ بندی پر رضامند نہیں ہوں گے، جب کہ یوکرین کے فوجی روس کے مغربی کرسک علاقے میں موجود ہیں۔
زیلنسکی اور پوٹن دونوں نے کہا ہے کہ وہ توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملوں کو روکنے پر رضامند ہیں۔ تاہم، دونوں نے ایک دوسرے پر مسلسل حملوں کا الزام بھی لگایا ہے۔
روس اور امریکہ کی تکنیکی ٹیمیں ریاض میں ملاقات کریں گی
ادھر وائٹ ہاؤس کے قومی سلامتی کے مشیر مائیک والٹز نے کہا ہے کہ انہوں نے اپنے روسی ہم منصب یوری اُشاکوف سے “یوکرین میں جنگ کے خاتمے کے لیے صدر ٹرمپ کی کوششوں” کے بارے میں بات چیت کی ہے۔
والٹز نے ایکس پر لکھا کہ مشیروں نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ ان کی “تکنیکی ٹیمیں آنے والے دنوں میں ریاض میں ملاقات کریں گی تاکہ صدر ٹرمپ نے روس سے حاصل کی گئی جزوی جنگ بندی کو نافذ کرنے اور اسے وسعت دینے پر توجہ مرکوز کی جا سکے۔”
البتہ انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ وفود میں کون کون شامل تھا، یا یوکرین کے حکام کو بھی آئندہ مذاکرات میں شرکت کی دعوت دی گئی ہے یا نہیں۔
امریکہ یوکرین کے جوہری پلانٹ چلا سکتا
امریکی وزیر توانائی کرس رائٹ کا کہنا ہے کہ اگر جنگ بندی کو یقینی بنانے میں مدد ملی تو امریکہ یوکرین کے جوہری پلانٹ اپنی ماتحتی میں لینے کا قدم اٹھا سکتا ہے۔
رائٹ نے امریکی نشریاتی ادارے فوکس نیوز کو بتایا، “اگر اس مقصد کو حاصل کرنے میں مدد ملتی ہے، تو امریکہ یوکرین میں نیوکلیئر پاور پلانٹس چلا سکتا ہے۔ اس میں کوئی مسئلہ نہیں اور ہم ایسا کر سکتے ہیں۔”
فوکس کے انٹرویو میں پوچھے جانے پر کہ یہ کیسے کام کرے گا، رائٹ نے کہا، “ان پلانٹس کو چلانے کے لیے ہمارے پاس امریکہ میں بے پناہ تکنیکی مہارت ہے۔ مجھے نہیں لگتا کہ اس کے لیے زمین پر فوج اتارنے کی ضرورت ہے۔”
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
بدخشاں میں طالبان کے کمانڈ مرکز پر راکٹ حملہ، اے ایف ایف کا 4 اہلکار ہلاک کرنے کا دعویٰ
09/September/2026 👁️ 138 بار دیکھا گیا
ایران کا آبنائے ہرمز میں امریکی بغیر پائلٹ آبدوز قبضے میں لینے کا دعویٰ
09/September/2026 👁️ 98 بار دیکھا گیا
ایران کا اردن میں امریکی فوجی اڈے پر بیلسٹک میزائل حملے کا دعویٰ، 20 میزائل داغے جانے پر اردن کا بیان
09/September/2026 👁️ 115 بار دیکھا گیا
امریکا کا 5 ایرانی آئل ٹینکرز تباہ کرنے کا دعویٰ، حملوں کی ویڈیوز بھی جاری
09/September/2026 👁️ 109 بار دیکھا گیا
جنوبی وزیرستان میں 48 گھنٹوں کے لیے کرفیو نافذ، اہم شاہراہوں پر آمدورفت بند
09/September/2026 👁️ 154 بار دیکھا گیا
ایران : سیستان و بلوچستان میں سیکیورٹی آپریشن، 3 مبینہ دہشتگرد ہلاک، 9 گرفتار
08/September/2026 👁️ 122 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
ٹرمپ کا ایران کو آخری الٹی میٹم، ڈیل نہ ہوئی تو تباہ کن کارروائی کی دھمکی
04/August/2026 👁️ 26284 بار دیکھا گیاایران میں موساد کیلئے جاسوسی کا الزام، دو افراد کو پھانسی دے دی گئی
04/August/2026 👁️ 15530 بار دیکھا گیاحوثیوں کا سعودی عرب کے نجران ایئرپورٹ پر ڈرون حملہ
05/August/2026 👁️ 11818 بار دیکھا گیاجنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 9116 بار دیکھا گیایمن میں حوثی باغیوں کے میزائل اور ڈرون حملے، 36 فوجی اہلکار ہلاک
07/August/2026 👁️ 7404 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 5121 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C