عدالت میں آئی ایس آئی نے گن پوائنٹ پر لواحقین سے بیان دلوایا، ریمنڈ ڈیوس کا انکشاف
👁️ 143 بار دیکھا گیا
عدالت میں آئی ایس آئی نے گن پوائنٹ پر لواحقین سے بیان دلوایا، ریمنڈ ڈیوس کا انکشاف
واشنگٹن (ڈیلی اردو/بی بی سی) 27 جنوری 2011 کی شام لاہور کے پرانی انار کلی تھانے میں ایک انوکھا منظر تھا جہاں دو نوجوانوں کے قتل کے الزام پر ایک غیر ملکی شخص سے تفتیش جاری تھی۔۔۔ آنے والے چند ہفتوں میں دن دیہاڑے دہرے قتل کا یہ واقعہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان سفارتی بحران کا باعث بننے والا تھا۔
یہ شخص ایک امریکی شہری ریمنڈ تھا اور جب تھانے میں تفتیش کے دوران ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ امریکی سفارتخانے کے لیے کام کرتے ہیں تو انھیں اس بات کا بخوبی علم تھا کہ یہاں اپنا اصل کام اور عہدہ سمجھا پانا ان کے لیے مشکل ہو گا۔
کچھ گھنٹے قبل ایک گاڑی میں موجود ریمنڈ ڈیوس نے مزنگ کے علاقے میں اپنی گلاک 17 آٹومیٹک پستول سے موٹر سائیکل پر سوار دو لڑکوں محمد فہیم اور فیضان پر 10 راؤنڈ فائر کیے تھے۔
اپنی آپ بیتی ‘دی کنٹریکٹر’ میں ریمنڈ ڈیوس لکھتے ہیں کہ دوران تفتیش ان سے پوچھا گیا کہ وہ ’کس کیلئے کام کرتے ہیں؟ (امریکی) سفیر (کیلئے)؟‘
اس پر ریمنڈ ڈیوس نے اندر ہی اندر سوچا کہ ’شاید میرے اصل کام کا ذکر کرنا ٹھیک نہیں ہو گا۔‘ لہٰذا انھوں نے جواب میں محض ’کنسلٹنٹ‘ کہہ دیا۔
27 جنوری کو اپنی گرفتاری کے بعد ریمنڈ ڈیوس 49 روز تک پاکستان میں قید رہے۔ اس دوران یہ ایک بین الاقوامی خبر بن چکی تھی جس کے بارے میں صبح سے شام تک نہ صرف پاکستانی بلکہ بین الاقوامی اخبارات اور چینلز بھی رپورٹ کر رہے تھے۔
تاہم پھر 16 مارچ کو لاہور کی شرعی عدالت نے انھیں دیت کے تحت مقتولین کے ورثا کو 24 لاکھ ڈالر خون بہا ادا کرنے پر رہا کر دیا گیا۔
’اگر وہ دباؤ ڈالیں تو کہنا میں سفارتکار ہوں‘
ریمنڈ ڈیوس اور ان کے شریک مصنف سٹارمز ریبیک نے بڑے ڈرامائی انداز میں جیل روڈ اور فیروز پور روڈ کے سنگم پر پیش آنے والے واقعے کی منظر کشی کی ہے، جس میں انھوں نے دو پاکستانی شہریوں کو گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا۔
وہ اپنی کتاب میں دعویٰ کرتے ہیں کہ جب وہ چوک میں ٹریفک میں پھنسے ہوئے تھے تو ان کی گاڑی کے آگے موٹر سائیکل پر سوار دو افراد میں سے ایک نے پستول نکال کر ان پر تان لیا۔
ریمنڈ ڈیوس انتہائی تربیت یافتہ سکیورٹی کنٹریکٹر تھے اور انھوں نے ایسی ہی صورتِ حال کا مقابلہ کرنے کی بارہا مشق کی تھی۔ انھوں نے فوراً اپنا پستول نکال کر اس کے میگزین میں موجود 17 میں سے دس گولیاں گاڑی کی ونڈ سکرین سے فائر کر کے ان دونوں موٹر سائیکل سواروں محمد فہیم اور فیضان حیدر کو ہلاک کر دیا۔
ریمنڈ ڈیوس کو ان دونوں کی ہلاکت کا ذرا بھی افسوس نہیں۔ وہ اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ ’فیصلہ میں نے نہیں بلکہ محمد فہیم نے پستول نکال کر کیا تھا: اگر کوئی مجھے نقصان پہنچانے کی کوشش کرے تو (انھیں مار کر) میرا ضمیر صاف رہے گا کیوں کہ میرا اولین مقصد اپنے خاندان کے پاس واپس آنا ہے۔‘
