احساس کی موت…! (میر افضل خان طوری)
تاریخ عالم اس بات پر گواہ ہے کہ یہ دنیا انسان کا مستقل ٹھکانہ کبھی بھی نہیں ہے۔ ہر انسان کو کسی نہ کسی روز اس دنیا سے جانا ہوگا۔ یہ وہ حقیقت کبرای ہے جس سے دنیا کا کوئی بھی انسان انکار نہیں کر سکتا۔ مگر اس کے باوجود انسان اس حقیقت سے خود کو آگاہ نہیں کرتا اور وہ آخر دم تک اپنے خواہشات کے پیچھے دوڑتا رہتا ہے۔
انسان کی زندگی اس امر کی مختاج ہے کہ وہ چند بنیادی قوانین کے پر قائم ہو۔ یہ قوانین یا تو مذہب وضع کرتا ہے یا عالم انسانیت اپنے لئے خود وضع کرتی ہے۔ ان بنیادی قوانین پر عمل درآمد کروانا حکومتوں کی زمہ داری ہوتی ہے۔ یہ صرف اس لئے ہوتا ہے کہ انسان اپنے ہوا و ہوس کی وجہ سے انسانیت کے بنیادی اصولوں کو پامال کرنے سے رکا رہے۔
جب انسان ان قوانین سے آزاد حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے تو وہ اپنے نفسانی خواہشات کا اسیر بن جاتا ہے۔۔ یہ وہ اسارت کی زنجیریں ہیں جو انسان کو مقید کر دیتی ہیں اور اس کو ان کے اعلی مقام سے گرا کر اسفل السافلیں کے درجے پر لا کھڑا کر دیتی ہیں۔ اس کی نفس امارہ اتنی قوی ہو جاتی ہے کہ وہ انسانیت کا گلہ گھونٹنے سے بھی دریغ نہیں کرتی۔ یہ اباحتی رویہ انسان کی زندگی کو سوائے تباہی اور بربادی کے کچھ اور نہیں دیتا۔ اس صورتحال میں آدمی سے وہ افعال سرزد ہو جاتے ہیں کہ جن کی وجہ سے پوری انسانیت کا سر شرم سے جھک جاتا ہے۔ اس کیفت کو احساس کی موت کہتے ہیں۔ یہ اجتماعی بے حسی کا نتیجہ ہوتا ہے۔ جس معاشرے میں احساس کا جنازہ نکل چکا ہو اس معاشرے میں چھوٹے چھوٹے بچے اور بچیاں کبھی بھی محفوظ نہیں رہتے۔
پاکستانی معاشرے میں چھوٹے بچوں اور بچیوں کے ساتھ زیادتی اور اس کے بعد قتل روز کا معمول بن چکا ہے۔ اس جرم میں روز بروز تشویشناک حد تک اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ ویسے تو ہمارے سکول، کالجز، یونیورسیٹیاں، مدارس، گلی، کوچے، بازار اور مساجد تک بچوں کیلئے انتہائی غیر محفوظ ہو چکے ہیں۔ مگر مدارس اور مساجد سر فہرست ہیں۔
بچوں کے ساتھ ہونیوالے زیادتی کے واقعات اتنے ہیبتناک ہیں کہ کوئی بھی اہل دل اور ذی شعور انسان اس کو برداشت کرنے کی تاب نہیں رکھتا۔ مگر افسوس کہ پاکستان کا نظام عدل و انصاف خواب خرگوش کے مزے لے رہا ہے۔ ملک کے سیاست دانوں کو ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنے سے فرست نہیں مل رہی ہے۔ پاکستانی میڈیا کو صرف سیاستدانوں کی فکر لاحق ہے۔
ملک کے مدرسوں اور مساجد میں ہونیوالے ان بھیانک واقعات پر کسی بڑے دینی مدرسے اور درسگاہ کو کوئی ملال نہیں ہوا ۔ ملک کے کسی مذہبی جماعت نے اب تک توہین اسلام اور بے گناہ قتل کے جرم میں کسی بد کار قاری کے سر کو تن سے جدا کرنے کیلئے کوئی جلسہ اور جلوس نہیں نکالا۔ ملک کی سارے سیاسی اور مذہبی جماعتوں نے ان جرائم اپنی آنکھیں بند کی ہوئی ہیں۔
