08/October/2025

یہ ہتھیار کبھی خاموش نہیں ہوں گے!، فلسطینی گروہوں کا دوٹوک اعلان

👁️ 350 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
یہ ہتھیار کبھی خاموش نہیں ہوں گے!، فلسطینی گروہوں کا دوٹوک اعلان

یہ ہتھیار کبھی خاموش نہیں ہوں گے!، فلسطینی گروہوں کا دوٹوک اعلان

غزہ + یروشلم (ڈیلی اردو/اے پی/اے ایف پی/روئٹرز/ڈی پی اے) اسرائیل پر دہشت گردانہ حملے کی دوسری برسی کے موقع پر فلسطینی عسکریت پسند تنظیم حماس، اسلامی جہاد اور دیگر چھوٹے مسلح گروہوں کی ایک مشترکہ تنظیم نے ’’صیہونی دشمن‘‘ کا مقابلہ کرنے کے لیے ’’ہر قسم کی مزاحمت‘‘ کو واحد راستہ قرار دیا ہے۔

 

اس بیان کو ’’فلسطینی مزاحمتی گروہوں‘‘ کے نام سے جاری کیا گیا ہے۔ اس میں مزید کہا گیا ہے، ’’کوئی بھی فلسطینی عوام کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور نہیں کر سکتا۔ یہ جائز ہتھیار فلسطینی نسلوں کو منتقل ہوتے رہیں گے، جب تک ان کی زمین اور مقدس مقامات آزاد نہ ہو جائیں۔‘‘

 

 دوسری جانب اسرائیلی ٹینکوں، بحری جہازوں اور جنگی طیاروں نے منگل کو غزہ کے کئی علاقوں پر شدید بمباری کی اور یہ سلسلہ مصر میں جاری غزہ امن مذاکرات کے پس منظر میں روکا نہ گیا۔

 

جنوب میں خان یونس اور شمال میں غزہ شہر کے رہائشیوں نے بتایا کہ اسرائیلی فورسز نے منگل کی صبح ٹینکوں اور طیاروں کے ساتھ شدید بمباری کی۔

دریں اثنا غزہ سے مسلح فلسطینیوں نے منگل کی صبح سرحد پار راکٹ فائر کیے، جن کی وجہ سے ایک اسرائیلی علاقے میں سائرن بھی بجائے گئے۔

 

غزہ کے ایک 49 سالہ رہائشی، محمد دیب نے جنگ ختم ہونے کی امید ظاہر کرتے ہوئے کہا، ’’دو سال سے ہم خوف، دہشت، بے گھری اور تباہی میں جی رہے ہیں۔‘‘

 

 اسرائیل کی غزہ پٹی میں فوجی کارروائیاں 67 ہزار سے زائد فلسطینیوں کی جانیں لے چکی ہیں جبکہ غزہ پٹی کے زیادہ تر حصے کھنڈرات بن چکے ہیں۔ 

 

7 اکتوبر 2023ء سے اب تک غزہ پٹی میں 67 ہزار سے زائد فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں۔ غزہ اتھارٹیز کے مطابق ان میں سے تقریباً ایک تہائی 18 سال سے کم عمر کے افراد تھے۔

 

غزہ پٹی کی وزارت صحت اپنی گنتی میں شہریوں اور جنگجوؤں میں کوئی فرق نہیں کرتی۔ اسرائیل نے پہلے کہا تھا کہ ہلاک ہونے والوں میں سے کم از کم 20 ہزار جنگجو تھے۔

 

اقوام متحدہ کے ایک تحقیقاتی کمیشن نے پچھلے مہینے غزہ پٹی میں ان ہلاکتوں کو اسرائیل کی طرف سے ’’نسل کشی کا ارتکاب‘‘ قرار دیا تھا جبکہ اسرائیل نے اس کمیشن کے نتائج کو تعصب آمیز اور ’’شرمناک‘‘ قرار دیا تھا۔

 