ریمنڈ ڈیوس کو اسی دن گرفتار کر کے ان کے خلاف دفعہ 302 کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا تھا۔ اسی وقت لاہور میں امریکی قونصل خانے سے ایک گاڑی انھیں چھڑوانے کیلئے آئی تو اس نے سڑک کے غلط طرف گاڑی چلاتے ہوئے ایک موٹر سائیکل سوار کو ٹکر مار دی اور یوں اس واقعے میں ہلاکتوں کی تعداد تین ہو گئی۔
ریمنڈ ڈیوس نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ انھیں گرفتار کر کے پہلے ایک فوجی چھاؤنی اور بعد میں لکھپت جیل منتقل کر دیا گیا۔ جب امریکی سفارت خانے کو پتہ چلا تو انھوں نے ڈیوس کو رہائی دلوانے کی سر توڑ کوششیں شروع کر دیں۔
یہ وہی زمانہ ہے جب امریکی حکام کو پاکستان میں اسامہ بن لادن کی موجودگی کا علم ہو چکا تھا اور انھوں نے اسامہ کے خلاف آپریشن کا فیصلہ کر لیا تھا۔
امریکی حکام کو خدشہ تھا کہ اگر اسامہ کے خلاف آپریشن ہوا اور اس دوران ڈیوس پاکستانی حراست میں رہے تو انھیں مار دیا جائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ خود اس وقت کے صدر براک اوباما نے 15 فروری کو ریمنڈ ڈیوس کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ ’ہمارا سفارت کار ہے‘ اور انھیں ویانا کنونشن کے تحت استثنیٰ حاصل ہے۔
مصنف شجاع نواز کے بقول ’ڈیوس کو صدر کے ذریعے سفارتکار کہلوا کر امریکہ نے بڑا خطرہ مول لیا تھا۔‘
شجاع نواز اپنی کتاب ’دی بیٹل فار پاکستان: دی بٹر یو ایس فرینڈ اینڈ اے ٹف نیبرہڈ‘ میں لکھتے ہیں کہ ’دستاویزات نے پاکستان کے مؤقف کی تائید کی تھی۔ ان کا وزارت خارجہ کی کسی فہرست میں بطور سفارتی عملہ اندراج نہیں تھا۔۔۔ امریکی سفارتخانے نے بعد میں اسے ایک بیوروکریٹک غلطی قرار دیا تھا۔‘
ریمنڈ ڈیوس کو ابتدائی طور پر لاہور کی ایک مقامی عدالت میں پیش کیے جانے کے بعد لاہور پولیس ٹریننگ کالج منتقل کر دیا گیا تھا۔
وہ اپنی آپ بیتی میں لکھتے ہیں کہ انھیں لاہور میں دورانِ قید امریکی کونسل جنرل کارمیلا کانرائے نے کہا تھا کہ ’اگر آپ چاہیں تو انھیں کچھ بھی بتانے کی ضرورت نہیں ہے۔ اگر وہ دباؤ ڈالیں تو کہنا آپ امریکی سفارتخانے کے لیے سفارتکار ہیں اور آپ مطالبہ کرتے ہیں کہ آپ کو اسلام آباد میں سفارتی مشن کے حوالے کر دیا جائے۔‘
مگر ریمنڈ ڈیوس کے مطابق وہ پاکستان میں امریکہ کے محکمۂ خارجہ کے اہلکاروں کی حفاظت پر مامور تھے۔ ’کیا اس سے مجھے سفارتکار کا درجہ مل سکتا تھا؟ ہرگز نہیں۔‘
ریمنڈ ڈیوس پاکستان میں کیا کر رہے تھے؟
شجاع نواز کی کتاب ’دی بیٹل فار پاکستان‘ کے مطابق ریمنڈ ڈیوس نے امریکی ریاست جارجیا میں امریکہ کی ایلیٹ سپیشل فورسز میں شمولیت کے لیے ٹریننگ کی تھی مگر پھیپھڑوں کی انجری اور معذوری کے باعث انھیں عارضی طور پر ریٹائر کر دیا گیا تھا جس کے بعد انھوں نے وہ ملازمت چھوڑ دی اور سکیورٹی کنٹریکٹرز کی دنیا میں قدم رکھا۔