بحیثیت قوم ہم منافقت کی انتہا کو چھو رپے ہیں۔ ہمیں توہین رسالت (ص) اور توہین قرآن صرف غیر مسلموں کی نظر آ جاتی ہے۔ مگر ہم واقعات پر کبوتر کی طرح آنکھیں بند کی ہوئی ہیں۔ کسی مدرسے یا مسجد میں کوئی قاری یا مولوی جب بچوں کے ساتھ زیادتی کرکے اس کو قتل کرتا ہے تو یہ کتنی بڑی توہین رسالت (ص) اور توہین قرآن ہے۔ یہ اس توہین سے کئی گنا زیادہ ہے جو کوئی غیر مسلم کرتا ہے۔ جب تک ہم ان قاریوں اور مولویوں کے جرائم پر پردہ ڈالتے رہیں گے ہمارے بچوں کے ساتھ اسی طرح زیادتیاں ہوتی رہیں گی۔
حکومت اور حکومتی اداروں کو چاہئے کہ ایسے تمام مدارس اور اس میں پڑھانے والے مولویوں کی خفیہ طور پر سخت نگرانی کریں۔ اس حوالے سے سخت قسم کے قوانین بنائیں۔ مدارس میں پڑھانے والے اساتذہ کی بھرتی کیلئے ایک ضابطہ اخلاق وضع کریں۔ والدین کیلئے آگاہی پروگرامات کی تشکیل کریں۔ جو سفاک عناصر بچوں کے ساتھ ہونیوالی زیادتیوں کے گھناؤنے فعل میں مجرم پائے گئے ہیں ان کو ہر حال میں کیفر کردار تک پہنچایا جائے تاکہ اس قسم کے دردناک واقعات کی روک تھام ہوسکے۔
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
امریکہ ایران معاہدہ مکمل، آبنائے ہرمز کھل گئی، صدر ٹرمپ کا اعلان
15/June/2026 👁️ 96 بار دیکھا گیا
امریکہ اور ایران کے درمیان امن معاہدہ طے پا گیا، پاکستانی وزیراعظم
15/June/2026 👁️ 104 بار دیکھا گیا
غزہ میں اسرائیلی حملوں میں 6 فلسطینی ہلاک
15/June/2026 👁️ 80 بار دیکھا گیا
بیروت پر اسرائیلی حملے کے بعد ایران کا سخت ردعمل
15/June/2026 👁️ 89 بار دیکھا گیا
خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے 10 واقعات میں مائننگ بارودی مواد کے استعمال کا انکشاف
15/June/2026 👁️ 133 بار دیکھا گیا
بیروت پر اسرائیلی حملہ، حزب اللہ کے سینئر کمانڈر علی موسی دقدوق 5 ساتھیوں سمیت ہلاک
15/June/2026 👁️ 83 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
جنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 8824 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 4548 بار دیکھا گیاپاکستانی طیاروں کا کابل، پکتیکا، خوست اور جلال آباد میں فضائی حملہ، متعدد ہلاکتیں
10/October/2025 👁️ 3264 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ کے انتہائی مطلوب کمانڈر تہران طوری کے حملے میں پولیس افسر ہلاک
15/August/2025 👁️ 2447 بار دیکھا گیاکیا آپ کو معلوم ہے خام تیل کے ایک بیرل سے کتنے لیٹر پٹرول اور ڈیزل بنتا ہے؟
01/February/2019 👁️ 2085 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ نے پولیس افسر قیصر حسین کی ہلاکت کی ذمہ داری قبول کرلی
26/August/2025 👁️ 1894 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C