14/July/2025

تہران پر اسرائیلی حملہ: صدر پزیشکیان زخمی، اعلیٰ قیادت بال بال بچ گئی!

👁️ 676 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
تہران پر اسرائیلی حملہ: صدر پزیشکیان زخمی، اعلیٰ قیادت بال بال بچ گئی!

تہران پر اسرائیلی حملہ: صدر پزیشکیان زخمی، اعلیٰ قیادت بال بال بچ گئی!

واشنگٹن (ش ح ط) ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزیشکیان 16 جون کو ایک اسرائیلی فضائی حملے میں زخمی ہو گئے تھے۔ اس انکشاف کی اطلاع ایران کی نیم سرکاری خبر ایجنسی "فارس" نے دی ہے، جو پاسدارانِ انقلاب (IRGC) سے منسلک ہے۔ فارس کے مطابق، صدر کو معمولی زخم آئے، جب کہ حملے کا اصل ہدف تہران کے مغربی علاقے میں واقع وہ عمارت تھی جہاں اس وقت اعلیٰ ترین قومی سلامتی کونسل کا اجلاس جاری تھا۔

رپورٹ کے مطابق، اسرائیلی میزائل عمارت کے داخلی و خارجی راستوں کو نشانہ بنانے کے لیے داغے گئے تاکہ اندر موجود اعلیٰ حکام کے فرار کی تمام راہیں مسدود کی جا سکیں۔ اس حملے کا انداز بیروت میں حزب اللہ کے رہنما حسن نصراللہ کے قتل کی طرز پر تھا۔

حملے کے وقت عمارت کے نچلے حصے میں ایران کی اعلیٰ قیادت موجود تھی، جن میں پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف، عدلیہ کے سربراہ محسن ایجیئی، اور دیگر اہم سیکیورٹی و عسکری حکام شامل تھے۔ دھماکے کے بعد عمارت کی بجلی منقطع ہو گئی، تاہم پہلے سے تیار کیے گئے ایک ہنگامی راستے کے ذریعے تمام حکام بحفاظت نکلنے میں کامیاب ہو گئے۔

صدر پزیشکیان کے علاوہ چند دیگر حکام کو بھی باہر نکلتے وقت معمولی چوٹیں آئیں۔ ایرانی حکام اب اس بات کی تحقیقات کر رہے ہیں کہ حملے میں انتہائی درست معلومات کے استعمال کا سبب کہیں اندرونی ذرائع سے ہونے والی مخبری تو نہیں۔

صدر پزیشکیان نے اس سے قبل ایک انٹرویو میں اسرائیل پر ان کے قتل کی سازش کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔ امریکی میزبان ٹکر کارلسن سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا: "جی، انہوں نے کوشش کی... لیکن وہ ناکام رہے۔"

ایران انٹرنیشنل کے مطابق، اسرائیلی حملہ تہران کے مغربی علاقے شہرکِ غرب کے قریب کیا گیا۔

یہ حملہ ایک 12 روزہ جنگ کے دوران ہوا، جس میں اسرائیلی فورسز نے ایران کے کئی اہم عسکری کمانڈرز اور جوہری سائنسدانوں کو ہلاک کر دیا۔ ان میں پاسدارانِ انقلاب کے سربراہ حسین سلامی، ایرانی افواج کے سربراہ محمد باقری، اور آئی آر جی سی ایئر فورس کے کمانڈر امیر علی حاجی زادہ سمیت متعدد اعلیٰ افسران شامل تھے۔

قبل ازیں اطلاعات تھیں کہ اسرائیل نے اسی جنگ کے دوران ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو ہلاک کرنے کی بھی منصوبہ بندی کی تھی، جس کے تحت ان کی رہائش گاہ پر میزائل اور ڈرون حملے کیے گئے۔ تاہم وہ اس وقت محفوظ بنکر میں پناہ لینے کی وجہ سے بچ گئے۔

شبِ عاشور پر وہ مختصر طور پر منظرِ عام پر آئے، لیکن اس کے بعد سے اب تک وہ دوبارہ عوامی سطح پر دکھائی نہیں دیے اور تاحال ایک نامعلوم اور محفوظ بنکر میں مقیم ہیں۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C