انھوں نے 2004 کے دوران افغانستان میں امریکی حکومت کے بڑے کنٹریکٹر ڈین کورپ انٹرنیشنل کے ساتھ پہلی اسائنمنٹ پر کام کیا۔ وہ صدر حامد کرزئی کے باڈی گارڈز کی ٹیم میں کام کرتے تھے اور ان کی یومیہ تنخواہ 600 ڈالر تھی۔
اس کے بعد وہ پاکستان میں بطور سکیورٹی کنٹریکٹر آئے اور پہلے پشاور میں اور اس کے بعد اسلام آباد میں امریکی سفارتخانے کے لیے کام کیا۔ وہ لاہور میں امریکی قونصل خانے کے ساتھ 2009 سے 2011 تک وابستہ رہے۔
شجاع نواز نے اپنی کتاب میں دعویٰ کیا کہ آئی ایس آئی کے سربراہ شجاع پاشا نے نجی طور پر سی آئی اے کے ڈائریکٹر لیون پنیٹا سے یہ تصدیق کرنے کو کہا تھا کہ آیا ریمنڈ ڈیوس جاسوس ہیں تاہم پنیٹا نے اس کی تصدیق نہیں کی تھی جس کے بعد یہ معاملہ عدالت تک پہنچا۔
عدالت میں پنجرہ
عدالت میں اس دن معمول سے زیادہ بھیڑ تھی اور ڈیوس کو سٹیل کے ایک پنجرے میں بند کر کے جج کے سامنے پیش کیا گیا تھا۔ وہ کہتے ہیں کہ ’مجھے معلوم نہیں تھا کہ اس کا مقصد مجھے لوگوں سے بچانا تھا یا پھر لوگوں کو مجھ سے محفوظ رکھنا۔‘
اس دوران وہاں موجود لوگوں کے رویے سے انھیں لگا جیسے وہ سبھی لوگ جج کی جانب سے اُن کے قصوروار ہونے کا فیصلہ سُنائے جانے کے منتظر ہیں تاکہ ’اس کے بعد وہ مجھے گھسیٹ کر کسی قریبی درخت سے لٹکا کر پھانسی دے دیں۔‘
ریمنڈ ڈیوس کی کتاب ’دی کنٹریکٹر‘ کے مطابق ان کے پاس موجود گلاک 17 پستول، جی پی ایس، کیمرا، فون اور موٹرولا کا ٹو وے ریڈیو سبھی ان کی جگہ پہلے کام کرنے والے کنٹریکٹر کے استعمال میں رہے تھے۔
تاہم ریمنڈ ڈیوس کا کہنا ہے کہ وہ براہ راست امریکی حکومت کے ساتھ کام کرتے تھے اور ان سے سکیورٹی خدمات کے ٹھیکے حاصل کرتے تھے۔
وہ لکھتے ہیں کہ وہ نہیں چاہتے تھے کہ ماضی میں ان کی سپیشل فورسز سے وابستگی کے بارے میں پاکستانی حکام کو علم ہو کیونکہ انھیں خدشہ تھا کہ انھیں کسی جاسوس کے طور پر پیش کیا جا رہا تھا۔
سنہ 2017 کے دوران نیو یارک ٹائمز کو دیے ایک انٹرویو میں ریمنڈ ڈیوس نے سی آئی اے کے لیے کام کرنے سے متعلق سوال پر کہا تھا کہ ’میرا کام سفارتخانے میں ہر کسی کو ضرورت کے تحت تحفظ فراہم کرنا تھا۔‘
عمان میں خفیہ ملاقات
ڈیوس کو عدالت میں ایک حیران کن بات یہ نظر آئی کہ اس دن وکیلِ استغاثہ اسد منظور بٹ غیر حاضر تھے جنھوں نے اس سے قبل ان پر خاصی سخت جرح کی تھی اور ان کا دعویٰ تھا کہ ڈیوس نے فیضان حیدر (دو افراد میں سے ایک جنھیں ریمنڈ ڈیوس نے گولیوں کا نشانہ بنایا تھا) کو بغیر کسی وجہ کے ہلاک کیا ہے۔
کتاب کے مطابق بعد میں وکیل استغاثہ اسد منظور بٹ نے کہا کہ جب وہ اس صبح عدالت پہنچے تو انھیں پکڑ کر کئی گھنٹوں تک قید میں رکھا گیا اور کارروائی سے دور رکھنے کے ساتھ ساتھ اپنے کلائنٹس (یعنی وہ افراد جن کے وہ وکیل تھے) سے بھی ملنے نہیں دیا گیا۔
’دا کنٹریکٹر‘ کے مطابق یہ معاملہ اس قدر اہمیت اختیار کر گیا کہ 23 فروری 2011 کو پاکستانی اور امریکی فوج کے سربراہان جنرل اشفاق پرویز کیانی اور ایڈمرل مائیک ملن کے درمیان عمان میں ایک ٹاپ سیکرٹ ملاقات ہوئی جس کا بڑا حصہ اس بات پر غور کرتے ہوئے صرف ہوا کہ پاکستان عدالتی نظام کے اندر سے کیسے کوئی راستہ نکالا جائے کہ ڈیوس کی گلوخلاصی ہو پائے۔
