اسرائیل نے شام سے متعلق ایرانی سپریم لیڈر خامنہ ای کے بیانات کو مسترد کیا
👁️ 94 بار دیکھا گیا
اسرائیل نے شام سے متعلق ایرانی سپریم لیڈر خامنہ ای کے بیانات کو مسترد کیا
یروشلم (ڈیلی اردو/ڈی پی اے/اے ایف پی/ اے پی) اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے شام میں بشار الاسد کو اقتدار سے ہٹانے کے لیے امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ “سازش” کے ایرانی الزام کو مسترد کیا اور کہا کہ تہران خود اپنے اتحادی کے زوال کا ذمہ دار ہے۔
واضح رہے کہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے الزام لگایا تھا کہ شام کے سابق صدر بشار الاسد کی معزولی اور ایران کو شام سے باہر دھکیلنے کا منصوبہ امریکہ اور اسرائیل نے تیار کیا تھا۔
ادھر اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے شام میں بشار الاسد کو اقتدار سے ہٹانے کے لیے امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ “سازش” کے ایرانی الزام کو مسترد کیا اور کہا کہ تہران خود اپنے اتحادی کے زوال کا ذمہ دار ہے۔
کاٹز نے اپنے حریف ایران پر الزام لگایا کہ وہ پڑوسی مملکت میں اسرائیل کے خلاف “مشرق میں محاذ” قائم کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور اس کی روک تھام کے عزم کا اظہار کیا۔
کاٹز کے دفتر سے جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق انہوں نے کہا کہ خامنہ ای کو اس کے لیے “خود کو مورد الزام ٹھہرانا چاہیے” اور انہیں “شام، لبنان اور غزہ میں ان مسلح گروہوں کی مالی معاونت بند کر دینی چاہیے، جن کی وہ اسرائیلی ریاست کو شکست دینے کی کوشش میں رہنمائی کرتے رہے ہیں۔”
کاٹز نے الزام عائد کیا کہ اردن کی سرحد سے متصل اسرائیل کے زیر قبضہ مغربی کنارے میں “ہتھیاروں کی اسمگلنگ کی کوششوں” کے ساتھ ہی “دہشت گردی کو فنڈ دینے اور اسے فروغ دینے” کے پیچھے ایران کا ہاتھ ہے۔
ایرانی رہبر اعلی نے کیا کہا تھا؟
ایران کے “محور مزاحمت” کے ایک اہم حصے بشار الاسد کے اقتدار کے خاتمے اور ان کے روس فرار ہونے کے بعد اپنے پہلے تبصرے میں آیت اللہ علی خامنہ ای نے ترکی کا نام لیے بغیر اس تنازعے میں پڑوسی ملک کے کردار پر بھی تنقید کی۔
ایرانی میڈيا کے مطابق انہوں نے تہران میں کہا: “اس میں کوئی شک نہیں ہونا چاہیے کہ شام میں جو کچھ ہوا وہ ایک مشترکہ امریکی اور اسرائیلی منصوبے کا نتیجہ ہے۔ شام کی ایک ہمسایہ حکومت بھی اس سلسلے میں واضح کردار ادا کر رہی ہے لیکن اصل سازش کار، ماسٹر مائنڈ اور اس کا کمانڈ سینٹر امریکہ اور اسرائیلی حکومت کے ہاتھ میں ہے۔”
ان کا مزید کہنا تھا کہ “ہمارے پاس ثبوت ہیں۔ ایسے ثبوت کہ جس میں شک کی کوئی گنجائش نہیں رہتی ہے۔”
ایران کے رہبر اعلیٰ کے بیانات کو سرکاری ٹی وی پر نشر کیا گیا، جس میں انہوں نے کہا، “ایک پڑوسی ریاست نے اس معاملے میں ایک واضح کردار ادا کیا ہے اور وہ ایسا کر رہی ہے۔ ہر کوئی اسے دیکھ سکتا ہے۔”
پڑوسی ریاست سے غالباً ان کی مراد ترکی ہے، جو شام کا ہمسایہ ہے اور اپوزیشن جنگجوؤں کی مدد بھی کرتا رہا ہے۔
آیت اللہ خامنہ ای نے تجزیہ کاروں کی ان قیاس آرائیوں کو بھی مسترد کر دیا، جس میں کہا گیا ہے کہ شام کے صدر بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے سے ایران کمزور ہو جائے گا۔
انہوں نے کہا، “یہ جاہل تجزیہ نگار مزاحمت کے معنی سے ناواقف ہیں، وہ سمجھتے ہیں کہ اگر مزاحمت کمزور ہوئی تو اسلامی ایران بھی کمزور ہو جائے گا۔ لیکن میں کہتا ہوں کہ خدا کی مدد اور طاقت سے انشاءاللہ ایران طاقتور ہے اور یہ اور بھی طاقتور ہو جائے گا۔”