اسرائیلی سرکاری اطلاعات کے مطابق سات اکتوبر 2023ء سے 29 ستمبر 2025 تک جنگ کے نتیجے میں کم از کم 1665 اسرائیلی اور غیر ملکی شہری ہلاک ہوئے۔ ان میں سے 1200 سات اکتوبر کے حملے میں مارے گئے تھے۔

 

اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس کی غزہ پٹی میں زمینی کارروائیاں 27 اکتوبر 2023 سے شروع ہونے کے بعد سے 466 فوجی اس لڑائی میں ہلاک ہو چکے جبکہ 2951 زخمی ہوئے ہیں۔

 

فلسطینی عسکریت پسند تنظیم حماس نے ٹھیک دو سال پہلے سات اکتوبر کے حملے کے دوران 251 افراد کو یرغمال بھی بنا لیا تھا۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ غزہ میں ایسے 48 یرغمالی اب بھی موجود ہیں، جن میں سے 20 کے زندہ ہونے کی امید ہے۔

 

اقوام متحدہ کے سیٹلائٹ سینٹر کے اعداد و شمار کی بنیاد پر کیے گئے تجزیے کے مطابق غزہ میں تقریباً 193,000 عمارتیں تباہ ہو چکی ہیں یا انہیں بری طرح نقصان پہنچا ہے۔ اسرائیل کی طرف سے تقریباً 213 ہسپتالوں اور 1,029 اسکولوں کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔

 

ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے مطابق غزہ پٹی کے 36 بڑے ہسپتالوں میں سے صرف 14 جزوی طور پر فعال ہیں اور جنوبی غزہ پٹی میں موجود ہسپتالوں پر بوجھ حد سے زیادہ بڑھ چکا ہے۔

 

اقوام متحدہ کے مطابق غزہ پٹی کا صرف تقریباً 18 فیصد حصہ اب نقل مکانی کے احکامات یا فوجی علاقوں سے پاک ہے۔ بہت سے فلسطینی کئی بار بے گھر ہو چکے ہیں۔

 

حماس کے جنگجوؤں کو جڑ سے اکھاڑنے کا عہد کرتے ہوئے اسرائیل نے مئی کے وسط میں غزہ شہر میں اپنی فوجی مہم کو وسعت دی۔ اس کے نتیجے میں اقوام متحدہ نے اس ساحلی علاقے کے شمال سے جنوب کی طرف 417,000 سے زائد افراد کی نقل مکانی ریکارڈ کی ہے۔

 

اسرائیل نے غزہ شہر کے رہائشیوں کو جنوب کی طرف جانے کی تلقین کی ہے لیکن جنوبی غزہ میں حالات خراب ہیں اور عارضی خیمے بھرے ہوئے ہیں۔

 

ایک عالمی گروپ نے اگست میں کہا تھا کہ غزہ شہر میں قحط نے قدم جما لیا ہے اور اس کا پھیلاؤ ممکن ہے۔ اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو نے اس رپورٹ کو ’’جھوٹ‘‘ قرار دیا تھا۔

 

انٹیگریٹڈ فوڈ سکیورٹی فیز کلاسیفیکیشن سسٹم نے کہا کہ 514,000 افراد، غزہ پٹی میں فلسطینیوں کا تقریباً ایک چوتھائی حصہ، قحط کا سامنا کر رہے ہیں۔

 

غزہ کی وزارت صحت کے مطابق غزہ پٹی کے کچھ حصوں میں قحط کی تصدیق کے بعد سے کم از کم 177 افراد، جن میں 36 بچے بھی شامل تھے، بھوک اور غذائیت کی کمی کے باعث ہلاک ہو چکے ہیں۔

اقوام متحدہ کے پاپولیشن فنڈ نے کہا ہے کہ 60 فیصد سے زائد حاملہ خواتین اور نو مولود بچوں کی مائیں غذائیت کی کمی کا شکار ہیں۔

 

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C