’دی کنٹریکٹر‘
ریمنڈ ڈیوس نے سنہ 2017 میں شائع ہونے والی سنسنی خیز آپ بیتی ’دی کنٹریکٹر‘ میں پاکستان میں اپنی گرفتاری، مختلف اداروں کی جانب سے تفتیش، مقدمے کا احوال اور بالآخر رہائی کا ذکر بڑے دلچسپ انداز میں کیا ہے۔
ان کے مطابق اس دوران سب سے ڈرامائی دن مقدمے کا آخری دن تھا جب لاہور کی کوٹ لکھپت جیل میں قائم کردہ خصوصی سیشن کورٹ میں ریمنڈ ڈیوس پر قتل کی فردِ جرم عائد ہونا تھی۔ ڈیوس لکھتے ہیں کہ انھیں اس رات نیند نہیں آئی تھی۔
عدالت میں آخری پیشی اور رہائی
سب سے ڈرامائی دن مقدمے کا آخری دن تھا جب لاہور کی کوٹ لکھپت جیل میں قائم کردہ خصوصی سیشن کورٹ میں ریمنڈ ڈیوس پر قتل کی فردِ جرم عائد ہونا تھی۔
عدالتی کارروائی چونکہ اُردو میں ہو رہی تھی اس لیے ڈیوس کو کچھ خاص پتہ نہیں چلا لیکن درمیان میں وہاں موجود لوگوں کے ردِعمل سے پتہ چلا کہ کوئی بڑی بات ہو گئی ہے۔ ڈیوس کے ایک امریکی ساتھی ’پال‘ وکیلوں کا حصار توڑ کر پنجرے کے قریب آئیں اور کہا کہ جج نے ’عدالت کو شرعی عدالت میں تبدیل کر دیا ہے۔‘
شجاع نواز لکھتے ہیں کہ امریکہ میں پاکستانی سفیر حسین حقانی نے ایک انٹرویو کے دوران انھیں بتایا تھا کہ انھوں نے دیت کے ذریعے اس معاملے کو سلجھانے کا مشورہ دیا تھا۔
ادھر ڈیوس کی کتاب میں دعویٰ کیا گیا کہ 16 مارچ 2011 کی دوپہر کو جب عدالت کی کارروائی شروع ہوئی تو جج نے صحافیوں سمیت تمام غیرمتعلقہ لوگوں کو باہر نکال دیا۔ لیکن ایک شخص جو کارروائی کے دوران کمرۂ عدالت میں موجود رہے وہ پاکستانی خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے اُس وقت کے سربراہ جنرل شجاع پاشا۔
اس وقت ڈیوس کو معلوم نہیں تھا کہ یہ شخص کون ہیں لیکن اسی دوران پسِ پردہ خاصی سرگرمیاں ہو رہی تھیں۔ ان سرگرمیوں کے روحِ رواں جنرل پاشا تھے، جو ایک طرف امریکی سی آئی اے کے سابق سربراہ لیون پنیٹا سے ملاقاتیں کر رہے تھے تو دوسری جانب اسلام آباد میں امریکی سفیر کیمرون منٹر سے بھی رابطے میں تھے۔
ڈیوس لکھتے ہیں کہ عدالت کی کارروائی کے دوران جنرل صاحب مسلسل کیمرون منٹر کو لمحہ بہ لمحہ کارروائی کی خبریں موبائل فون پر میسج کر کے بھیج رہے تھے۔
ڈیوس کی کتاب کے مطابق عدالتی کارروائی کے دوران ان لواحقین کو عدالت کے باہر گن پوائنٹ پر رکھا گیا اور انھیں کہا گیا کہ وہ میڈیا کے سامنے زبان نہ کھولیں۔ یہ لواحقین ایک ایک کر کے خاموشی سے جج کے سامنے پیش ہوتے، اپنا شناختی کارڈ دکھاتے اور رقم کی رسید وصول کرتے اور باہر آ جاتے۔
کتاب کے مطابق مقدمے کو شرعی بنیادوں پر ختم کرنے کے فیصلے کے منصوبہ سازوں میں جنرل پاشا اور کیمرون منٹر شامل تھے۔ پاکستانی فوج بھی اس سے آگاہ تھی جب کہ صدر زرداری اور نواز شریف کو بھی بتا دیا تھا کہ کیا کھچڑی پک رہی ہے۔