اپنی تقریر میں خامنہ ای نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ایران کی قیادت میں اتحاد پورے خطے میں مضبوط ہو گا۔
ان کا کہنا تھا، “آپ جتنا زیادہ دباؤ ڈالیں گے، مزاحمت اتنی ہی مضبوط ہوتی جائے گی۔ آپ جتنا زیادہ جرائم کرتے ہیں، یہ اتنا ہی زیادہ پرعزم ہوتا جاتا ہے۔ آپ جتنا زیادہ اس کے خلاف لڑیں گے، یہ اتنا ہی پھیلتا بھی جائے گا۔”
حافظ الاسد کی قبر تباہ کر دی گئی
ادھر شام کے باغی جنگجوؤں نے معزول صدر بشارالاسد کے والد مرحوم حافظ الاسد کی قبر کو ان کے آبائی شہر میں تباہ کر دیا ہے۔
اس حوالے سے بعض تصدیق شدہ ویڈیوز میں کچھ مسلح افراد کو لطاکیہ کے شمال مغرب میں واقع قردہہ میں جلتے ہوئے ایک مقبرے کے آس پاس چہل قدمی کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔
واضح رہے کہ اسلام پسند گروپ ہیئت تحریر الشام (ایچ ٹی ایس) کے زیر قیادت باغیوں نے شام بھر میں تیزی سے حملے کیے، جس کے نتیجے میں اسد خاندان کی 54 سالہ حکومت کا تختہ الٹ گیا۔ بشار الاسد بھاگ کر روس پہنچے ہیں، جہاں انہیں اور ان کے خاندان کو پناہ دی گئی ہے۔
بشار الاسد اور ان کے والد حافظ الاسد کے مجسمے اور پوسٹرز کو ملک بھر سے ہٹا دیا گیا ہے تاکہ شامی باشندے ان کی حکومت کے خاتمے کا جشن منا سکیں۔
حافظ الاسد نے سن 1971 سے لے کر 2000 میں اپنی موت تک شام پر بے رحمی سے حکومت کی اور پھر اقتدار اپنے بیٹے بشار الاسد کو سونپ دیا تھا۔
ان کی پیدائش اور پرورش علوی مکتب فکر کے ایک خاندان میں ہوئی تھی، جو کہ شیعہ اسلام کی ایک شاخ ہے اور شام میں ایک مذہبی اقلیت ہے، جس کی بیشتر آبادی ترکی کی سرحد کے قریب بحیرہ روم کے ساحل کے پاس واقع صوبہ لاذقیہ میں ہے۔
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
ایران سے تعلقات بہتر نہ ہوئے تو پرانی کشیدگی دوبارہ جنم لے سکتی ہے، امریکی صدر ٹرمپ
16/June/2026 👁️ 56 بار دیکھا گیا
روس کے حملے میں کییف کا ہزار سالہ مذہبی ورثہ بھی نشانہ بن گیا
16/June/2026 👁️ 63 بار دیکھا گیا
چین کی بڑھتی فوجی طاقت پر دنیا میں تشویش
16/June/2026 👁️ 67 بار دیکھا گیا
حزب اللہ کے مکمل خاتمے تک جنگ جاری رہے گی، اسرائیل وزیر قومی سلامتی
16/June/2026 👁️ 64 بار دیکھا گیا
کرم میں گھر پر ڈرون حملہ، ماں بیٹے سمیت 4 افراد ہلاک، 8 زخمی
16/June/2026 👁️ 64 بار دیکھا گیا
سوڈان میں 5 ماہ کے دوران ڈرون حملوں میں ایک ہزار سے زائد عام شہری ہلاک
16/June/2026 👁️ 58 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
جنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 8828 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 4558 بار دیکھا گیاپاکستانی طیاروں کا کابل، پکتیکا، خوست اور جلال آباد میں فضائی حملہ، متعدد ہلاکتیں
10/October/2025 👁️ 3270 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ کے انتہائی مطلوب کمانڈر تہران طوری کے حملے میں پولیس افسر ہلاک
15/August/2025 👁️ 2449 بار دیکھا گیاکیا آپ کو معلوم ہے خام تیل کے ایک بیرل سے کتنے لیٹر پٹرول اور ڈیزل بنتا ہے؟
01/February/2019 👁️ 2090 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ نے پولیس افسر قیصر حسین کی ہلاکت کی ذمہ داری قبول کرلی
26/August/2025 👁️ 1897 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C