ڈیوس لکھتے ہیں کہ جنرل پاشا کو صرف دو دن بعد یعنی 18 مارچ کو ریٹائر ہو جانا تھا اس لیے وہ سرتوڑ کوشش کر رہے تھے کہ یہ معاملہ کسی طرح نمٹ جائے۔ اور جب یہ معاملہ نمٹا تو ان کی مدتِ ملازمت میں ایک سال کی توسیع کر دی گئی اور مارچ 2011 کی بجائے مارچ 2012 میں ریٹائر ہوئے۔
’دا کنٹریکٹر‘ کے مطابق یہ جنرل پاشا ہی تھے جنھوں نے سخت گیر وکیلِ استغاثہ اسد منظور بٹ کو مقدمے سے الگ کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ اسد یہ مقدمہ مفت لڑ رہے تھے۔
ریمنڈ ڈیوس لکھتے ہیں کہ جب دیت کے تحت معاملہ نمٹانے کا فیصلہ کیا گیا تو اس میں ایک اڑچن یہ آ گئی کہ مقتولین کے عزیزوں نے اسے ماننے سے انکار کر دیا، چنانچہ 14 مارچ کو آئی ایس آئی کے اہلکار حرکت میں آئے اور انھوں نے تمام 18 عزیزوں کو کوٹ لکھپت جیل میں بند کر دیا، اُن کے گھروں کو تالے لگا دیے گئے اور اُن سے موبائل فون بھی لے لیے گئے۔
کتاب میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ جیل میں ان لواحقین کے سامنے دو راستے رکھے گئے: یا تو وہ ایک لاکھ 30 ہزار ڈالر کا خون بہا قبول کریں ورنہ۔۔۔
یہ بات بھی خاصی دلچسپ ہے کہ یہ رقم کس نے دی؟ اس وقت کی امریکی وزیرِ خارجہ ہلری کلنٹن نے اس بات سے صاف انکار کیا تھا کہ یہ خون بہا امریکہ نے ادا کیا ہے۔
جوں ہی یہ کارروائی مکمل ہوئی ریمنڈ ڈیوس کو ایک عقبی دروازے سے نکال کر سیدھا لاہور کے ہوائی اڈے پہنچایا گیا جہاں ایک سیسنا طیارہ رن وے پر اُن کا انتظار کر رہا تھا۔۔۔
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
کرم میں نادرا کی موبائل وین پر مسلح افراد کی فائرنگ
21/July/2026 👁️ 89 بار دیکھا گیا
تجارتی جہازوں پر حملہ کیا تو طاقت سے جواب دینگے، سعودی فوجی اتحاد کی حوثیوں کو وارننگ
21/July/2026 👁️ 99 بار دیکھا گیا
ایران میں سرکردہ سنی عالم محمد انور ریگی فائرنگ سے ہلاک
21/July/2026 👁️ 196 بار دیکھا گیا
روسی دارالحکومت ماسکو پر یوکرین کا بڑا ڈرون حملہ، 400 سے زائد ڈرونز استعمال، جنگ میں نئی شدت
21/July/2026 👁️ 172 بار دیکھا گیا
نوشہرہ میں امن جرگہ کے رہنما اعجاز خان ٹارگٹ کلنگ میں ہلاک، تحقیقات شروع
21/July/2026 👁️ 119 بار دیکھا گیا
پاکستان بھارت سرحد پر رات بھر گولہ باری
20/July/2026 👁️ 320 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
جنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 8962 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 4812 بار دیکھا گیاپاکستانی طیاروں کا کابل، پکتیکا، خوست اور جلال آباد میں فضائی حملہ، متعدد ہلاکتیں
10/October/2025 👁️ 3574 بار دیکھا گیاسعودی عرب کا پاکستانی شہریوں کیلئے ویزا فیسوں میں کمی کا اعلان
16/February/2019 👁️ 3442 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ کے انتہائی مطلوب کمانڈر تہران طوری کے حملے میں پولیس افسر ہلاک
15/August/2025 👁️ 2566 بار دیکھا گیاکیا آپ کو معلوم ہے خام تیل کے ایک بیرل سے کتنے لیٹر پٹرول اور ڈیزل بنتا ہے؟
01/February/2019 👁️ 2320 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C